واشنگٹن، 8 اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو نوبیل امن انعام کے حصول کی اپنی کوشش دوبارہ تیز کرتے ہوئے آٹھ جنگیں ختم کرانے کے اپنے دعوے کو دہرایا اور کہا کہ اگر ناروے کی نوبیل کمیٹی نے انہیں انعام نہیں دیا تو یہ اس کے لیے بڑی بدنامی ہوگی۔
جمعہ کو رواں سال کے نوبیل امن انعام کے اعلان سے قبل اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ”میں نے وہ کام کیے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیے۔ میں شیخی نہیں بگھار رہا، صرف حقائق بتا رہا ہوں۔ شاید کسی صدر نے کبھی کوئی جنگ ختم نہیں کرائی۔ میں نے آٹھ جنگیں ختم کرائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن قائم کرنے کی ان کی کوششیں جاری ہیں اور اشارہ دیا کہ ایک اور تنازع جلد حل ہوسکتا ہے، بظاہر ان کی مراد ایران جنگ سے تھی، جو آٹھویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ان کی شہرت شاید یہ ہے کہ وہ میرے جیسے لوگوں کو انعام نہیں دیتے۔ لیکن مجھے یہ انعام ملے یا نہ ملے، میں نے اس سے کہیں زیادہ کام کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ان کے لیے بہت بڑی بدنامی ہوگی۔
ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہیں عہدہ سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد 2009 میں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اوباما نے کچھ نہیں کیااور اب بھی نہیں جانتے کہ انہیں یہ انعام کس لیے دیا گیا تھا۔
اوباما کو بین الاقوامی سفارت کاری اور تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں، بشمول امریکہ اور مسلم دنیا کے درمیان تعلقات بہتر بنانے، کے اعتراف میں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ سال کے نوبیل امن انعام کی فاتح اور وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں اور اوول آفس میں ملاقات کے دوران یہ انعام انہیں دے دیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا، مجھے بالواسطہ طور پر یہ انعام حاصل کرکے بہت اعزاز محسوس ہوا،اور ماچاڈو کے حوالے سے کہا کہ تاریخ میں کوئی بھی صدر ٹرمپ سے زیادہ اس کا مستحق نہیں ہے۔
ٹرمپ اکثر آٹھ جنگیں ختم کرانے کے اپنے دعوے کو اپنی سفارتی کامیابیوں کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم، ان کی فہرست میں شامل کئی تنازعات میں طویل عرصے تک مسلح لڑائی نہیں ہوئی۔ ایران۔اسرائیل جنگ، جسے وہ اپنی فہرست میں شامل کرتے رہے ہیں، بدستور جاری ہے۔
ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کی کوششوں میں بھی اب تک معمولی پیش رفت کر پائے ہیں، جبکہ غزہ میں جنگ بندی کے باعث لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم اسرائیلی حملے اور شہری ہلاکتیں جاری ہیں۔
ٹرمپ کے امن قائم کرنے کے دعووں کو ان کے مخالفین کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ناقدین نے ایران کے خلاف مکمل فوجی کارروائی شروع کرنے کے ان کے فیصلے کی جانب اشارہ کیا ہے، جبکہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے واشنگٹن کو طویل جنگوں سے دور رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔
واشنگٹن سے ٹیکساس کے شہر سان انتونیو میں انتخابی ریلی کے لیے روانہ ہوتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے پیش رو صدور پر طنز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ براک اوباما، جو بائیڈن اور ہیلری کلنٹن کے خلاف کارروائی کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران جنگ جیتی جاچکی ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ جنگ مکمل طور پرنہیں جیتی گئی۔
ٹرمپ نے کہا، ہمیں جو کچھ کرنا تھا، اس اعتبار سے یہ جنگ جیتی جاچکی ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت ختم کردی ہے اور اس کی فوج ”مکمل طور پر تباہ” کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازع ”بہت جلد” ختم ہوجائے گا اور پیش گوئی کی کہ جنگ ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔







