سرینگر؍۲۷؍ اکتوبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو سرینگر کے راج بھون میں اعلیٰ سطحی متحدہ ہیڈکوارٹرز (یو ایچ کیو) اجلاس کی صدارت کی، جس میں جموں و کشمیر کی مجموعی سلامتی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق سنہا نے شری امرناتھ جی یاترا کے پُرامن انعقاد پر فوج، مرکزی مسلح پولیس دستوں (سی اے پی ایف)، جموں و کشمیر پولیس اور خفیہ اداروں کو مبارکباد دی۔
سنہا نے کہا کہ سلامتی سے متعلق اہداف کے حصول کے لیے مختلف اداروں کے درمیان بروقت رابطہ اور باہمی تعاون انتہائی اہم ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’دہشت گردوں کی مالی اور لاجسٹک معاونت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی نافذ کی جانی چاہیے۔ دراندازی کو روکنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے اقدامات مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے باقی ماندہ ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں۔ لوگوں کو گمراہ کرنے اور انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے والے نیٹ ورکس کو بھرپور طریقے سے نشانہ بناکر ختم کیا جانا چاہیے۔‘‘
ایل جی نے حفاظتی دستوں اور جموں و کشمیر پولیس کو ہدایت دی کہ عوام کی آواز سنی جائے، ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے اور اس طرح عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے موسمِ سرما کے دوران پولیس اور دیگر حفاظتی اداروں کی عملی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا اور ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل چوکسی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں جموں و کشمیر پولیس، فوج، مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، خفیہ اداروں اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ چیف سیکریٹری جموں و کشمیر بھی اجلاس میں موجود تھے۔
یہ اجلاس آنے والے موسمِ سرما کی تیاریوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سلامتی کی صورتحال کے مسلسل جائزے کے تناظر میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں حفاظتی دستوں، خفیہ اداروں اور سول انتظامیہ کے سینئر نمائندوں نے سلامتی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور مختلف اداروں کے درمیان باہمی تال میل کو مزید مستحکم بنانے پر توجہ مرکوز کی۔
واضح رہے کہ متحدہ ہیڈکوارٹرز جموں و کشمیر میں سلامتی سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے اور مختلف حفاظتی و انتظامی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)







