اخلاقیات اور اصول پسندی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ سیاست اخلاقیات اور اصولوں کی پابند نہیں بلکہ سیاست کا کوئی چہرہ ہے اور نہ رُخ، اس کی حیثیت بے لگام جانور کی سی ہے البتہ سیاست حصول اقتدار اور تحفظ اقتدار کے محور کے حوالہ سے زیادہ حیثیت رکھتی ہے۔ اس حوالہ سے جمہوریت، ہائی برڈ جمہوریت ، غیر فعال جمہوریت وغیرہ ناموں اور القابات سے دُنیا کے ۱۹۰؍ممالک کی جو زمرہ بندی نقشے پر ہے ان ممالک کی سیاست اور سیاست کے حوالہ سے انداز فکر اور طرزعمل کا محض سرسری جائزہ لیاجاتا ہے تو ان ممالک کی سیاست اور جمہوریت کے نام پر طرزعمل جنوبی ایشاء کے اس خطے کے مختلف ممالک سے ہر گز مختلف نہیں البتہ فرق صرف یہ ہے کہ انداز ذرہ الگ الگ ہے۔
سیاست کے ہی تعلق سے عموماًیہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست اور نہ کوئی مستقل دُشمن۔ اس مخصوص تناظرمیں ہندوستان کی سیاست اور سیاسی پارٹیوں کا طرزعمل مستثنیٰ نہیں۔ اپوزیشن پر مشتمل …انڈیا اتحاد کی مثال اس کے تمام تر پہلوئوں کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔ جس اپوزیشن اتحاد کو بلند وبانگ دعوئوں اور ایک دوسرے کیلئے مرنے مارنے اور جینے تک کی قسمیں کھائی جارہی تھی وہی اتحاد اپنے وجود کے محض چند ایک ماہ کے دوران بکھرتا نظرآرہا ہے۔ بس اتحاد کیلئے نتیش کمار کو داعی سمجھا جارہا تھا اُسی کمار نے اتحاد کو طلاق دے کر اُس اتحاد میں اپنی گھر واپسی کا اعلان کردیا جس اتحاد کو اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے وہ چیخ رہے تھے۔ ثابت ہوا کہ حصول اقتدار اور تحفظ اقتدار کیلئے سیاست کا نہ کوئی چہرہ ہے ، نہ کوئی مستقل دوست اور نہ مستقل دُشمن!
اگر سیاست کی بُنیاد یا اس کا کوئی محور کسی اخلاق یا اصول پسندی کا قائل ہوتا تو اس کاحوالہ ضرور کسی نہ کسی صورت میں عوامی نمائندگان سے متعلق مروجہ ایکٹ میں ضرور ملتا ، لیکن یہ ایکٹ ایسی کسی شق یا پابندی سے مستثنیٰ ہے ، یہ ایکٹ خالصتاً سیاستدانوں، سیاسی پارٹیوں، چاہئے وہ اپوزیشن سے تعلق رکھتی ہوں یا اقتدارمیں ہوں کے مفادات اور اہداف کے حصول اور تحفظ کی ہی ضمانت فراہم کررہاہے۔
اس ایکٹ کے تحت اوسط شہری کو صرف اس حد تک حقوق حاصل ہیں اور کسی حد تک ضمانت بھی کہ وہ اپنی منشیا کے مطابق اپنے پسندیدہ اُمیدوار کے حق میں اپنی حق رائے دہی کا ہر پانچ سال کے بعد استعمال کرتا رہے۔ پھر متعلقہ اُمیدوار عوامی منڈیٹ کے ساتھ اپنی کامیابی کا حشر کچھ بھی کرے عوامی نمائندگان سے متعلق ایکٹ کے تحت وہ کسی سزا یا کسی تادیبی کا رروائی کا مستحق نہیں۔ اسی حوالہ سے جس نے اس کوووٹ دے کر اپنا منڈیٹ تفویض کیا ہے ان کو بھی یہ اختیار یا حق حاصل نہیں کہ وہ اس سے جواب طلب کرکے یہ سوال کریں کہ کیوں اُس نے ان کے منڈیٹ کو اپنے ذاتی اور حقیر یا کسی سیاسی مفادات کیلئے استعمال کیا کسی جماعت کے نا م پر ووٹ حاصل کرنے کے بعد کسی اور جماعت کے چرنوں میںسجدہ ریز ہونے کا عمل بھی کسی احتساب یا مواخذہ کا طالب نہیں۔
