سرینگر؍۲۲ ستمبر
جموں و کشمیر حکومت نے منگل کے روز قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت۵۱ ہزار کینسر کے مریض ہیں۔
یہ بات وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے رکن اسمبلی سیف اللہ میر کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔
حکومت نے ایوان کو بتایا کہ دنیا بھر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی کینسر کے واقعات میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ معدے اور آنتوں، پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر کے مریض رپورٹ ہونے والے کینسر کے ایک نمایاں حصے پر مشتمل ہیں۔
حکومت ایوان میں جموں و کشمیر میں کینسر اسپتال کے قیام سے متعلق سوالات کا جواب دے رہی تھی۔
وزیر نے ایوان کو بتایا، ’’جموں و کشمیر میں کینسر کے بڑھتے ہوئے واقعات عالمی رجحان کے مطابق ہیں۔ اس بیماری کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے حکومتی ردعمل کو مزید مضبوط بنانے کی غرض سے حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو کینسر سے بچاؤ، اسکریننگ اور علاج کے لیے اقدامات کی رہنمائی اور ان کی تشکیل کرے گی۔‘‘
ایوان کو بتایا گیا کہ ڈائریکٹر ایس کے آئی ایم ایس کو اس مقصد کے لیے نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مکمل کینسر اسپتال قائم کرنے کی تجویز کے بارے میں حکومت نے بتایا کہ دو ریاستی کینسر ادارے پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں۔ ان میں ایک ایس کے آئی ایم ایس، صورہ میں جبکہ دوسرا گورنمنٹ میڈیکل کالج، جموں میں قائم ہے۔
وزیر نے ایوان کو بتایا کہ یہ ادارے مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے قومی پروگرام برائے روک تھام و کنٹرول غیر متعدی امراض (NP-NCD) کے تحت مالی اور تکنیکی معاونت سے قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان اداروں کا مقصد کینسر کے مریضوں کو تشخیص، علاج اور سرطان سے متعلق دیگر طبی خدمات سمیت جامع اور خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
حکومت نے کہا کہ موجودہ طبی سہولیات کو وقتاً فوقتاً بنیادی ڈھانچے، آلات، افرادی قوت اور خصوصی علاج کی خدمات کے لحاظ سے مضبوط بنایا جا رہا ہے، تاہم یہ عمل منظور شدہ ضوابط اور دستیاب وسائل کے تابع ہے۔
اقتصادی طور پر کمزور طبقات کو مفت ادویات اور علاج فراہم کرنے کے بارے میں حکومت نے کہا کہ وہ بالخصوص کمزور طبقات کے لیے قابلِ رسائی، سستی اور معیاری کینسر نگہداشت یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیر نے کہا، ’’اہل کینسر مریضوں کو آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت مقررہ اہلیت کے معیار، علاج کے منظور شدہ پیکیجز اور رہنما اصولوں کے مطابق متعلقہ فہرست میں شامل سرکاری اور نجی صحت اداروں میں نقدی کے بغیر اور مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘
حکومت نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت منظور شدہ پیکیجز میں شامل تشخیصی، علاج معالجے اور اسپتال میں داخلے سے متعلق خدمات بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ، ایسے غریب اور ضرورت مند کینسر مریض جنہیں مالی امداد درکار ہو، انہیں کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ مینجمنٹ فنڈ فار پور اسکیم کے تحت بھی مقررہ اہلیت کے معیار، متعلقہ رہنما اصولوں اور دستیاب فنڈز کی بنیاد پر مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ ’’ان اقدامات کا مقصد کینسر کے مناسب علاج تک بروقت رسائی کو یقینی بنانا اور اہل مریضوں اور ان کے اہل خانہ پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










