سرینگر؍۱۷ستمبر
پاکستان اور چین نے اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے قائم مشترکہ کمیشن کو فعال کر دیا ہے جسے دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم بھارت نے اس کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کسی بھی قسم کی سرحد موجود نہیں اور یہ کمیشن ’قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔‘
بدھ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے کمیشن کے پہلے اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام نے شرکت کی۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پلیٹ فارم سرحدی انتظام، تجارت، مشترکہ سروے اور عوامی روابط کے فروغ میں مدد دے گا۔
یہ کمیشن۲۰۱۳ میں پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے سرحدی انتظام کے معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر فعال کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے سرحدی نشانات کی دیکھ بھال، سرحد پار سہولیات کے انتظام، مشترکہ جائزوں اور دیگر عملی امور پر رابطہ کاری کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خنجراب پاس کے ذریعے ہونے والی آمدورفت، تجارت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑے معاملات میں تعاون مزید مضبوط ہو سکے گا۔
بھارت نے پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی امور سے متعلق مبینہ مشترکہ کمیشن کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کسی بھی قسم کی سرحد موجود نہیں اور اس نوعیت کا کوئی کمیشن قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ نئی دہلی کا اس معاملے پر مؤقف ’واضح اور مستقل‘ ہے اور وہ پاکستان-چین سرحدی کمیشن کے تصور کو تسلیم نہیں کرتے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نےظ۱۹۶۳ کے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے‘ کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور مسلسل یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ ’غیر قانونی اور کالعدم ہے۔‘
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مقبوضہ علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے یا غیر قانونی قبضے کو جائز قرار دینے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں، کیونکہ ایسی کوششیں انڈیا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔‘
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک )










