نئی دہلی//
مغربی بنگال اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ نے چہارشنبہ کے روز کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا اور ان کی پارٹیاں ٹی ایم سی اور عام آدمی پارٹی متعلقہ ریاستوں میں اکیلے الیکشن لڑیں گی۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے یہ حیران کن اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور کانگریس کے درمیان اہم مشرقی ریاست میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بڑھتی ہوئی کشمکش چل رہی ہے۔ یہ بھی راہل گاندھی کی قیادت والی بھارت جوڈو نیائے یاترا کے مغربی بنگال میں داخلے سے ایک دن پہلے ہوا ہے۔
ممتا نے کہا’’میں نے انہیں (کانگریس کو سیٹوں کی تقسیم پر) ایک تجویز دی تھی لیکن انہوں نے شروع میں ہی اس سے انکار کر دیا۔ ممتا بنرجی نے ضلع ہاوڑہ کے ڈومرجالا ہیلی پیڈ پر نامہ نگاروں سے کہا کہ ہماری پارٹی نے اب بنگال میں اکیلے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیف منسٹر نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگال میں کانگریس کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں رہیں گے۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لئے کل پارٹیاں انڈیا گروپ تشکیل دینے کے لئے متحد ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹی ایم سی نے۲۰۱۹کے لوک سبھا انتخابات کی کارکردگی کی بنیاد پر کانگریس کو صرف دو نشستوں کی پیش کش کی تھی۔ یہ کانگریس کو قابل قبول نہیں تھا جس کی وجہ سے مغربی بنگال میں دونوں پارٹیوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوا جس میں ۴۲ پارلیمانی نشستیں ہیں۔
مغربی بنگال میں سیٹوں کی تقسیم کے معاملے پر ترنمول کانگریس کے ساتھ اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ممتا بنرجی کے بغیر کوئی بھی انڈیا بلاک کے وجود کا تصور نہیں کرسکتا ہے اور ان کی پارٹی اپوزیشن اتحاد کا ایک ’اہم ستون‘ہے۔
’’ہم ممتا جی کے بغیر انڈیا بلاک کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘‘۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے راہول گاندھی کی جاری یاترا کے ایک حصے کے طور پر آسام کے شمالی سلمارا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انڈیا بلاک مغربی بنگال میں لوک سبھا انتخابات لڑے گا اور تمام (شراکت دار) حصہ لیں گے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی کو شکست دینا ہم سب کی ترجیح اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ سیٹوں کی تقسیم پر ٹی ایم سی سربراہ کے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر رمیش نے کہا کہ اسی جذبے کے ساتھ ہماری ’بھارت جوڈو نیائے یاترا‘ کل مغربی بنگال میں داخل ہوگی۔
چندی گڑھ میں پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا کہ ان کی پارٹی ریاست میں کانگریس کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی اور اروند کجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی (اے اے پی) داؤ پر لگی تمام ۱۳ نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔
مان نے پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے موقف کا اعادہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب پارٹی اور کانگریس کے درمیان دہلی ، پنجاب ، ہریانہ ، گوا اور گجرات میں سیٹوں کی تقسیم پر بات چیت چل رہی ہے۔
تاہم عام آدمی پارٹی نے چندی گڑھ کے میئر کے انتخاب کے لئے کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔
کانگریس کے ساتھ اپنی پارٹی کے اتحاد کے بارے میں کابینہ کے اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مان نے کہا کہ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پنجاب ملک میں ہیرو بنے گا اور عام آدمی پارٹی۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات میں ۱۳ بمقابلہ صفرسے جیتے گا۔ پنجاب میں لوک سبھا کی ۱۳ نشستیں ہیں۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ واضح ہے کہ عام آدمی پارٹی کانگریس کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کرے گی، مان نے کہا’’ہم ان (کانگریس) کے ساتھ نہیں جا رہے ہیں۔۲۰۱۹ کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے آٹھ، شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) اور اس کی سابقہ حلیف بی جے پی نے دو، دو اور عام آدمی پارٹی نے ایک نشست جیتی تھی۔‘‘










