سرینگر//
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ہریانہ اور جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ملکارجن کھڑگے کے ساتھ جمعرات کو جموں و کشمیر کے پارٹی کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندگی اور ان کی ریاست کا درجہ سب سے اہم چیز ہے۔
راہل نے کہا’’آپ کار کن نہیں ہیں، آپ ایک خاندان ہیں۔ جیسے ہی ہمیں پتہ چلا کہ انتخابات ہونے والے ہیں، ہم نے سب سے پہلے یہاں جموں و کشمیر آنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہم ہر ریاست کے لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہمارے لئے جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی اور ان کی ریاست کا درجہ سب سے اہم چیز ہے‘‘۔
کانگریسی لیڈرنے کہاکہ ہندوستان کی تاریخ میں آزادی کے بعد کئی مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریاستوں میں تبدیل کیا گیا ہے لیکن صرف ایک مثال ہے جب ریاست کا درجہ چھین لیا گیا اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا گیا۔ ’’ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی اہم ہے، یہ ہمارے لئے اہم ہے اور یہ ملک کے لئے اہم ہے‘‘۔
راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ راہول گاندھی کا جموں و کشمیر سے خون سے تعلق ہے اور انہوں نے رائے دہندگان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور شہریوں کی ثقافت اور حقوق کو بچانے کے لئے ان کے ووٹ کی ضرورت ہے۔
کھڑگے نے کہا کہ اگر ہم جموں و کشمیر میں انتخابات جیت جاتے ہیں تو پورا ہندوستان ہمارے کنٹرول میں آ جائے گا۔ ان کاکہنا تھا’’جیسا کہ راہل گاندھی نے کہا، جموں و کشمیر کے ساتھ ان کا رشتہ صرف پسند یا ناپسند تک محدود نہیں ہے۔ ان کا تعلق جموں و کشمیر سے خون سے ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جموں و کشمیر آنے والے انتخابات میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا۔ بی جے پی ہمیشہ فیصلہ کرتی ہے کہ انتخابات کہاں اور کب شروع ہوں گے۔ ان کا سارا غصہ اور مایوسی صرف کانگریس کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ کوئی دوسری پارٹی سخت مقابلہ نہیں دیتی ہے۔ صرف راہل گاندھی ہی لڑنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ہمیں ملک کو بچانے، آپ کی ثقافت اور حقوق کو بچانے کے لئے آپ کے ووٹ کی ضرورت ہے‘‘۔
قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی ملاقات کے ہوٹل کے باہر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ امکان ہے کہ کانگریس نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر کا انتخابات لڑے گی ، حالانکہ باضابطہ اعلان کا انتظار ہے۔ دونوں پارٹیاں جو ہندوستانی بلاک کا حصہ تھیں انہوں نے لوک سبھا انتخابات اتحاد میں لڑے تھے۔
راہل نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر میں انتخابی گٹھ جوڑہوگا لیکن کانگریس کارکنوں اور قائدین کے وقار کی قیمت پر نہیں۔
جمعرات کوسرینگر میں کانگریس کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اتحاد یقینی طور پر ہوگا۔ لیکن کانگریس کارکنوں اور قائدین کے وقار کی قیمت پر اتحاد نہیں ہوگا۔
راہل گاندھی نے سرینگر میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو یقین ہونا چاہئے کہ پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کے مفادات اور احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ انہوں نے اے آئی سی سی سربراہ ملکارجن کھرگے سے ملاقات کی اور پہلے جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا’’ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں اور ان کی نمائندگی اور ریاست کا درجہ ہمارے لئے سب سے اوپر ہے۔ آزادی کے بعد سے کئی ریاستوں کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کیا گیا ہے لیکن جموں و کشمیر پہلی ریاست ہے جسے ریاست ہونے کے باوجود مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کردیا گیا ہے‘‘۔
راہل نے بتایا کہ بدھ کی شام انہوں نے سرینگر میں وازہ وان اور آئس کریم کا ذائقہ چکھا۔ انہوں نے کہا’’میں ایک آئس کریم کی دکان پر کچھ لوگوں سے ملا جہاں کچھ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ کیا میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو پسند کرتا ہوں؟ اس سے مجھے غصہ آیا اور میں نے انہیں جواب دیا کہ میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو پسند نہیں کرتا لیکن میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ میرا پرانا رشتہ ہے‘‘۔
کانگریس لیڈر کاکہنا تھا’’میرا کشمیر کے ساتھ خون کا رشتہ ہے‘‘۔
وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انڈیا بلاک مودی کے اعتماد اور نفسیات کو ہلا دینے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’آپ وزیر اعظم مودی کو اب اپنا سینہ کھولتے نہیں دیکھ سکتے۔ ہمارے نظریے اور طاقت نے ہمارے لئے راہ ہموار کی۔ ہم نے تشدد یا غیر پارلیمانی زبان کا سہارا نہیں لیا بلکہ وزیر اعظم مودی کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ وہ وہ نہیں ہیں جو وہ محسوس کرتے ہیں‘‘۔
جموں کشمیر میں اسمبلی الیکشن سے پہلے گٹھ جوڑ کیلئے کانگریس اور نیشنل کانفرنس میں بات چیت ہو رہی ہے اور اس بات کی امید کی جا رہی ہے دونوں پارٹیوں میں مفاہمت ہو جائیگی۔
اس دوران راہل نے جموں میں کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا کہ بی جے پی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ناگپور سے پورے ملک کو چلانا چاہتی ہے ۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ہم چاہتے ہیں جموں وکشمیر کے لوگ اپنی ریاست کو اسی طرح چلائیں جس طرح وہ چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں سٹیٹ ہڈ کی بحالی ناگزیر ہے اور اس حوالے سے جلدازجلد فیصلہ لیا جانا چاہئے ۔
راہل نے کہا’’جموں کی ایک ثقافت ہے ، یہ ماتا ویشنو دیوی کی سرزمین ہے اور یہاں کے لوگوں کی سوچ اور انداز مختلف ہیں‘‘۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہاکہ ہر ایک ریاست کااپنا ایک الگ اندازہے ، ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام ثقافتوں اور زبانوں کو تحفظ فراہم ہو۔
کانگریسی لیڈر نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بھاجپا ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے ناگپور سے پورے ملک پر راج کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں کے لوگ شکایت کر رہے ہیں کہ یہاں باہر کے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے ۔
راہل نے کہا اگر آپ مہاراشٹریہ جائیں گے تو آپ کو وہاں پر بھی ایسی ہی صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔راہل نے مزید کہا کہ جموں کے لوگوں کے ساتھ ان کا رشتہ پیار اور خاندان کا ہے اور’’میرے دروازے آپ کے لئے ہمیشہ کھلے رہیں گے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی انتخابات کانگریس اور آر ایس ایس کے درمیان نظریات کی جنگ ہے ۔
اتحاد کے بارے میں راہل گاندھی نے کہاکہ کارکنوں کے جذبات و احساسات کو مد نظر رکھتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ساتھ متحدہ طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ لیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں کانگریس ممبران پارلیمان نے پی ایم مودی کا اعتماد ختم کردیا اور یہ سب کے سامنے عیاں ہے ۔انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کے ساتھ ہمارا پرانہ تعلق ہے اور کشمیر کے ساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے ‘‘۔
وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا’’انڈیا بلاک مودی کے اعتماد کو متزلزل کرنے میں کامیاب ہوا۔ہمارے نظریے اور طاقت نے ہمارے لئے راہ ہموار کی ہم نے کبھی غیر پارلیمانی زبان کا سہارا نہیں لیا۔‘‘










