جموں؍ ۶ نومبر
جموں و کشمیر حکومت نے چنار کے تقریباً ۳۰ ہزار درختوں کی جیو ٹیگنگ مکمل کرکے ان کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا ہے، جس کا مقصد ان تاریخی اور اہم درختوں کے تحفظ، نگرانی اور بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنانا ہے۔
حکام نے یہ جانکاری وزیر جنگلات، ماحولیات و ماحولیاتِ عامہ الطاف احمد وانی کی صدارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران دی۔ اجلاس میں جموں و کشمیر فارسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (جے کے ایف آر آئی) کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
حکام کے مطابق وادی کشمیر میں چنار کے ۱۰ ہزار نمایاں درختوں جبکہ جموں خطے میں پیپل اور برگد کے ساڑھے ۳ ہزار درختوں پر کیو آر کوڈ سے لیس دھاتی تختیاں نصب کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چنار، برگد اور پیپل کے باقی ماندہ درختوں کی جیو ٹیگنگ دوسرے مرحلے میں مکمل کی جائے گی۔
وزیر موصوف نے جنگلات کے تحفظ میں سائنسی تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سائنسی تحقیق تحفظ کی کوششوں کی بنیاد ہے اور اسے صرف دفتری فائلوں اور تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے نتائج جنگلات، کسانوں اور عام لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔
انہوں نے جے کے ایف آر آئی کو ہدایت دی کہ محکمہ جنگلات، کسانوں اور صنعتی شعبے کے ساتھ تال میل کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ تحقیقی نتائج کو مقامی لوگوں کی آمدنی میں اضافے اور جنگلات کے بہتر تحفظ کے لیے بروئے کار لایا جاسکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جے کے ایف آر آئی نے جنگلاتی درختوں کی مختلف اقسام کے بیجوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جموں اور سری نگر میں دو بیج بینک قائم کیے ہیں۔ یہ بیج بیجوں کی پیداوار کے لیے مخصوص علاقوں سے جمع کیے گئے ہیں۔
ادارے نے اہم طبی پودوں، جن میں کوٹھ، تل پشپی، مشک والا، پشکر مول، انگور شفا اور شنگلی منگلی شامل ہیں، کی کاشت کے لیے طریقہ کار بھی وضع کیا ہے۔
اس کے علاوہ جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں طبی پودوں کی فہرست سازی اور نقشہ بندی بھی کی گئی ہے، جبکہ ان پودوں کے نباتاتی ذخیرے کو جے کے ایف آر آئی کی نرسریوں میں پروان چڑھایا جارہا ہے۔
وزیر الطاف احمد وانی نے عوامی شمولیت پر مبنی ترقی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ضلع میں ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد کے دوران متعلقہ رکن اسمبلی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے زمینی حقائق سے زیادہ بہتر طور پر واقف ہوتے ہیں اور ترقیاتی عمل میں ان کی شمولیت سے شفافیت کے ساتھ ساتھ کاموں کی بہتر انجام دہی بھی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









