سرینگر؍۲۶ ستمبر
منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردانہ سرگرمیوں اور ان سے جڑے مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف جاری کارروائی کے تحت سری نگر پولیس نے چار غیر منقولہ جائیدادوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً۷ء۱۱کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ کارروائی منشیات سے متعلق قوانین اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت کی گئی ہے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ سری نگر پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں سے مبینہ طور پر منسلک۷ء۱۱ کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں منسلک کی ہیں۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق تازہ کارروائی میں تھانہ زکورہ نے بلال کالونی، زکورہ میں واقع ایک رہائشی مکان اور اس سے منسلک اراضی کو منسلک کیا ہے، جس کی مالیت تقریباً۲ء۵ کروڑ روپے ہے۔ یہ جائیداد اویس احمد راتھر ولد غلام محمد راتھر کی ملکیت ہے اور ایک ایف آئی آر میں منشیات اور نفسیاتی اثر رکھنے والی اشیا سے متعلق قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
تحقیقات کے دوران اس جائیداد کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ اسے مبینہ طور پر غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔ چنانچہ منشیات سے متعلق قانون کی متعلقہ کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔ حکم کے تحت مجاز اتھارٹی کے آئندہ احکامات تک جائیداد کی فروخت، لیز، منتقلی یا اس میں کسی قسم کی تبدیلی کے علاوہ کسی تیسرے فریق کا حق پیدا کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سے قبل تھانہ نوگام نے واگورہ، بی کے پورہ کے رہائشی شیراز احمد شیخ ولد نذیر احمد شیخ کی تقریباً۲ء۸۵کروڑ روپے مالیت کی جائیداد منسلک کی تھی۔مذکورہ جائیداد میں۱۸ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ کنکریٹ عمارت، دو دکانیں اور ایک رائس مل شامل ہے۔
ایک اور کارروائی میں تھانہ احمد نگر نے حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں واقع تقریباً۱ء۳۰کروڑ روپے مالیت کی رہائشی جائیداد منسلک کی۔ یہ جائیداد ظہور احمد میر ولد عبدالغنی میر کی ملکیت ہے۔
جائیداد میں چھ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان شامل ہے۔ مجاز اتھارٹی سے پیشگی منظوری حاصل کرنے اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد یو اے (پی) ایکٹ کی دفعہ۲۵ کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔ کارروائی فرسٹ کلاس ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں انجام دی گئی۔
مزید برآں، تھانہ شالٹینگ نے چیک مجگنڈ، سری نگر میں واقع ایک منزلہ رہائشی مکان اور سات مرلہ اراضی کو منجمد کردیا۔ اس جائیداد کی مالیت تقریباً۴۶ لاکھ روپے ہے اور یہ عامر احمد میر ولد محمد اشرف میر کی ملکیت ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آنے کے بعد کہ مذکورہ جائیداد مبینہ طور پر غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی۔
سری نگر پولیس کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً۷ء۱۱ کروڑ روپے مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں منسلک یا منجمد کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں سے مبینہ طور پر جڑے مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ہے۔
سری نگر پولیس نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائی گئی جائیدادوں کی شناخت، سراغ لگانے، انہیں منجمد اور منسلک کرنے کا عمل جاری رہے گا، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کو ختم کیا جاسکے۔
پولیس نے کہا، ’’منشیات فروشوں، دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے معاونین اور مالی معاونت کے ڈھانچوں کے خلاف مضبوط، قانونی اور مسلسل کارروائی جاری رہے گی۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










