جموں//
جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں ایک ٹیچر کو خفیہ معلومات پھیلانے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر معطل کردیا گیا ہے۔
گریڈ ٹو کے استاد فیاض احمد کے خلاف یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب اس ہفتے کے اوائل میں بھاٹیاس زون میں واقع ان کے دور دراز گورنمنٹ مڈل اسکول ڈرامن کی خستہ حالی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
ٹیچر کو خستہ حال رہائش، نابالغ طالب علموں کی زندگیوں کو لاحق خطرے اور آٹھ کلاسوں کا انتظام کرنے کے لئے ناکافی عملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
چیف ایجوکیشن آفیسر (ڈوڈہ) پرکاش لال تھاپا نے ٹیچر کی معطلی کی تصدیق کی اور کہا کہ محکمہ نے اسکول کی مرمت کیلئے متعلقہ محکمہ سے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) طلب کی ہے۔
تھاپا نے کہا کہ ٹیچر کو جمعہ کے روز معطل کردیا گیا جبکہ اسکول کی عمارت کی فوری مرمت کیلئے پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ سے ڈی پی آر مانگا گیا ہے۔
جمعہ کے روز جاری اس کے معطلی آرڈر میں انہوں نے کہا کہ محکمہ نے وائرل ویڈیو کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے کیونکہ متعلقہ ٹیچر نے احاطے میں غیر مجاز شخص کے داخلے کی مخالفت نہیں کی اور اس کے بجائے خفیہ معلومات پھیلانے کے ساتھ ساتھ ’ڈیجیٹل انڈیا‘، اسکول کی تعلیم کی پالیسیوں اور سروس گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اعلی حکام کے کام کرنے پر تنقید کی‘‘۔
حکم میں کہا گیا ہے کہ ٹیچر سے ۶ جون کو دو دن کے اندر اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنے کو کہا گیا تھا اور اس کا جواب’تسلی بخش نہیں‘ اور’غیر قابل اعتماد‘ پایا گیا ہے۔لہٰذا اس معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک ٹیچر کو فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے اور معطلی کی مدت کے دوران وہ ہائر سیکنڈری اسکول چنٹی سے منسلک رہے گا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہائر سیکنڈری اسکول (گرلز) ٹھاٹھری اور سرتنگل کے پرنسپلوں پر مشتمل دو رکنی کمیٹی معطل ٹیچر کی جانب سے’سرکاری ہدایات کی مبینہ خلاف ورزی‘کی گہری تحقیقات کرے گی اور مخصوص سفارشات کے ساتھ ۲۱ دن کے اندر اپنی رپورٹ اس دفتر کو پیش کرے گی۔
مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ اسکول میں ۱۰۰ سے زیادہ مقامی طالب علم زیر تعلیم ہیں جن کے عملے کی تعداد چار اساتذہ پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک گزشتہ چار سالوں سے اپنے فرائض انجام نہیں دے رہا ہے۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ اسکول کو ایک دہائی قبل مڈل اسکول میں اپ گریڈ کیا گیا تھا اور اس میں کچھ اور کلاس روم شامل کیے گئے تھے لیکن کبھی مکمل نہیں ہوئے ، جس کی وجہ سے انتظامیہ نے بچوں کو پرانی عمارت کے دو کمروں میں ایڈجسٹ کرنا پڑا جس کی طویل عرصے سے مرمت بھی نہیں کی گئی ہے اور طلباء کی زندگیوں کے لئے خطرہ ہے۔
ٹیچر نے کہا کہ انہوں نے زونل ایجوکیشن آفیسر کے ساتھ کئی بار یہ مسئلہ اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹیچر اسکول میں اپنے فرائض انجام نہیں دے رہا ہے جبکہ باقی تین میں سے دوسرا اکاؤنٹس سیکشن کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور ان میں سے صرف دو کلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔










