سرینگر؍۱۷ستمبر
جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے شیبا عنایت، جے کے اے ایس، جو اُس وقت محکمہ امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری (موجودہ ایف سی ایس اینڈ سی اے) بارہمولہ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھیں، کے خلاف سرکاری غذائی اجناس کی عوامی تقسیم کاری نظام کے تحت تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔
اے سی بی کے مطابق جون۲۰۱۳ سے جون۲۰۱۵ کے دوران سرکاری غذائی اجناس کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیاں شیبا عنایت کی جانب سے اپنے سرکاری عہدے کا مبینہ ناجائز استعمال کرتے ہوئے محمد شفیع راتھر عرف کنڈامن، جو اس وقت محکمہ امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری بارہمولہ میں سیلز مین تھے، اور دیگر نامعلوم سرکاری ملازمین و نجی افراد کے ساتھ مبینہ مجرمانہ سازش کے تحت انجام دی گئیں۔
اے سی بی جموں و کشمیر نے سرکاری غذائی اجناس کو غیر مجاز طور پر دوسری مد میں منتقل کرنے اور خرد برد، سرکاری تقسیم اور مستحقین کے ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور سرکاری آمدنی کا درست حساب رکھنے اور اسے سرکاری خزانے میں جمع کرانے میں مبینہ ناکامی کے الزامات کی جانچ کے لیے ایک تصدیقی کارروائی کی تھی۔
تصدیق کے دوران مبینہ طور پر درج ذیل بے ضابطگیاں سامنے آئیں:اول: اے پی ایل زمرے سے بی پی ایل/اے اے وائی زمروں میں سرکاری غذائی اجناس کی غیر مجاز منتقلی یا دوبارہ تخصیص پائی گئی، جس کے نتیجے میں۲۶لاکھ ۳۲ہزار۴۶۸ روپے کی مالی رقم شامل تھی۔
دوم: سرکاری غذائی اجناس میں۱۶ہزار۷۶۳ء۷۷کوئنٹل کی ایسی کمی پائی گئی جس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ اے پی ایل کے مقررہ اجراء نرخ کے مطابق اس کی مالیت ایک کروڑ۶۷لاکھ۶۳ہزار اور۷۷۰ روپے بنتی ہے۔
سوم: ضلعی مجموعی بیانات اور حلقہ وار تقسیم کے بیانات میں نمایاں فرق پایا گیا، جس میں۶ہزار۱۲۰ء۱۳ کوئنٹل سرکاری غذائی اجناس کی غیر واضح کمی یا فرق سامنے آیا۔ اس کی مالی مالیت۶۱لاکھ۲۰ہزار۱۳۰روپے بتائی گئی ہے۔
چہارم: سرکاری آمدنی کی ممکنہ کم جمع آوری یا سرکاری خزانے کو۶لاکھ۷۴ہزار۱۹۴روپے کے نقصان کا بھی انکشاف ہوا۔
پنجم۲۰۱۴کے سیلاب کے دوران راشن کارڈوں اور گھرانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ اور اس کے بعد اچانک کمی دیکھی گئی، جو ابتدائی طور پر مستحقین کے ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور سرکاری غذائی اجناس کی غیر مجاز تقسیم کی نشاندہی کرتی ہے۔
اے سی بی کے مطابق ان مبینہ بے ضابطگیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر۲ کروڑ۶۱ لاکھ۹۰ ہزار۵۶۲ روپے کا ناجائز نقصان پہنچا جبکہ اسی کے مساوی ناجائز فائدہ شیبا عنایت، جے کے اے ایس، اس وقت کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری بارہمولہ، محمد شفیع راتھر عرف کندامن، اُس وقت کے سیلز مین، اور دیگر سرکاری ملازمین کو پہنچنے کا الزام ہے۔
اس کے نتیجے میں ایک ایف آئی آر تھانہ اے سی بی بارہمولہ میں جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی متعلقہ دفعات اور تعزیراتِ ریاستی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت شیبا عنایت، جے کے اے ایس، اُس وقت کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ ڈسٹرکٹ بارہمولہ، محمد شفیع راتھر عرف کنڈامن، اُس وقت کے محکمہ امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری بارہمولہ کے سیلز مین اور دیگر سرکاری ملازمین کے خلاف درج کی گئی ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اے سی بی کے مطابق تحقیقات کے دوران معزز اینٹی کرپشن کورٹ بارہمولہ سے حاصل کیے گئے تلاشی کے وارنٹس کی بنیاد پر شیبا عنایت، جے کے اے ایس، کے اُس وقت کے دفتری اور رہائشی احاطے، نیز محمد شفیع راتھر عرف کندامن کے رہائشی اور دفتری مقامات پر تلاشی لی گئی۔
تلاشی کے دوران مبینہ طور پر مقدمے سے متعلق قابلِ اعتراض و مجرمانہ مواد ضبط کیا گیا۔
۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)










