نیویارک، 23 ستمبر (یو این آئی) ایران نے بدھ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’اسلامی جمہوریہ ایران کو مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’مکمل طور پر غیر قانونی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کو فوجی کارروائی کی دھمکی دینے کے لیے استعمال کرنا واشنگٹن کی جانب سے بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کا اعتراف ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے ٹرمپ کے خطاب کو بھی ’’بار بار دہرائے گئے دعووں اور الزامات‘‘ کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات اختیار کے بجائے ’’مایوسی‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔
بقائی نے اعلیٰ سطحی سفارتی ہفتے کے پہلے روز کے بعد ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ان میں سے ایک نکتہ امریکی صدر کی تقریر تھی۔ یہ بات اس لیے قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے بیانات دہرائے گئے دعوے اور الزامات تھے، اور یہاں بھی بہت سے ممالک کے سفارت کاروں اور وفود کا حقیقی تاثر یہی تھا کہ یہ بیانات اختیار کے نہیں بلکہ مایوسی کے اظہار تھے۔‘‘
ان کا یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر نے تہران کو ایک سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے سامنے یا تو ایسا معاہدہ کرنے کا راستہ ہے جس سے وہ دوبارہ تعمیر نو کرسکے، یا پھر اسے تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوگا جو اسے دوبارہ تعمیر ہونے اور اس سے کہیں زیادہ بڑا ملک بننے کی اجازت دے گا؟ یا میں اسلامی جمہوریہ کو مکمل طور پر تباہ کردوں اور یہ کام تیزی سے کروں؟‘‘
بقائی نے اس دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے ٹرمپ پر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے سب سے بڑے سفارتی فورم کو کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، جو سب سے بڑی بین الاقوامی اسمبلی ہے، کو ایسے بیانات دینے کا اسٹیج بنانا جو مکمل طور پر غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون اور سفارتی روایات کے خلاف ہوں، اختیار کی علامت نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’کسی ملک کو فوجی حملے کی دھمکی دینا، یہ سب موجودہ امریکی حکمران ادارے کی نوعیت کا اعتراف اور بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کا اعتراف ہے۔‘‘
دوسری جانب ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دیگر ممالک سے تہران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے میں واشنگٹن کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے کہا، ’’میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایران کی مکمل اقتصادی تنہائی نافذ کرنے میں ہمارا ساتھ دیں، جب تک وہ تجارتی بحری جہازوں پر اپنے حملے بند نہیں کرتا، اپنی جوہری عزائم سے دستبردار نہیں ہوتا اور دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا۔‘‘
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ امریکی فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جن میں بحریہ، فضائیہ، رڈار نظام، فضائی دفاعی آلات اور میزائل و ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت شامل ہیں۔
بقائی نے اس سوال کا بھی جواب دیا کہ ٹرمپ کی تقریر کے دوران ایرانی وفد نے جنرل اسمبلی کا اجلاس مکمل طور پر چھوڑ کیوں نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سفارتی سطح پر ایران کی نمائندگی کی، جبکہ ایران کے اقوام متحدہ مشن کا ایک سفارت کار کارروائی کی پیروی کے لیے اجلاس ہال میں موجود رہا۔
بقائی نے کہا، ’’اس بارے میں بات ہوئی ہے کہ ایرانی وفد مکمل طور پر اجلاس سے باہر کیوں نہیں گیا۔ سفارت کاروں کے لیے ایران کی نشست مقدس ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اقوام متحدہ جنرل اسمبلی جیسے مقام پر ایران کی نشست ہمارا مضبوط مورچہ ہے، اور یقیناً اگر دوسروں کی سخت اور نامناسب باتوں کی وجہ سے ہم اس مورچے کو چھوڑ دیتے تو ہم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پاتے۔‘‘





