اننت ناگ//
ضلع اننت ناگ کے عشمقام علاقہ میں جمعہ کی صبح ایک مقامی نوجوان نے اپنی والدہ سمیت تین لوگوں کا بے دردانہ قتل کیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ نوجوان منشیات کا عادی تھا،جس سے اس کی دماغی حالت بگڑ گئی اور وہ آج اچانک بھڑک اٹھا،جس کے بعد اس نے اپنے اہل خانہ پر حملہ کیا۔لیکن اس کے اہل خانہ کاکہنا ہے کہ وہ پیر فقیروں کے پاس اکثر آیا جا کرتا تھا اور انہی کے زیر اثر تھا۔
حملے میں نوجوان کی والدہ شدید زخمی ہوئی جو دوران علاج چل بسی، وہیں نوجوان کا والد اور کئی افراد خانہ بھی حملے میں زخمی ہو گئے۔
مذکورہ نوجوان یہ واردات انجام دینے کے بعد اپنے گھر سے چلا گیا اور جوبھی مذکوہ نوجوان کے راستے میں آیا ان پر نواجوان نے حملہ کیا۔بتایا جا رہا یے کہ نوجوان کے ہاتھ میں ایک لکڑی کا ایک بڑا ڈنڈا موجود تھا جس سے وہ لوگوں پر وار کر رہا تھا۔نوجوان کے حملے میں کئی لوگ زخمی ہوگئے،جن کو علاج و معالجہ کے لیے ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ دوران علاج زخمیوں میں تین افراد نے دم توڑ دیا جس میں نوجوان کی والدہ بھی شامل ہے۔
متوفین کی شناخت غلام نبی خادم ولد اسد اللہ، حفیظہ بیگم اور محمد امین شاہ ساکنان عشمقام کے بطور ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کی شناخت عبدالرحمان وانی ولد محمد امین وانی، محمد سلطان ولد محمد یوسف ساکنان عشمقام کے بطور ہوئی ہے۔
پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاشوں کو لواحقین کے سپرد کیا گیا ،جس دوران علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی۔پولیس نے ملوث نوجوان کو گرفتار کرکے معاملہ کی تحقیقات شروع کی ہے۔ گرفتار نوجوان کی شناخت کی جاوید حسن راتھر کے طور پر ہوئی ہے۔ وہیں علاقہ میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔
جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ وپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ٹیوٹ کر کے بتایا کہا ’’ عشمقام میں ہونے والے وحشیانہ واقعہ سے خوفزدہ ہے۔ جموں و کشمیر میں مقامی دکانوں میں منشیات اور شراب کی رسائی نے موت اور تباہی کا راستہ شروع کر دیا ہے۔‘‘










