دو کتابیں جاری ‘ فنکاروں و ادیبوں کیلئے فلاحی اسکیم شروع تہذیبی یادداشت کی بحالی اور ثقافت کے محافظوں کو عزت دینے پر زور؛
جموں؍۱۹ستمبر
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو جموں میں آچاریہ ابھینوگپت کے مجسمے کی نقاب کشائی، جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے نئے لوگو کی رونمائی، دو کتابوں کی اشاعت اور فنکاروں و ادیبوں کے لیے فلاحی اسکیم کا افتتاح کیا۔
سنہا نے اس موقع کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ثقافتی احیا اور تہذیبی شعور کی بیداری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
فنکاروں اور ادیبوں کے لیے فلاحی اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اسکیم ۲۰۲۱۔۲۲ میں وضع کی گئی تھی اور اگست۲۰۲۴ میں اسے باضابطہ شکل دی گئی۔ ان کے مطابق یہ اسکیم ان افراد کے لیے معاشرے کی جانب سے اظہار تشکر ہے جو کہانیوں، گیتوں اور روایتی ورثے کے ذریعے اجتماعی یادداشت کو محفوظ رکھتے ہیں۔
سنہا نے کہا کہ فنکار اور ادیب محض تخلیق کار نہیں بلکہ معاشرے کی اجتماعی یادداشت کے نگہبان بھی ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کی قیمتی ثقافت کو الفاظ دیے، معاشرے کے جذبات کو آواز دی اور اس خطے کے ورثے کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھائی۔
ایل جی نے آچاریہ ابھینوگپت کو فلسفی، روحانی مفکر، شاعر اور جمالیات کے ماہر کے طور پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر شیو مت اور پرتھیابیجنا فلسفے میں ان کی گراں قدر خدمات صدیوں تک محدود علمی حلقوں تک ہی محدود رہیں۔ انہوں نے اسے محض علمی نظراندازی قرار دینے کے بجائے تہذیبی یادداشت کو پہنچنے والا نقصان قرار دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اب تاریخی غفلتوں کی اصلاح کا وقت آ گیا ہے اور یہ کام سچائی کے تئیں عزم کے ساتھ کیا جانا چاہیے، کیونکہ نئی نسل کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اسے ورثے میں ملنے والی تہذیب کی فکری گہرائی کتنی وسیع، کتنی قدیم اور عالمی برادری سے کتنی مربوط ہے۔
آچاریہ ابھینوگپت کی اہم تصنیف تَنترالوک اور ان کے نظریۂ رس کا حوالہ دیتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ فن باطنی بیداری کی جانب ایک دروازے کا کام کرتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی تصورِ فن کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں فن، زندگی اور سچائی کی تلاش کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھا جاتا۔
اس موقع پر ڈاکٹر ویدھی تمن کی کتاب ’’ابھینوگپت: دی وائس آف اٹرنل شِوا‘‘ اور اکریتی شرما کی کتاب ’’رگھوناتھ ٹیمپل، چنی پرٹ: ہِڈن ہیریٹیج آف سندربنی‘‘ بھی جاری کی گئیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے دونوں کتابوں کو جموں و کشمیر کے ورثے کو ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی شعور سے جوڑنے کی اہم کاوش قرار دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سندربنی کے چنی پرٹ میں واقع رگھوناتھ مندر، جس کی تعمیر مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور میں شروع ہوئی اور مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دور میں مکمل ہوئی، جموں و کشمیر کے مالا مال مادی ثقافتی ورثے کی ایک مثال ہے۔
سنہا نے کہا کہ نئی نسل کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے آباؤ اجداد نے اپنی دانائی، سوالات، تجربات اور سچائی کی مسلسل تلاش کے ذریعے اس تہذیب کی تعمیر کی۔ ان کے مطابق اس علم کو فراموش ہونے سے بچانا، اسے سمجھنا، اس کا احترام کرنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے یونیورسٹیوں، اسکولوں اور ثقافتی اداروں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو آچاریہ ابھینوگپت جیسے مفکرین سے روشناس کرائیں اور ان کی تعلیمات کو شعور اور تخلیق کے موجودہ سوالات سے جوڑیں۔ انہوں نے اس شعبے میں تحقیق اور اشاعت کے لیے نجی اور ادارہ جاتی تعاون میں اضافے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ڈاکٹر ویدھی تمن اور اکریتی شرما جیسے مصنفین تحقیق، مطالعے اور تشریح کے ذریعے قدیم ورثے، علم اور جدید فہم کے درمیان پل قائم کر رہے ہیں، اس لیے ایسی کوششوں کو محض سراہنے کے بجائے فعال حوصلہ افزائی اور ادارہ جاتی تعاون بھی فراہم کیا جانا چاہیے۔
سنہا نے امید ظاہر کی کہ دونوں کتابیں ملک بھر کے قارئین تک پہنچیں گی اور جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز خطے میں ثقافتی احیا کے عمل کو مزید آگے بڑھائے گی۔انہوں نے کہا کہ تاریخی حقائق کو اعتماد کے ساتھ درست تناظر میں پیش کرنے اور اپنے آباؤ اجداد کی طرح تجسس اور دیانت دارانہ علمی تحقیق کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
تقریب میں جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، محکمہ ثقافت کے پرنسپل سیکریٹری برج موہن شرما، جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو کے ڈائریکٹر شکتی کمار پاٹھک، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، آئی جی پی جموں تیجندر سنگھ، ڈپٹی کمشنر جموں ڈاکٹر راکیش منہاس، آئی جی این سی اے کی ریجنل ڈائریکٹر شروتی اوستھی، جے کے اے اے سی ایل کی سیکریٹری ہرویندر کور، ممتاز ادبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معزز شہری بھی موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)









