بجلی نرخوں میں اضافے سے سرکاری خزانے کو۲۵۰کروڑ روپے کی اضافی آمدنی متوقع‘حکومت کا اسمبلی میں انکشاف
سرینگر؍۲۲ ستمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ جموں و کشمیر حکومت بجلی صارفین کے لیے معافی اسکیم (ایمنسٹی اسکیم) کو دوبارہ نافذ کرنے یا اس میں توسیع کے معاملے کا میرٹ کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بجلی کے بقایاجات کی بار بار معافی ان صارفین کے ساتھ ناانصافی ہوگی جو اپنے بل بروقت ادا کرتے ہیں۔
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کے صارفین کے لیے ایمنسٹی اسکیم کی بحالی یا توسیع سے متعلق معاملہ محکمہ کی جانب سے میرٹ کی بنیاد پر زیر غور ہے۔ عمر عبداللہ کے پاس محکمہ بجلی کا قلم دان بھی ہے۔
سوال میں ایمنسٹی اسکیم میں مجوزہ توسیع سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بار بار معافی کی اسکیمیں شروع کرنے سے بروقت بجلی کے بل ادا کرنے کے رجحان پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم حکومت خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد اور دیگر مستحق صارفین کو کیس ٹو کیس بنیاد پر ریلیف دینے کے امکان پر غور کر سکتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’بار بار معافی دینا ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو اپنے بل وقت پر ادا کرتے ہیں۔ اس سے صارفین کو یہ ترغیب بھی ملتی ہے کہ وہ بروقت بل ادا نہ کریں اور اگلی معافی اسکیم کا انتظار کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے تاہم کہا کہ معاشرے کے غریب اور مستحق طبقات کے لیے ایمنسٹی پر غور کیا جا سکتا ہے اور ایسے معاملات کا میرٹ کی بنیاد پر انفرادی جائزہ لیا جائے گا۔
اس دوران جموں و کشمیر میں حالیہ بجلی نرخوں میں اضافے سے سرکاری خزانے کو۲۵۰ کروڑ روپے سے زائد کی اضافی آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات منگل کے روز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بتائی گئی۔
ہندوارہ کے رکن اسمبلی سجاد لون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے بتایا کہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) کی جانب سے مالی سال۲۰۲۶۔۲۷ کے لیے منظور کردہ بجلی نرخوں میں نظرثانی کے نتیجے میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکامز) کو تقریباً۲۵۱ کروڑ روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔
تاہم حکومت نے بتایا کہ بجلی نرخوں میں اس معمولی اضافے کے باوجود اسے ڈسکامز کی بجلی خریدنے کی لاگت پوری کرنے کیلئے۴۵۰۰ کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی برداشت کرنا ہوگی۔
جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ یکم ستمبر سے نافذ کیا گیا ہے۔
سجاد لون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت نے شاید صارفین کو۲۰۰ یونٹ مفت بجلی فراہم نہیں کی، لیکن اس نے آج میرے سوال کے جواب میں تسلیم کیا ہے کہ حالیہ بجلی نرخوں میں اضافے کے باعث صارفین سے۲۵۱کروڑ روپے وصول کیے جائیں گے۔ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اکتوبر۲۰۲۴ سے شروع ہونے والے اس کے دورِ حکومت میں۱۱ لاکھ اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے ہیں۔‘‘
انتودیا انا یوجنا (اے اے وائی) کے تحت اہل خاندانوں کو۲۰۰ یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے بارے میں حکومت نے کہا کہ وہ اس وعدے پر کاربند ہے۔
سجاد لون کے سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے کہا، ’’اے اے وائی کے اہل خاندانوں کو۲۰۰ یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے عزم پر پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت قابلِ تجدید توانائی سروس کمپنی (ریسکو) کی بنیاد پر چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام نصب کرنے کی اسکیم کے ذریعے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔‘‘
حکومت نے بتایا کہ یہ اسکیم زیرِ عمل ہے اور ٹینڈر کے عمل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکومت کے مطابق کامیاب بولی دہندہ کو ٹھیکہ دیے جانے کے بعد اسکیم پر عمل درآمد شروع ہوگا۔ اس کے بعد اہل خاندان چھتوں پر۲ کلو واٹ کے شمسی نظام کی تنصیب اور کمیشننگ مکمل ہونے پر۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کی سہولت سے مستفید ہونا شروع ہوجائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









