جمعرات, نومبر 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

قائد حزبِ اختلاف کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ

’اگر حکومت مسائل حل نہیں کر سکتی تو موجودہ نظام کو جاری کیوں رکھنا‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-20
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
وزیر اعلیٰ حکومت کو  وفاداری کی پریڈوں تک   محدود کر رہے ہیں: شرما
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سری نگر؍۱۹ ستمبر

                بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما نے ہفتے کے روز جموں و کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے برقرار رہنے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل نہیں کرسکتی تو موجودہ انتظام کو جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔

                سری نگر میں ایک عوامی رابطہ پروگرام کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد لوگوں کی شکایات اور مسائل سننا تھا اور یہ کوئی سیاسی یا جماعتی اجلاس نہیں تھا۔

متعلقہ

آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس سے ’آزاد‘

 روح اللہ کی علیحدگی کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان:قرہ

                شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات اور بے روزگاری سمیت مختلف مسائل کے باعث الجھن اور مایوسی کا شکار ہیں، جبکہ ان کے مطابق حکومت بار بار ریاستی حیثیت نہ ہونے کو رکاوٹ قرار دیتی ہے۔

                بی جے پی لیڈرنے کہا، ’’جہاں پائپ بچھانے کی ضرورت تھی، جہاں کھمبے اور تار لگانے تھے، جہاں اسکولوں میں عملہ درکار تھا، جہاں اسپتالوں میں ڈاکٹر اور نیم طبی عملہ چاہیے تھا، جہاں سڑکوں کے گڑھے بھرنے تھے، ہمیں ہر مسئلے کے جواب میں صرف ایک ہی بات سننے کو ملی کہ ریاستی حیثیت نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہر مسئلے کو ریاستی حیثیت کی عدم موجودگی سے جوڑا جارہا ہے تو پھر موجودہ نظام اور حکومت کو جاری رکھنے کا جواز کیا ہے۔

                شرما نے کہا، ’’اگر دو سال کے اختتام پر ہم یہ کہیں کہ کھمبے، تار اور پائپ لگانے کے لیے ریاستی حیثیت چاہیے، عملہ فراہم کرنے کے لیے ریاستی حیثیت چاہیے اور ہر مسئلے کا جواب دینے کے لیے ریاستی حیثیت ضروری ہے، تو پھر ہم حکومت میں کیوں ہیں؟ ہم اسمبلی میں کیوں ہیں؟‘‘

                قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت کو اسمبلی تحلیل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

                شرما نے کہا، ’’اور یہ ممکن ہے، میں کوئی قانونی ماہر نہیں ہوں، کہ جب ریاستی حیثیت بحال ہوگی تو نیا آئینی انتظام وجود میں آئے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دوبارہ انتخابات کرانے پڑیں۔ تو کیا ہمیں عوام کو یہ جواب دینے پر مجبور ہونا چاہیے کہ ہم انتخابات تک محض موجود رہیں گے، یا ہمیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہمیں کچھ کام بھی کرنا ہے؟‘‘

                بی جے پہ لیڈر نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ بی جے پی کا قانون ساز گروپ عوام اور حکومتِ ہند کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے گا، بالخصوص ان معاملات میں جن میں مرکز کی مداخلت درکار ہے۔

                شرمانے کہا کہ اپوزیشن آئندہ اسمبلی اجلاس کے دوران عوامی شکایات کو اٹھائے گی، بالخصوص بے روزگاری اور عارضی و آؤٹ سورس ملازمین سے متعلق مسائل کو۔

                حکومت کی جانب سے ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے الزام عائد کیا کہ مستقل روزگار پیدا کرنے کے بجائے مختلف زمروں میں ملازمین کو آؤٹ سورسنگ کے ذریعے تعینات کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف محکموں اور اسکیموں سے وابستہ ملازمین، جن میں قومی صحت مشن، گرام روزگار سہولت کار، تکنیکی معاونین اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد شامل ہیں، مستقل کرنے کی درخواست لے کر ان سے رجوع کرچکے ہیں۔

                شرما نے حکومت پر یہ تنقید بھی کی کہ وہ بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’جب حکومت تمام مراعات بھی حاصل کرے اور اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرے تو یہ عوام کے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔‘‘

                اپنے سابقہ بیان میں ’’متوازی حکومت‘‘ قائم کرنے کے ذکر کی وضاحت کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ ان کا مطلب وزیر اعلیٰ کے اختیارات سنبھالنا نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اس اصطلاح سے مراد اپوزیشن کا براہِ راست عوام سے رابطہ کرکے ان کے مسائل اٹھانا تھا۔

                قائد حزب اختلاف نے حکومت کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی پر زور دینے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ روزمرہ کے بہت سے مسائل ان اختیارات کے تحت بھی حل کیے جاسکتے ہیں جو اس وقت انتظامیہ کے پاس موجود ہیں۔

                شرما نے کہا کہ بی جے پی عوامی رابطہ پروگرام کے دوران سامنے آنے والے مسائل کو آئندہ اسمبلی اجلاس میں اٹھائے گی اور حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس مشق کا مقصد عوام کے مسائل سننا اور انہیں حل کے لیے متعلقہ حکام تک پہنچانا ہے۔ (ایجنسیاں)

۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وزیراعلیٰ کی ’وکست بھارت‘ مالیاتی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں شرکت

Next Post

’فن انسان کے اندرونی شعور کی بیداری کا دروازہ کھولتا ہے‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس سے ’آزاد‘
اہم ترین

آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس سے ’آزاد‘

2026-11-04
آزادپارٹی کے نظریے کے بجائے ذاتی اختلافات کی بنیادوں پر مستعفی ہوئے:قرہ
اہم ترین

 روح اللہ کی علیحدگی کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان:قرہ

2026-11-04
جموں کشمیر کو بجٹ میں خصوصی پیکیج ملنا چاہئے:چودھری
اہم ترین

رام مادھو کے دورۂ جموںکشمیر پر نائب وزیر اعلیٰ کا بی جے پی پر طنز

2026-11-04
’آغا روح اللہ ہمارے لوگوں کی دعاؤں سے جلسہ کر رہے ہیں‘
اہم ترین

’آغا روح اللہ ہمارے لوگوں کی دعاؤں سے جلسہ کر رہے ہیں‘

2026-11-04
کشمیر میں سرخ پھول کی واپسی: مصنوعی رنگوں پر پابندی کے بعد موَل کی مانگ میں اضافہ
اہم ترین

کشمیر میں سرخ پھول کی واپسی: مصنوعی رنگوں پر پابندی کے بعد موَل کی مانگ میں اضافہ

2026-11-04
این سی کو ہل کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے فیصلے کیخلاف دائر ایپل مسترد
اہم ترین

این سی کے روح اللہ کے پارلیمانی کردار پر سوالات

2026-11-04
اہم ترین

لداخ یونیورسٹی طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کی پانچ نشستوں پر کامیابی

2026-11-04
۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعمیراتِ عامہ میں ۱۷ امیدواروں کو تقرری نامے تقسیم کئے

2026-11-04
Next Post
جموں میں ’ٹی بی مکت بھارت ابھیان۱۰۰روزہ مہم‘ کا آغاز،

’فن انسان کے اندرونی شعور کی بیداری کا دروازہ کھولتا ہے‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.