ملک کے طول وارض میں اس نوعیت کے سیاسی طرزعمل اور دل بدلی کو آیا رام گیا رام کا نام دیاگیا ہے جس کی حیثیت کسی طعنہ یا گالی کی نہیں بلکہ اب سیاسی لغت کا لازم وملزوم سمجھا جارہا ہے۔ اس آیا رام گیا رام کی طرز سیاست کو بہت حد تک پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ ریاستی اسمبلیوں یا پارلیمنٹ کے حوالہ سے ایسے معاملات پر پرزائڈئنگ آفیسروں کا نظریہ ضرورت کے تحت طرزعمل کچھ مختلف نہیں ہوتا۔ عموماً سپیکر کا تعلق حزب اقتدار سے ہی ہوتا ہے لہٰذا اپوزیشن سے جو لوگ نکل کر حزب اقتدار میںپناہ گزین ہوتے ہیں عموماً سپیکر کی رولنگ اور طرفداری انہی کے حق میں ہوتی ہے۔ لہٰذا اس حوالہ سے بھی کسی اخلاقیات یاکسی اصول پسندی کا کوئی عمل دخل نہیںہوتا۔
جموں وکشمیرکے اب تک کے سیاسی منظرنامہ پر سرسری نگاہ دوڑائی جاتی ہے تو یہاں بھی گذرے ۷۵؍برسوں کے دوران سیاسی پارٹیوں کو آیا رام گیا رام ایسے ہلچل مچانے والے معاملات اور واقعات کا سامنا رہاہے۔کچھ سیاسی پارٹیوں سے وابستہ اپنے وقت کے قدآور لیڈروں نے پارٹیوں کے اندر سے ہی بغاوت کا جھنڈا بلند کرکے اپنے کچھ ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ اقتدار پر قبضہ کرلیا، سیاسی مفادات اور باالخصوص ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے پارٹیوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنالیا، آج کی تاریخ میں سیاسی پارٹیوں سے وابستہ بہت سارے چہرے ایسے بھی نظرآرہے ہیں جو ماضی میں کسی دوسری پارٹی سے وابستہ رہ چکے ہیں لیکن اب کوٹ بدل کر دوسری پارٹیوں میں نظرآرہے ہیں اور اپنی سابق پارٹی کو عوام کا استحصال کرنے اور جذباتی نعروں سے گمراہ کرنے کا طعنہ تو دے رہے ہیں لیکن اُس پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر اپنے طرزعمل اور پارٹی کے تئیں اپنے قول وقرار اور عہد بندی کے حوالہ سے اپنی قباء میں جھانکنے کی زحمت گوارانہیں کرتے!
اس نوعیت کا اندازفکر اور طرزعمل سیاست اور سیاست سے وابستہ لوگوں کے دوہرے چہروں کو واضح کررہاہے ۔ لیکن اس دوغلے پن کے باوجود لوگوں کا ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو سب کچھ جاننے، دیکھنے اور سمجھتے ہوئے بھی انہی دوغلے پن چہرے والوں کو اپنے ووٹ کی صورت میں اپنا منڈیٹ تفویض کرتے رہتے ہیں۔ اس عمل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ رائے دہندگان کا ایک مخصوص حلقہ حساس نہیں اور نہ ہی ذمہ دارانہ اندازفکر اور طرزعمل سے کام لے رہا ہے ۔ بس جانکاری ، دوستی، مقامیت یاکسی اور جذبے سے متاثر ہوکر ووٹ پر ٹھپہ لگاکر یہ سمجھ یا فرض کررہاہے کہ ’’میں نے بہت بڑ ا فخریہ کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اب ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہی چاہتا ہے‘‘اگر چہ یہ تصور محض فرضی اور اختراعی ہے۔