سرینگر؍۱۷ستمبر
مرکزی حکومت کی جانب سے۰۲۰۰ روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیوں پر۰ء۴ فیصد فیس عائد کیے جانے کے بعد تاجروں کی تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر اضافی لاگت سے بچنے کے لیے اب نقد ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
حکومت نے منگل کے روز بڑے ڈیجیٹل تجارتی لین دین کے لیے ایک نئے نظام کے تحت یہ فیس متعارف کرائی، جس کے ساتھ ہی جنوری۲۰۲۰ سے نافذ صفر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کا نظام ختم ہوگیا۔۷۵ہزار روپے یا اس سے زیادہ کی ادائیگیوں پر فیس زیادہ سے زیادہ۳۰۰ روپے تک محدود رکھی گئی ہے۔
کملا نگر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر نِتن گپتا نے کہا کہ تاجروں نے حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کی کوششوں کی حمایت کی تھی، لیکن اگر انہیں اضافی فیس برداشت کرنا پڑی تو وہ نقد لین دین کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
گپتا نے کہا، ’’ہم پہلے ہی لین دین کے چارجز اور۱۸ فیصد جی ایس ٹی ادا کررہے تھے۔ اب اگر حکومت ہم سے یو پی آئی ایم ڈی آر بھی وصول کرے گی تو ہم نقد ادائیگیوں کو فروغ دیں گے۔ جب حکومت یو پی آئی ادائیگی کا نظام لائی تھی تو ہم نے اس کی حمایت کی تھی۔‘‘
گپتا نے کہا، ’’اب اگر یو پی آئی لین دین پر بھی ہم سے فیس وصول کی جائے گی تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے اور نقد ادائیگیوں کو فروغ دینا شروع کردیں گے۔ آخر ہم لین دین کے چارجز کیوں ادا کریں؟‘‘
گپتا نے دکانداروں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ نقد ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی شروع کریں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر نئی فیس قبول کرلی گئی تو مستقبل میں اس کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم ڈیجیٹل ادائیگیوں کے عادی ہوچکے ہیں۔ حتیٰ کہ جب ہم بازار جاتے ہیں تو بعض اوقات ہمارے پاس نقد رقم بھی نہیں ہوتی۔ ہمارے لیے دوبارہ نقد ادائیگیوں کی طرف جانا مشکل ہوگا۔‘‘
نئی دہلی ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری امیت گپتا نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ اضافی فیس ان تاجروں کے لیے یو پی آئی ادائیگیوں کو مہنگا اختیار بنا دے گی جو پہلے ہی محدود منافع پر کاروبار کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یو پی آئی کو اس لیے متعارف کیا گیا تھا تاکہ تاجروں اور صارفین دونوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیاں آسان بنائی جاسکیں۔ اگر اب تاجروں سے۲ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگیوں پر اضافی فیس وصول کی جائے گی تو ان میں سے بہت سے نقد ادائیگیوں کو ترجیح دیں گے۔ ہمیں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اضافی لاگت تاجروں پر عائد نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
خان مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر سنجیو مہرا نے کہا کہ تاجر پہلے ہی کریڈٹ کارڈ لین دین پر ایم ڈی آر کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور اب انہیں یو پی آئی ادائیگیوں پر بھی فیس کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مہرا نے کہا، ’’ہم پہلے ہی کریڈٹ کارڈز پر ایم ڈی آر کے خلاف جدوجہد کررہے تھے اور اب یو پی آئی پر بھی فیس عائد ہوگی۔ اگر یو پی آئی لین دین پر بھی ہم سے چارج لیا جائے گا تو ہم نقد ادائیگیوں کو فروغ دیں گے۔‘‘
. انہوں نے کہا کہ تاجر بڑی ادائیگیوں، خصوصاً تھوک فروشوں اور دیگر کاروباری اداروں کو رقوم کی منتقلی کے لیے چیک اور دیگر بینکاری ذرائع استعمال کرنے پر بھی غور کریں گے۔
صدر بازار باڑی مارکیٹ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر پرمجیت سنگھ پما نے کہا کہ اس اقدام سے چھوٹے، درمیانے اور تھوک تاجروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، خصوصاً ان تاجروں کے لیے جو۲۰۰۰ روپے سے زیادہ کی بڑی تعداد میں یو پی آئی ادائیگیاں وصول کرتے ہیں۔
سنگھ نے کہا کہ انفرادی لین دین پر معمولی فیس بھی ایک ماہ یا ایک سال کے دوران ایک خاصا بڑا خرچ بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تاجروں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو کم لاگت والا ذریعہ برقرار رکھا جائے۔
صارف کپل اروڑہ نے کہا کہ تاجروں پر بڑھنے والے اخراجات بالآخر صارفین پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
نئے نظام کے تحت، یو پی آئی کیو آر کوڈ کے ذریعے ماہانہ ایک لاکھ روپے تک کمانے والے چھوٹے تاجر فیس سے مستثنیٰ رہیں گے۔ حکومت کے مطابق اس چھوٹ کا اطلاق تاجروں کے۹۶ فیصد لین دین پر ہوگا۔
نئی ایم ڈی آر فیس صارفین سے وصول نہیں کی جاسکتی۔ فرد سے فرد کے درمیان ہونے والی یو پی آئی منتقلیاں، جو یو پی آئی کے مجموعی حجم کا۳۷ فیصد اور اس کی مجموعی مالیت کا۷۰ فیصد ہیں، اس فیس سے مستثنیٰ رہیں گی۔
ریلویز، ٹیلی کام اور ایندھن جیسے ضروری شعبوں میں فی لین دین۵ روپے کی مقررہ فیس عائد ہوگی، جبکہ کیپٹل مارکیٹ سے متعلق لین دین پر۰ء۰۲ فیصد کی شرح لاگو ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










