امریکی کوسٹ گارڈ نے کیوبا کے لیے ایندھن لے جانے والے ایک جہاز کو روک کر ضبط کرنے کی کارروائی مکمل کرلی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی۔
امریکی کوسٹ گارڈ (یو ایس سی جی) نے جمعہ کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ اس نے موٹر ویسل گریس (Motor Vessel Grace) کو روکنے کی کارروائی کامیابی سے مکمل کی۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران اس بات کی تصدیق ہوئی کہ جہاز کیوبا کے لیے غیر قانونی طور پر ایندھن منتقل کر رہا تھا۔
یو ایس سی جی کے مطابق جہاز کو ستمبر کے آغاز میں بحیرۂ کیریبین میں روکا گیا تھا۔ کارروائی کے بعد جہاز کو میکسیکو کے سمندری علاقے میں منتقل کیا گیا، جہاں میکسیکو کی بحریہ نے جہاز کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران بیلسٹ ٹینکوں اور متعدد کنٹینروں میں قابل ذکر مقدار میں ایندھن موجود ہونے کی تصدیق ہوئی۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا کہ جہاز کے خلاف کارروائی مختلف امریکی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مربوط کوشش کا حصہ تھی۔ امریکی حکام کے مطابق سمندری راستوں کے ذریعے ایندھن کی غیر قانونی منتقلی اور دیگر خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے نگرانی اور نفاذ کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پریس ریلیز میں امریکی کوسٹ گارڈ نے ’ڈارک فلیٹ‘ کا بھی حوالہ دیا، جس سے مراد ایسے جہازوں کا نیٹ ورک یا بیڑا ہے جو اپنی شناخت، ملکیت یا نقل و حرکت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا سمندری قوانین اور بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یو ایس سی جی کے مطابق وہ ایسے جہازوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے مزید کہا کہ یہ کوشش امریکی حکومت کی پالیسی کے تحت مختلف سرکاری اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سمندری قوانین کی پابندی یقینی بنانے، بغیر کسی ملک کے پرچم والے جہازوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور غیر قانونی ایندھن کی منتقلی کو روکنے کے لیے نفاذی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
کیوبا کو ایندھن کی ترسیل کے معاملے میں یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا خطے میں سمندری نقل و حمل اور ایندھن کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ تاہم، امریکی حکام کی جانب سے جاری بیان میں جہاز کے مالکان، ایندھن کی حتمی مقدار یا اس کارروائی کے نتیجے میں کسی گرفتاری کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔






