توسیع کے بعد علاقائی نمائندگی کا توازن کشمیر کے حق میں ۹ میں سے سات وزرا ء کا تعلق وادی سے ‘کانگریس شامل نہیں ہوئی
سرینگر؍۲۷؍اکتوبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو اپنی کابینہ میں چار نئے وزراء کو شامل کیا، جن کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ کابینہ میں توسیع کے بعد جہاں نیشنل کانفرنس کے اندر ناراضگی اور احتجاج سامنے آیا، وہیں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے حکمران اتحاد پر علاقائی اور ثقافتی عدم توازن پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
نیشنل کانفرنس کے چار سینئر رہنماؤں علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی عرف کلو کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے یہاں لوک بھون میں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔
چاروں نئے وزراء کا تعلق وادی کشمیر سے ہونے کے باعث کابینہ میں علاقائی توازن مزید وادی کے حق میں ہوگیا ہے۔ اب نو رکنی کابینہ میں سات وزراء کشمیر جبکہ جموں خطے کی نمائندگی صرف نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور جاوید رانا کر رہے ہیں۔
نئے وزراء کو جگہ دینے کے لیے چھمب کے آزاد رکن اسمبلی ستیش شرما کو کابینہ سے باہر کر دیا گیا۔ کابینہ میں ردوبدل کی راہ ہموار کرنے کے لیے تمام وزراء نے توسیع سے قبل وزیر اعلیٰ کو باضابطہ طور پر اپنے استعفے پیش کیے تھے۔ جموں و کشمیر کی۹۰ رکنی اسمبلی کے دس فیصد کی قانونی حد کے مطابق کابینہ میں زیادہ سے زیادہ نو وزراء شامل کیے جا سکتے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کابینہ میں تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’کابینہ میں بہت اچھی تبدیلی ہوئی ہے۔ وزراء کام کریں گے اور لوگوں کی مشکلات اور مسائل کم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
ادھر کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر عیدگاہ حلقے سے نیشنل کانفرنس کے چھ مرتبہ منتخب ہونے والے رکن اسمبلی مبارک گل کے حامیوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ پارٹی کی نوائے صبح عمارت کے باہر کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور۴۰ برس سے پارٹی کی خدمت کرنے والے رہنما کو نظرانداز کرنے کو بڑی ناانصافی قرار دیا۔
حلف برداری کی تقریب سے قبل مبارک گل نے نام شامل نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا، ’’میں مناسب وقت پر بات کروں گا۔ میں حلف برداری کی۲۰ تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں اور ہر بار مجھے کابینہ سے باہر رکھا گیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس مرتبہ بھی مجھے نظرانداز کیا گیا ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سینئر رہنما اور عیدگاہ کے رکن اسمبلی مبارک گل کو پارٹی کا نیا جنرل سیکریٹری نامزد کیا ہے۔ انہوں نے مبارک گل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
پارٹی کے ایک اور سینئر رہنما عبدالمجید بھٹ لارمی نے بھی کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی، تاہم انہوں نے پارٹی قیادت کے فیصلے سے وفاداری برقرار رکھنے کا عزم دہرایا۔
جذباتی انداز میں بات کرتے ہوئے لارمی نے کہا، ’’آخر ہم بھی انسان ہیں۔ دل کو دکھ پہنچتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ میں آپ سے بات کر رہا ہوں، لیکن اندر سے میرا دل جل رہا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ قیادت کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔
کابینہ میں توسیع پر بی جے پی نے بھی سخت تنقید کی۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر علاقائی تقسیم کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ علاقائی اور ثقافتی عدم توازن دیکھنے کو ملا ہے۔
شرما نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’حکومتوں کو ہر برادری، ہر خطے اور ہر علاقے کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ آج ایسا کہیں نظر نہیں آیا۔‘‘
نئے وزراء میں علی محمد ساگر سات مرتبہ اسمبلی انتخابات جیت چکے ہیں اور۱۹۸۳ میں اپنے سیاسی سفر کے آغاز کے بعد سے کبھی انتخابی شکست سے دوچار نہیں ہوئے۔ انہوں نے اردو میں حلف لیا۔
میر سیف اللہ نے بھی حلف اٹھایا، جبکہ پہلگام سے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے الطاف احمد وانی اور حبہ کدل کی رکن اسمبلی شمیمہ فردوس نے انگریزی میں حلف لیا۔ میر سیف اللہ نے۲۰۲۴ میں حدبندی کے بعد ترہگام حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی۔
شمیمہ فردوس، جو نیشنل کانفرنس کے شعبۂ خواتین کی سربراہ بھی ہیں، کابینہ میں سکینہ ایتو کے بعد دوسری خاتون وزیر بن گئی ہیں۔
حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر، حکمران اتحاد کے سینئر رہنما اور بی جے پی و پی ڈی پی کے حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی موجود تھے۔ کابینہ سے خارج کیے گئے ستیش شرما تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔







