نئی دہلی// نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑنے آج کہا کہ اہم عہدوں پر فائز کچھ لوگوں کو قومی مفاد کا کوئی علم نہیں ہے ۔
آئینی عہدے پر فائز شخص کا ملک دشمنوں کے ساتھ ملنا قابل مذمت، قابل نفرت اور ناقابل برداشت ہے ۔
آج یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں راجیہ سبھا سکریٹریٹ میں انٹرن شپ کرنے والے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر دھنکڑ نے کہا کہ ہر ہندوستانی کو ملک سے باہر قوم کا سفیر بننا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص ملک دشمنوں کے ساتھ مل کر اس کے بالکل برعکس کام کر رہا ہے ۔ اس سے زیادہ قابل مذمت، قابل نفرت اور ناقابل برداشت کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایسے افراد آزادی کی قدر کو نہیں سمجھتے ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اس ملک کی تہذیب 5000 سال پرانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا دکھ اور تکلیف ہے کہ اہم عہدوں پر فائز کچھ لوگوں کو قومی مفاد کا علم نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک سچا ہندوستانی کبھی بھی دشمنوں کا ساتھ نہیں دے گا۔
نائب صدر نے کہا "مجھے اس بات سے دکھ اور پریشانی ہے کہ اہم عہدوں پر فائز کچھ لوگوں کو ہندوستان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ انہیں نہ تو ہمارے آئین کا کوئی علم ہے اور نہ ہی انہیں قومی مفاد کا کوئی علم ہے ۔”
مسٹر دھنکڑ نے کہا کہ آج جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر دل دہل جاتا ہے ۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اس آزادی کے حصول، اس آزادی کی حفاظت اور اس ملک کی حفاظت میں سب سے زیادہ قربانیاں دی گئی ہیں۔
مسٹر دھنکڑ نے کہا ‘‘ہمارے بھائی اور بہنیں ملک کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار رہتے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹے کھو چکی ہیں، بیویاں اپنے شوہر کھو چکی ہیں۔ ہم اپنی قوم پرستی کا مذاق نہیں اڑا سکتے ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین مقدس ہے ۔ اس کا مسودہ آئین کے بانیوں، دستور ساز اسمبلی کے اراکین نے 18 اجلاسوں میں تین سال کی محنت سے بغیر کسی رکاوٹ کے ، بغیر کسی ہنگامے کے ، بغیر کسی نعرے کے اور بغیر کسی پوسٹر لہرائے تیار کیا تھا۔ یہ بات چیت، بحث، مثبت بحث اور غور و خوض کے موثر طریقہ کار سے ہی ممکن ہوا، ان کے سامنے بہت سے مسائل اختلافی تھے اور اتفاق رائے پیدا کرنا آسان نہیں تھا۔
مسٹر دھنکڑ نے کہا "اور اب، کچھ لوگ ہمارے ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جہالت کی انتہا ہے ۔”










