اللہ خیر کرے ……. ویسے ان نکموں کے ہوتے کسی خیر کی امید بھی نہیں کی جا سکتی ہے، لیکن پھر بھی اللہ میاں سے دعا ہے کہ خیر کرے اور ان شاء اللہ خیر ہی ہوگا۔صرف اتنا کرنا تھا، لوگوں، کشمیر کے لوگوں کو صرف یہ بتانا تھا کہ کیا جمعرات کو سرکاری تعطیل ہے یا نہیں۔ لوگوں میں کنفیوژن تھا اور یہ کنفیوژن ان کی خود کی ایجاد نہیں تھی، بلکہ اس میں بھی ان نکموں کا ہی ہاتھ تھا ……. کوئی بیرونی ہاتھ نہیں تھا، بالکل بھی نہیں تھا۔جی اے ڈی کی ویب سائٹ پر ۸ اکتوبر کو کشمیر صوبے میں حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ کے عرس کی چھٹی دکھائی گئی تھی ……. اس لیے خبر یہ آئی کہ جمعرات کو وادی کے تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے ……. کچھ دیر بعد ایک ’آرڈر‘ سامنے آیا، جس میں تعلیمی ادارے بند رہنے کے آرڈر کو فیک قرار دیا گیا ……. کنفیوژن، لوگوں میں کنفیوژن بڑھتا گیا اور ……. اور جب یہ عروج پر پہنچ گیا تو ایک اور آرڈر نازل ہوا، جس میں دوسرے آرڈر، جس میں پہلے آرڈر کو فیک قرار دیا گیا تھا، کو بھی فیک قرار دیا گیا۔انتشار اور غیر یقینی صورتِ حال جب انتہا پر پہنچ گئی، جب لوگوں کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ جمعرات کو تعطیل ہے یا نہیں، بچوں کو اسکول جانا ہے یا نہیں، تو تب بھی یہ نکمے اپنی جگہ سے ہلے نہیں، ٹس سے مس نہیں ہوئے ……. پھر نہ جانے کس کی عقل گھاس چرنے کے بعد ٹھکانے آ گئی اور ایک شاہی فرمان جاری کیا گیا، جس میں ۸ اکتوبر کی تعطیل کو ۹ اکتوبر کے حصے میں دینے کی بریکنگ نیوز دی گئی۔اسی لیے تو صاحب ہم کہہ رہے ہیں کہ اللہ خیر کرے۔ ان نکموں نے ایک تعطیل پر ایسی غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی تو یہ کیا خاک آپ اور ہمارے حق میں بڑے بڑے فیصلے لیں گے۔اور یہ بھی سچ ہے کہ انہیں فیصلہ نہیں لینا تھا، بلکہ صرف لوگوں کو فیصلہ سنانا تھا، لوگوں کو بتانا تھا کہ تعطیل ۸ اکتوبر کو ہے یا ۹ کو۔ لیکن ان نکموں سے اتنا بھی نہیں ہوا اور شاید اس لیے نہیں ہوا کیونکہ ……. کیوں کہ ہم ……. ہم یعنی جموں و کشمیر ایک یوٹی ہے، ریاست نہیں ……. یہ ایسے نکمے ہیں کہ یہ اس کنفیوژن کے لیے بھی ریاستی درجہ نہ ہونے کو ذمہ دار قرار دیں گے اور ……. اور اللہ میاں کی قسم، سو فیصد قرار دیں گے۔ہے نا؟



