صنعا، 26 ستمبر (یو این آئی) یمن کی گورننگ باڈی کے سربراہ رشاد العلیمی نے عوام سے مسلح افواج میں شامل ہونے اور ملک کی سلامتی کے لیے متحرک ہونے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے حوثی گروپ سے علیحدگی اختیار کرکے حکومتی افواج میں شامل ہونے والے جنگجوؤں کے لیے عام معافی کا بھی اعلان کیا ہے۔
العلیمی نے جمعہ کو ایک ریکارڈ شدہ خطاب میں کہا کہ وہ ’عظیم یمنی عوام کے بیٹوں‘ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک گیر اور قومی سطح پر متحرک ہوں، مسلح اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں، سرکاری ذرائع سے ان میں شامل ہوں اور اپنی استطاعت کے مطابق اپنا کردار ادا کریں۔
یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین کا یہ پہلا خطاب تھا جب حوثی گروپ نے بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی علاقے میں حکومتی افواج کو پسپا کرتے ہوئے اہم پیش قدمی کی ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی سے اہم باب المندب آبنائے کے قریب بھی صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔
العلیمی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا مقصد دارالحکومت صنعا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے، جس پر حوثیوں نے 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’ملک کے اندر اور باہر سب کے لیے ہمارا مقصد واضح ہے: ریاستی اداروں کو بحال کرنا اور پورے ملک، بشمول صنعا، پر ریاست کی خودمختاری قائم کرنا۔‘‘
العلیمی نے اعلان کیا کہ حوثی گروپ چھوڑ کر حکومتی افواج میں شامل ہونے والے جنگجوؤں کے لیے عام معافی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی، تاہم یہ معافی آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق جاری کی جائے گی۔
العلیمی کا خطاب 1962 میں شمالی یمن کی بادشاہت کا تختہ الٹنے والے فوجی انقلاب کی 64ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا تھا، جس کے بعد ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئی تھی۔
ادھر جمعہ کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے فوجی سربراہان نے حوثیوں کے سعودی عرب پر جاری حملوں کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے ’مکہ معاہدے‘ کے حوالے سے پہلی ملاقات کی۔
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد نے ہفتے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے سعودی شہر خمیس مشیط کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور ریاض کی سمت آنے والے دو ڈرونز کو روک دیا۔







