سرینگر؍۳۰ستمبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو سنہ۱۹۵۳ سے قبل کی حیثیت اور دفعہ۳۷۰ کی بحالی کے مطالبے سے جوڑ کر اسے ’’سبوتاژ‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے سات روزہ خزاں اجلاس کو جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ’’بدقسمت‘‘ قرار دیا۔
سات روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے شرما نے سوال کیا، ’’آپ کو ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے اس میں سنہ۱۹۵۳ سے قبل کی حیثیت اور دفعہ۳۷۰کی بحالی شامل کرنے کا حق کس نے دیا؟‘‘
شرما نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت کرتی ہے، تاہم وہ اس مطالبے کو۲۰۱۹میں کی گئی آئینی تبدیلیوں سے قبل موجود آئینی انتظامات کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ جوڑنے کی مخالف ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے بی جے پی ارکان کے شدید احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔ بی جے پی ارکان نے قرارداد میں سابقہ خود مختاری اور خصوصی حیثیت سے متعلق قراردادوں کے حوالوں پر اعتراض کیا تھا۔
اپوزیشن لیڈر نے ریاستی حیثیت کی قرارداد کی حمایت کرنے پر کانگریس سے بھی سوال کیا اور اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو قرارداد ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسپیکر سے اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہونے کا بی جے پی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
شرما نے نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ کی سیاسی میراث کا حوالہ دیتے ہوئے سنہ۱۹۵۳ سے قبل کے دور کا ذکر کیا اور اس وقت الگ آئین اور الگ پرچم کے مطالبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ موجودہ ریاستی حیثیت کی بحث میں اس معاملے کو شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










