جمعہ, ستمبر 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’عبداللہ خان اپنی سلطنت کی بحالی کیلئے ریاستی درجہ چاہتا ہے‘

وہ نوجوانوں کے سینوں پر گولیاں چلانے کا اختیار چاہتے ہیں:شرما

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-18
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
’اسپیکر کے اقدامات کو   درست ثابت کرنے کیلئے   این سی جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’مودی کی قیادت میں جموں کشمیر میںترقی ہوئی‘

مودی کی سالگرہ ‘ عمر نے ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا

سری نگر؍۱۷ستمبر

                جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما سنیل شرما نے جمعرات کے روز الزام عائد کیا کہ عبداللہ خاندان جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ اس لیے بحال کرانا چاہتا ہے تاکہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) نافذ کیا جاسکے اور نوجوانوں پر کھلے عام فائرنگ کی جاسکے۔

                جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجہ بحال ہونے کی کوئی فکر نہیں ہے اور صرف عبداللہ خاندان ہی اپنی ’’کھوئی ہوئی سلطنت‘‘ واپس لانے کے لیے ریاستی درجہ چاہتا ہے۔

                بی جے پی رہنما نے کہا، ’’وہ لاٹھی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں، پی ایس اے لگانے کا اختیار چاہتے ہیں، نوجوانوں کے سینوں پر گولیاں چلانے کا اختیار چاہتے ہیں۔ عبداللہ خاندان اسی قسم کی ریاست چاہتا ہے۔ وہ اسی ریاستی درجہ کی تلاش میں ہیں۔ ورنہ کسی اور کو ریاستی درجہ کی فکر نہیں ہے۔‘‘

                شرما نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ لداخ کے ترجمان کا کردار ادا کرنا بند کریں اور اس کے بجائے جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کو ترجیح دیں۔

                حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا، ’’عبداللہ کو لداخ کا ترجمان بننا بند کرنا چاہیے۔ وہ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ آج یہاں کے لوگ پریشانی میں ہیں اور وہ ایک بار پھر ’بڑے بھائی‘ کا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘

                شرما نے کہا، ’’یہ انہی کی حکومت کے دور کی بات ہے جب لداخ کے لوگوں نے کہا تھا کہ وہ ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ آج ایک بار پھر وہ لداخ کے لیے ہمدردی دکھا رہے ہیں۔ پہلے یہاں کے لوگوں کے مسائل حل کریں۔‘‘

                شرما کا یہ بیان وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ایک روز قبل لداخ کی قیادت کو دیے گئے اس مشورے کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے زمین اور ملازمتوں سے متعلق آئینی تحفظات کی جدوجہد کے سلسلے میں مرکز کی زبانی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کرنے کی بات کہی تھی۔

                آئندہ اسمبلی اجلاس کے حوالے سے بی جے پی رہنما نے کہا کہ پارٹی کا مقصد کسی کو گھیرنا یا ایوان میں شور شرابہ کرنا نہیں ہے، لیکن وہ عوام کو ’’خدا کے رحم و کرم پر‘‘ نہیں چھوڑ سکتے۔

                شرما نے کہا، ’’لوگ تکلیف میں ہیں، لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں، لوگوں کے مسائل ہیں۔ ہم خاموش کیسے رہ سکتے ہیں؟ آخرکار ہم حزبِ اختلاف میں ہیں؛ ہمیں بھی۲۹ ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ایوان میں بھیجا گیا ہے۔ ہم وہاں صرف تنخواہ لینے کے لیے نہیں جائیں گے۔ دیکھیں کہ لوگ کس قدر پریشانی میں ہیں۔‘‘

                حزبِ اختلاف کے رہنما نے کہا کہ جب بھی کوئی شخص اپنے مسئلے کے حل کے لیے حکومت سے رجوع کرتا ہے تو اسے صرف یہی جواب ملتا ہے کہ ’’ہمارے پاس اختیار نہیں ہے، ہمارے پاس طاقت نہیں ہے۔‘‘

