سرینگر؍۲۲ ستمبر
جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیم محکمہ نے کالجوں اور لائبریریوں کی الماریوں سے۴۲۰۰ سے زائد ’قابلِ اعتراض‘ قرار دی گئی کتابیں ہٹا دی ہیں۔
حکومت نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ اب تک۴۲۴۹کتابوں کو زیرِ گردش سے نکال دیا گیا ہے، جن میں کشمیر ڈویژن سے۳۹۹۶ جبکہ جموں ڈویژن سے۲۵۳کتابیں شامل ہیں۔ یہ تعداد پہلے سے ممنوع قرار دی گئی کتابوں کے علاوہ ہے۔
حکومت نے مزید بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر۲۱لاکھ۸۱ہزار۵۸۲کتابوں اور مطبوعات کی جانچ پڑتال کی جا چکی ہے۔ ان میں جموں میں۹لاکھ۳۲ہزار۹۴۱جبکہ کشمیر میں۱۲لاکھ۴۸ہزار۶۴۱کتابیں اور مطبوعات شامل ہیں۔
ایوان کو بتایا گیا کہ ایس او۲۰۳ مورخہ۵؍ اگست۲۰۲۵ کے تحت باضابطہ طور پر ممنوع قرار دی گئی۱۹ عنوانات کی۵۱۸نقول بھی لائبریریوں سے ہٹا دی گئی ہیں۔
حکومت نے کہا کہ قابلِ اعتراض کتابوں اور دیگر ایسے مواد کی جانچ کا عمل اب بھی محکمہ میں جاری ہے اور یہ ایک محنت طلب عمل ہونے کے باعث مزید وقت لے سکتا ہے۔
حکومت کے مطابق اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی برتری کے مراکز ہونے کے ساتھ ایسے ماحول کو فروغ دیں جو آئینی اقدار، علمی آزادی، تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج، ذمہ دارانہ شہریت اور ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کے احترام کو برقرار رکھے۔
ایوان کو مزید بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیم محکمہ نے مقررہ ہدایات کے تحت کالجوں میں دستیاب کتابوں کی جانچ اور قابلِ اعتراض مواد کی نشاندہی کے لیے واضح اور معروضی معیار اختیار کیا ہے۔
اس دوران عوامی اتحاد پارٹی کے سینئر رہنما اور لنگیٹ کے رکن اسمبلی شیخ خورشید نے پارٹی کے ریاستی سیکریٹری شیخ عاشق کے ہمراہ اعلیٰ تعلیم محکمہ کے تحت کالجوں اور دیگر اداروں کی لائبریریوں سے ہزاروں کتابیں ہٹائے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ان کی جانب سے ستارہ شدہ سوال کے ذریعے طلب کی گئی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ خورشید نے کہا کہ انہوں نے جاری اسمبلی اجلاس میں ایک ستارہ شدہ سوال جمع کرایا تھا، جس میں جموں و کشمیر کے کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی لائبریریوں سے ممنوع قرار دی گئی یا ہٹائی گئی کتابوں کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
خورشید نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ ستارہ شدہ سوال ایوان میں اس انداز سے زیرِ بحث آئے گا کہ انہیں ضمنی سوالات کرنے کا موقع ملے گا، تاہم ان کا الزام ہے کہ سوال کو جان بوجھ کر مؤخر رکھا گیا، جس کے نتیجے میں وہ حکومت سے مزید وضاحت طلب نہیں کرسکے۔
ممبر اسمبلی نے حکومت سے موصول جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً۶۵۱۹کتابیں ہٹائی گئی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق حکومت نے ان کتابوں کے عنوانات، مصنفین کے نام، موضوعات اور ناشرین سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ان بنیادی معلومات کی عدم فراہمی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتابیں کس بنیاد پر ہٹائی گئیں اور آیا اس عمل کے جموں و کشمیر کی تاریخ، ادب اور علمی ریکارڈ کے تحفظ پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے۔
شیخ خورشید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ تعلیم محکمہ کے تحت کالجوں اور لائبریریوں سے ہٹائی گئی تمام کتابوں کی مکمل فہرست جاری کی جائے، جس میں ہر کتاب کا عنوان، مصنف، موضوع اور ناشر بھی درج ہو۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ جب اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع ہوگا تو ہم ایک بار پھر حکومت سے ان کتابوں کی مکمل فہرست فراہم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔‘‘
شیخ خورشید نے منتخب حکومت کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ کتابیں ہٹانے کی منظوری کس نے دی اور یہ فیصلے کس پالیسی یا معیار کے تحت کیے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










