سری نگر؍۱۷ستمبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما سنیل شرما نے جمعرات کے روز الزام عائد کیا کہ عبداللہ خاندان جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ اس لیے بحال کرانا چاہتا ہے تاکہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) نافذ کیا جاسکے اور نوجوانوں پر کھلے عام فائرنگ کی جاسکے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجہ بحال ہونے کی کوئی فکر نہیں ہے اور صرف عبداللہ خاندان ہی اپنی ’’کھوئی ہوئی سلطنت‘‘ واپس لانے کے لیے ریاستی درجہ چاہتا ہے۔
بی جے پی رہنما نے کہا، ’’وہ لاٹھی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں، پی ایس اے لگانے کا اختیار چاہتے ہیں، نوجوانوں کے سینوں پر گولیاں چلانے کا اختیار چاہتے ہیں۔ عبداللہ خاندان اسی قسم کی ریاست چاہتا ہے۔ وہ اسی ریاستی درجہ کی تلاش میں ہیں۔ ورنہ کسی اور کو ریاستی درجہ کی فکر نہیں ہے۔‘‘
شرما نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ لداخ کے ترجمان کا کردار ادا کرنا بند کریں اور اس کے بجائے جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کو ترجیح دیں۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا، ’’عبداللہ کو لداخ کا ترجمان بننا بند کرنا چاہیے۔ وہ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ آج یہاں کے لوگ پریشانی میں ہیں اور وہ ایک بار پھر ’بڑے بھائی‘ کا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘
شرما نے کہا، ’’یہ انہی کی حکومت کے دور کی بات ہے جب لداخ کے لوگوں نے کہا تھا کہ وہ ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ آج ایک بار پھر وہ لداخ کے لیے ہمدردی دکھا رہے ہیں۔ پہلے یہاں کے لوگوں کے مسائل حل کریں۔‘‘
شرما کا یہ بیان وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ایک روز قبل لداخ کی قیادت کو دیے گئے اس مشورے کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے زمین اور ملازمتوں سے متعلق آئینی تحفظات کی جدوجہد کے سلسلے میں مرکز کی زبانی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کرنے کی بات کہی تھی۔
آئندہ اسمبلی اجلاس کے حوالے سے بی جے پی رہنما نے کہا کہ پارٹی کا مقصد کسی کو گھیرنا یا ایوان میں شور شرابہ کرنا نہیں ہے، لیکن وہ عوام کو ’’خدا کے رحم و کرم پر‘‘ نہیں چھوڑ سکتے۔
شرما نے کہا، ’’لوگ تکلیف میں ہیں، لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں، لوگوں کے مسائل ہیں۔ ہم خاموش کیسے رہ سکتے ہیں؟ آخرکار ہم حزبِ اختلاف میں ہیں؛ ہمیں بھی۲۹ ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ایوان میں بھیجا گیا ہے۔ ہم وہاں صرف تنخواہ لینے کے لیے نہیں جائیں گے۔ دیکھیں کہ لوگ کس قدر پریشانی میں ہیں۔‘‘
حزبِ اختلاف کے رہنما نے کہا کہ جب بھی کوئی شخص اپنے مسئلے کے حل کے لیے حکومت سے رجوع کرتا ہے تو اسے صرف یہی جواب ملتا ہے کہ ’’ہمارے پاس اختیار نہیں ہے، ہمارے پاس طاقت نہیں ہے۔‘‘
شرما نے کہا، ’’کم از کم ہم ان کی جواب دہی طے کریں گے اور ان سے جواب طلب کریں گے۔ انہیں جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے بہت بڑے دعوے کیے تھے۔ پہلے وہ علیحدگی پسندی اور پاکستان کے نام پر باتیں کرتے تھے، لیکن اب یہ نہیں چلے گا۔ اب انہیں ترقی اور حقیقی کام کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اور اس کے لیے بی جے پی ہر ممکن جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘
شرما نے اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو ’’جانبدار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل کو صرف چھ دن کے اجلاس میں حل نہیں کیا جاسکتا۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا، ’’میں نے انہیں جانبدار اس لیے کہا ہے کہ۹۰ ؍ارکانِ اسمبلی ہیں اور۹۰ حلقے ہیں۔ مجھے بتائیے، بجلی، پانی، سڑکیں، اسکول، عملہ، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین، این ایچ ایم سمیت اتنے سارے مسائل کو صرف چھ دن میں کیسے حل کیا جاسکتا ہے؟ اس لیے وہ حکومت کے تحفظ کے لیے کام کررہے ہیں، اسی وجہ سے میں انہیں جانبدار کہہ رہا ہوں۔‘‘
حکومت کو بچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ اسمبلی کا۳۰ روزہ اجلاس منعقد کیا جائے۔
شرما نے کہا، ’’ہر روز بحث ہونی چاہیے، ہر مسئلے پر بحث ہونی چاہیے۔ تمام ارکانِ اسمبلی کو بولنے کا موقع ملنا چاہیے اور اس کے بعد حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے۔ اب آپ پانچ دن میں حکومت کو چھپانا چاہتے ہیں، اس لیے وہ جانبدار ہیں۔‘‘
۔۔۔۔
ایجنسیاں










