سری نگر؍۶نومبر
کشمیر میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی دریائے جہلم اور اس کے متعدد معاون ندی نالوں میں پانی کی سطح معمول سے کم درج کی گئی ہے۔ طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کے باعث آبی ذخائر میں کمی نے آنے والے مہینوں کے دوران پینے کے پانی کی دستیابی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔
محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ پیمائشی اعداد و شمار کے مطابق بدھ کی صبح ۹ بجے سنگم کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح منفی ۰ء۶۴ فٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ سری نگر کے رام منشی باغ میں یہ سطح ۳ء۸۰ فٹ درج ہوئی۔
شمالی کشمیر کے آشم میں پانی کی سطح ۱.۱۹ فٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ ولر جھیل میں پانی کی سطح ۱۵۷۳ء۸۴ میٹر درج ہوئی۔
دریائے جہلم کے کئی معاون ندی نالوں میں بھی پانی کی سطح کم پائی گئی۔ کھڈونی میں وشو نالے کی سطح ۲ء۴۱ میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ واچی میں رمبی آڑہ نالے میں یہ سطح منفی ۰ء۴۸ میٹر اور بٹکوٹ میں لدر نالے کی سطح منفی ۰ء۵۲ میٹر درج ہوئی۔برزُلہ میں دودھ گنگا کی سطح ۰ء۲۶ میٹر جبکہ دودرہامہ میں سندھ نالے کی سطح منفی ۰ء۲۵ میٹر ریکارڈ کی گئی۔
آزاد ماہر موسمیات فیضان عارف نے کہا کہ پوری وادی میں آبی سطح معمول سے کم ہے اور آنے والے دنوں میں خشک موسم کا ایک اور سلسلہ متوقع ہے۔ ان کے مطابق اگر خشک موسم طویل ہوا تو سردیوں کے دوران پانی کی قلت مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی سطح میں کمی سے پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہونے کے علاوہ بجلی کی پیداوار پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب آبی ذخائر میں مزید کمی واقع ہو۔
فیضان عارف نے بتایا کہ مسلسل خشک موسم کے باعث جنوبی کشمیر میں کئی مقامی قدرتی چشمے بھی خشک ہوگئے ہیں، جس سے دیہی علاقوں میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
دریں اثنا، تحقیقی جریدے ’فرنٹیئرز اِن واٹر‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق، جس کا عنوان ’’کشمیر ہمالیہ میں قدرتی چشموں کی جغرافیائی نقشہ بندی اور افادیت کا جائزہ‘‘ ہے، میں بھی خطے کے آبی تحفظ سے متعلق اہم خدشات اجاگر کیے گئے ہیں۔
تحقیق کے تحت ۲۰۲۱ اور ۲۰۲۲ کے دوران اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں میدانی سروے کرکے ۶۴۹ قدرتی چشموں کی نشاندہی اور نقشہ بندی کی گئی۔ تحقیق میں انکشاف ہوا کہ سروے میں شامل ۷۶ چشمے، یعنی ۱۱ء۷ فیصد، مکمل طور پر خشک ہوچکے تھے، جبکہ ۸ء۵ فیصد چشمے موسمی نوعیت کے اور ۷۹ء۸ فیصد سال بھر جاری رہنے والے پائے گئے۔
تحقیق کے مطابق قدرتی چشموں کے پانی کا سب سے زیادہ استعمال گھریلو ضروریات، جن میں پینے، کھانا پکانے اور دھلائی جیسے کام شامل ہیں، کے لیے کیا جاتا ہے۔
محققین نے یہ بھی بتایا کہ مقامی آبادی گزشتہ پانچ سے دس برسوں کے دوران چشموں سے پانی کے اخراج اور ان کی دستیابی میں مسلسل کمی کی شکایت کرتی رہی ہے۔ تاہم، طویل مدتی آبی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کے باعث ان رجحانات کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔
تحقیق کے نتائج اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ قدرتی چشموں پر انحصار کرنے والی دیہی آبادی کو پانی کی قلت کے حوالے سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، کیونکہ یہ چشمے گھریلو ضروریات کے ساتھ زرعی سرگرمیوں کے لیے بھی پانی کا اہم ذریعہ ہیں۔
ادھر محکمہ موسمیات سری نگر نے ۶ سے ۹ نومبر تک موسم عمومی طور پر خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ ۱۰ سے ۱۳ نومبر کے دوران وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانی بارش اور بالائی علاقوں میں برف باری کا امکان ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کسی مخصوص وقت پر ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہیں موسمی اوسط یا پینے کے پانی کی براہ راست دستیابی کے اعداد و شمار نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
تاہم قدرتی چشموں کے بہاؤ میں کمی، دریاؤں کی نچلی سطح اور مزید خشک موسم کے امکانات نے سردیوں کے آغاز پر کشمیر میں آبی تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش پیدا کردی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