                شرما نے کہا، ’’کم از کم ہم ان کی جواب دہی طے کریں گے اور ان سے جواب طلب کریں گے۔ انہیں جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے بہت بڑے دعوے کیے تھے۔ پہلے وہ علیحدگی پسندی اور پاکستان کے نام پر باتیں کرتے تھے، لیکن اب یہ نہیں چلے گا۔ اب انہیں ترقی اور حقیقی کام کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اور اس کے لیے بی جے پی ہر ممکن جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘

                شرما نے اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو ’’جانبدار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل کو صرف چھ دن کے اجلاس میں حل نہیں کیا جاسکتا۔

                حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا، ’’میں نے انہیں جانبدار اس لیے کہا ہے کہ۹۰ ؍ارکانِ اسمبلی ہیں اور۹۰ حلقے ہیں۔ مجھے بتائیے، بجلی، پانی، سڑکیں، اسکول، عملہ، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین، این ایچ ایم سمیت اتنے سارے مسائل کو صرف چھ دن میں کیسے حل کیا جاسکتا ہے؟ اس لیے وہ حکومت کے تحفظ کے لیے کام کررہے ہیں، اسی وجہ سے میں انہیں جانبدار کہہ رہا ہوں۔‘‘

                حکومت کو بچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ اسمبلی کا۳۰ روزہ اجلاس منعقد کیا جائے۔

                شرما نے کہا، ’’ہر روز بحث ہونی چاہیے، ہر مسئلے پر بحث ہونی چاہیے۔ تمام ارکانِ اسمبلی کو بولنے کا موقع ملنا چاہیے اور اس کے بعد حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے۔ اب آپ پانچ دن میں حکومت کو چھپانا چاہتے ہیں، اس لیے وہ جانبدار ہیں۔‘‘

۔۔۔۔

 

ایجنسیاں

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 اودھم پور میں دو جیش دہشت گرد ہلاک

Next Post

یو پی آئی ادائیگیوں پر فیس سے بچنے کے لیے دہلی کے تاجروں کا نقد ادائیگیوں کو فروغ دینے کا منصوبہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

زوجیلا سرنگ کی آخری ۲ء۵میٹر کی رکاوٹ بھی ختم، کشمیر اور لداخ سرنگ کے ذریعے جڑ گئے
اہم ترین

’مودی کی قیادت میں جموں کشمیر میںترقی ہوئی‘

2026-09-18
’بی جے پی کا قانونی نوٹس ’محبت نامہ‘اور باعث اعزاز ہے ‘
اہم ترین

مودی کی سالگرہ ‘ عمر نے ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا

2026-09-18
افروٹ میں موسم کی پہلی برفباری، جموں و کشمیر کے کچھ حصوں میں بارش
اہم ترین

سرماکی آمد؟کشمیر کے گلمرگ، گریز میں رواں موسم کی پہلی برف باری

2026-09-18
₹۲ہزار روپےسے زیادہ کے تاجر کو کیے گئے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا
اہم ترین

یو پی آئی ادائیگیوں پر فیس سے بچنے کے لیے دہلی کے تاجروں کا نقد ادائیگیوں کو فروغ دینے کا منصوبہ

2026-09-18
ادھم پور میں انکاونٹر شروع، گولیوں کا تبادلہ ‘کشتواڑ کے چھاترو میں آپریشن جاری
اہم ترین

 اودھم پور میں دو جیش دہشت گرد ہلاک

2026-09-18
ایل اے سی پر چینی فوجی تعیناتی میں۲۰۲۵کے دوران کمی آئی: وزارتِ دفاع
اہم ترین

بھارت نے پاک چین  سرحدی مشترکہ نظام مسترد کیا

2026-09-18
سجاد لون کے فیصلے سے بی جے پی کے ست شرمہ کو فائدہ؟
اہم ترین

۱۹۸۷کے انتخابات میں  ’’دھاندلی‘‘ کی قرارداد پر اسمبلی  کی ’’خاموشی‘‘ پر سجاد لون برہم

2026-09-18
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

’مالی بے ضابطگیاں‘: جے کے اے ایس افسر  کیخلاف ایف آئی آر درج

2026-09-18
Next Post
₹۲ہزار روپےسے زیادہ کے تاجر کو کیے گئے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا

یو پی آئی ادائیگیوں پر فیس سے بچنے کے لیے دہلی کے تاجروں کا نقد ادائیگیوں کو فروغ دینے کا منصوبہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.