جموں؍۱۷ستمبر
حکام نے جمعرات کے روز بتایا کہ جموں و کشمیر کے ضلع اودھم پور کے ایک دور افتادہ بلند پہاڑی علاقے میں پاکستان میں قائم ممنوعہ تنظیم جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہونے کے شبہ میں دو دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے، جبکہ ایک مبینہ اوور گراؤنڈ ورکر کو حراست میں لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے کٹھوعہ ضلع سے متصل مجالتہ کے گھنے برتل سوہن اور خبّان جنگلات میں شدید بارش کے درمیان مشترکہ کارروائی کی۔
فوج نے کارروائی میں دو دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کاکہنا ہے کہ مارے گئے جیشِ محمد سے وابستہ دو پاکستانی دہشت گردوں کی شناخت صدام اور مصطفیٰ کے طور پر ہوئی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں پولیس نے کہا، ’’آپ بھاگ سکتے ہیں، لیکن چھپ نہیں سکتے! آپریشن سون کے دوران ہلاک کیے گئے جیشِ محمد کے دونوں پاکستانی دہشت گردوں کی شناخت صدام اور مصطفیٰ کے طور پر ہوئی ہے۔‘‘
جموں میں قائم وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’۱۶؍ اوت ۱۷ستمبر کی درمیانی شب خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران برتل، اودھم پور کے عمومی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملی۔‘‘
بیان میں کہا گیا، ’’مخالف موسمی حالات، دشوار گزار علاقے اور کم حدِ نگاہ کے باوجود وائٹ نائٹ کور، پولیس اور سی آر پی ایف کے دستوں نے ہدفی انسدادِ دہشت گردی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔‘‘
وائٹ نائٹ کور نے کہا کہ کارروائی اب بھی جاری ہے اور علاقے میں تلاشی اور نگرانی کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز علاقے میں موجود ہیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ خطرے کا سراغ لگا کر اسے ختم کیا جاسکے۔
حکام نے بتایا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز گزشتہ ہفتے جنگلاتی علاقے میں ایک دہشت گرد گروپ کی نقل و حرکت کا پتہ چلنے کے بعد اس کی تلاش میں مصروف تھیں۔
تازہ اطلاعات ملنے کے بعد بدھ کی رات تقریباً۹ بجے سکیورٹی فورسز نے ایک مخصوص علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جس کے بعد ابتدائی رابطہ قائم ہوا۔
حکام کے مطابق کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد گولی چلنے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ تاہم رات بھر علاقہ بڑی حد تک پُرسکون رہا۔ یہ خاموشی جمعرات کی صبح اس وقت ختم ہوئی جب دہشت گردوں نے محاصرہ توڑنے کی کوشش میں شدید فائرنگ کی۔
علاقے میں اضافی نفری بھیج دی گئی اور آخری اطلاعات موصول ہونے تک تلاشی کارروائی جاری تھی۔حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں دہشت گردوں کے پاکستانی شہری ہونے کا شبہ ہے۔ جائے وقوعہ سے امریکی ساختہ ایم۴ کاربین اور ایک اے کے رائفل کے علاوہ بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ایک مقامی نوجوان، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ اوور گراؤنڈ ورکر ہے، کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
اودھم پور ضلع میں رواں سال یہ دوسرا بڑا مسلح تصادم ہے۔ فروری میں رام نگر کے جنگلات میں دو پاکستانی دہشت گرد مارے گئے تھے، جن میں ایک خود ساختہ کمانڈر روبانی عرف ابو معاویہ بھی شامل تھا، جو کئی برس سے اس علاقے میں سرگرم تھا۔
حکام کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران کٹھوعہ، اودھم پور اور ڈوڈہ کے پہاڑی علاقوں کی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال کو جیشِ محمد کے دہشت گردوں نے سرحد پار سے دراندازی کے بعد محفوظ ٹھکانے قائم کرنے اور سکیورٹی فورسز سے بچنے کے لیے استعمال کیا۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ان نیٹ ورکس کو بڑی حد تک ختم کردیا ہے، تاکہ دہشت گردوں کو بالائی علاقوں میں محفوظ راستہ اور پناہ گاہیں نہ مل سکیں۔انہوں نے کہا کہ مسلسل جاری کارروائیوں کے نتیجے میں خطے میں سرگرم بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے، جن میں سے بیشتر کے پاکستانی شہری ہونے کی شناخت ہوئی ہے۔
سکیورٹی ایجنسیاں خفیہ اطلاعات اور ممکنہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کے جائزوں کی بنیاد پر دور دراز جنگلاتی علاقوں میں نگرانی مزید بڑھانے اور تلاشی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ڈوڈہ میں۲۰۲۵کے دوران الگ الگ مسلح تصادم کے واقعات میں چار دہشت گرد اور پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ملحقہ ضلع کشتواڑ میں رواں سال پانچ افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار دہشت گرد اور ایک سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔۲۰۲۵ میں کشتواڑ میں چار ہلاکتیں ہوئی تھیں، جن میں تین دہشت گرد اور ایک سکیورٹی اہلکار شامل تھا۔
۲۰۲۴ میں ڈوڈہ ضلع میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار اور دو عام شہری شامل تھے۔اودھم پور میں۲۰۲۴ کے دوران چار افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو دہشت گرد، ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک عام شہری شامل تھا، جبکہ۲۰۲۵ میں چار ہلاکتیں ہوئیں، جن میں ایک دہشت گرد اور تین سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔
کٹھوعہ میں۲۰۲۴ کے دوران ان چار اضلاع میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، جہاں مجموعی طور پر نو افراد مارے گئے، جن میں دو دہشت گرد اور سات سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔اگلے سال ۲۰۲۵ میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین دہشت گرد اور چار سکیورٹی اہلکار شامل تھے، جبکہ۲۰۲۶۲۰۲۵ میں اب تک ایک دہشت گرد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










