گاندربل؍۱۴؍اکتوبر
جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ملک کو ایک شفاف، فعال اور غیر جانب دار الیکشن کمیشن کی ضرورت ہے۔
الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چودھری نے گاندربل میں ماتا کھیر بھوانی مندر کے دورے کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے خدشات کو دبانے کے بجائے ان کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔
چودھری نے کہا، ’’اگر نوجوانوں اور عوام کا خیال ہے کہ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ نوجوان سڑکوں پر ہیں اور گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بے روزگاری کا سامنا ہے، حالانکہ ان کے والدین نے انہیں تعلیم دلانے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’آج بھارت کے نوجوان روزگار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے والدین نے انہیں تعلیم دلانے کے لیے سخت محنت کی، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے باوجود وہ سرکاری یا نجی شعبوں میں ملازمتیں حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘
ووٹوں کی چوری کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے چودھری نے کہا کہ نوجوان انتخابی عمل پر سوالات اٹھا رہے ہیں، لیکن ان کے خدشات کا جواب دینے کے بجائے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سوال کیا، ’’وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں روزگار فراہم نہیں کیا جا رہا اور ان کے ووٹ بھی چوری کیے جا رہے ہیں۔ ان کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ان پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟‘‘
چودھری نے خواتین سمیت نوجوان مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی بھی مذمت کی اور کہا کہ آئین اظہارِ رائے کی آزادی اور پُرامن احتجاج کا حق فراہم کرتا ہے۔چودھری نے کہا، ’’یہ نوجوان ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔ طاقت کا استعمال کرکے ان کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ یہ ظلم ہے اور اس طرح کا ظلم جاری نہیں رہ سکتا۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور پورے ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک آزاد اور غیر جانب دار الیکشن کمیشن ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر ہم جموں و کشمیر اور پورے بھارت میں جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، جسے ہم فخر سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتے ہیں، تو ہمیں ایک شفاف، فعال اور غیر جانب دار الیکشن کمیشن کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘
وقف بورڈ کی جانب سے جمعہ کے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات تجویز کیے جانے کے معاملے پر چودھری نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو کسی مذہبی برادری کے مذہبی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’خواہ ہندو مذہب ہو، اسلام ہو، سکھ مذہب ہو یا عیسائیت، کوئی بھی مذہب کسی سیاسی جماعت کو اپنے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں دیتا۔ مذہب ہمیشہ سیاست سے بالاتر رہا ہے اور اسے ایسا ہی رہنا چاہیے۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’خدا ایک ہے۔ اس کی صورتیں اور عبادت کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی سیاسی جماعت کو کسی مذہب پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔










