واشنگٹن، 8 اکتوبر (یو این آئی) پینٹاگون نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے ممکنہ آپشن کے لیے تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، تاہم صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ایکسس نے جمعرات کو امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
رپورٹ کے مطابق یہ ہدایت چند روز قبل جاری کی گئی تھی اور اس میں کسی ممکنہ حملے کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ پینٹاگون کے ایک اہلکار نے ایکسس کو بتایا، محکمے کا کام صدر کے سامنے فوجی آپشنز تیار کرکے پیش کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ کے پاس کسی بھی وقت تمام آپشنز موجود ہیں۔
اہلکار نے کہا، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایرانی معیشت کے تباہ حال ہونے کے باعث امریکہ اس وقت انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ ایران کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے اور اب معاملات دو میں سے کسی ایک طریقے سے آگے بڑھیں گے: آسان طریقے سے یا مشکل طریقے سے۔
ایکسس نے ایرانی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نئی فوجی کارروائیاں 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل اور ممکنہ طور پر اس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل متوقع اسرائیلی انتخابات سے پہلے بھی شروع ہوسکتی ہیں۔
تاہم ایک اسرائیلی اہلکار نے ممکنہ وقت کے بارے میں محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کہا، انتخابات سے پہلے ایسا ہونے کے امکانات زیادہ نہیں ہیں، لیکن ہم اسے خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد اس کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جائیں گے۔
اگر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو ان میں ایران کے توانائی کے شعبے، بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور امریکہ و اسرائیل مشترکہ طور پر کارروائیاں کرسکتے ہیں۔ ‘ایکسس’ کے مطابق ‘دی اٹلانٹک’ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل حملے کے امکان پر غور کررہے ہیں۔
ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم نے جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں کئی گھنٹوں تک جنگ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق اجلاس میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے ممکنہ آپشن پر بھی بات ہوئی۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بعد میں کہا کہ اجلاس میں ”طویل مدتی” خارجہ پالیسی کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ قطری ثالث اب بھی ایران کے جواب کے منتظر ہیں۔ امریکی جوابی تجویز میں ایران سے جوہری پروگرام کے حوالے سے متعدد رعایتوں کے مطالبات شامل ہیں۔
ٹرمپ نے بدھ کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات کی۔ چند ہی دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری گفتگو تھی، جبکہ اس سے قبل کئی ہفتوں تک دونوں کے درمیان رابطہ محدود رہا تھا۔
ٹرمپ نے بدھ کو واشنگٹن سے سان انتونیو میں ریپبلکن پارٹی کی ایک ریلی کے لیے روانہ ہوتے وقت صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنگ ”بہت جلد” ختم ہوجائے گی اور تیل کی قیمتیں ”تیزی سے نیچے آئیں گی”۔
انہوں نے کہا، ”ہمیں ایران کے جوہری ہتھیاروں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ ہم نے ان کی جوہری طاقت ختم کردی ہے۔ اس وقت ان کا پورا ملک تباہ ہوچکا ہے۔”
ایک روز قبل میری لینڈ کے شہر اسپروز پوائنٹ میں ایک نئے شپ یارڈ کے اعلان کے موقع پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی بحری افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمد و رفت کو کنٹرول کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز امریکی بحریہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کا ہے۔”
ٹرمپ نے امریکی بحری موجودگی کو مؤثر ناکہ بندی قرار دیا، تاہم کہا کہ وہ اسے ”فولادی دیوار” کہنا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”کسی نے کبھی ایسی ناکہ بندی نہیں دیکھی، جس میں کوئی جہاز-صفر جہاز-اندر داخل نہ ہوسکے۔”
آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ”کبھی کبھار وہ گزرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اگر جہاز میں تیل ہو تو ہم اس کے کیبن کو نشانہ بناتے ہیں، یا اس کا رُخ موڑنے والا حصہ (رڈر) نشانہ بناتے ہیں۔ اگر اس میں تیل نہ ہو تو ہم جہاز کو غرق کردیتے ہیں۔”
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوج کو بری طرح کمزور کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول، ”ان کے پاس کوئی فوج نہیں ہے۔ وہ ختم ہوچکی ہے؛ پورا ملک تباہ ہوچکا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، ”اب صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اسے کس طریقے سے کرنا چاہتے ہیں، اچھے طریقے سے یا اتنے اچھے طریقے سے نہیں۔ اور بہت جلد آپ کو معلوم ہوجائے گا۔”







