نیامی (نائجر)، 14 ستمبر (یو این آئی) نائجر میں ناکام فوجی بغاوت نے ظاہر کردیا ہے کہ صدر عبد الرحمٰن تیانی کو اپنی حکومت کو درپیش خطرات، بشمول اپنی ہی سکیورٹی فورسز کی جا(نب سے خطرے کی صورت میں، روسی حمایت پر کس حد تک انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
29 اگست کو خود کو ’’وطن کی بحالی کے لیے مسلح افواج‘‘ کہنے والے فوجیوں نے نیامی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واقع ایئر بیس 101، صدارتی محل اور سرکاری نشریاتی ادارے پر مربوط حملہ کیا۔ لڑائی کے دوران ایک بیان بھی گردش کرتا رہا جس میں غلط طور پر صدر تیانی کو عہدے سے ہٹائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
صدارتی محل پر وفادار صدارتی گارڈ کے دستوں نے رات بھر کنٹرول برقرار رکھا، جبکہ تقریباً 200 روسی افریقہ کور کے اہلکاروں نے ڈرونز کی مدد سے اور مبینہ طور پر مالی اور لیبیا سے کمک ملنے کے بعد شام تک ایئر بیس دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس واقعے میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور تقریباً 100 باغی گرفتار کیے گئے۔
اس بغاوت سے واضح ہوگیا کہ جب نائجر کی اپنی سکیورٹی فورسز نے حکومت کے خلاف رخ کیا تو تیانی کس پر بھروسہ کرسکتے تھے۔ نائجر کے فوجیوں نے صدارتی محل کا دفاع کیا، جبکہ روسی اہلکاروں اور سازوسامان نے وفادار فورسز کو اہم ایئر بیس دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دی۔
سگنل رسک کے سربراہ تجزیہ کار ریان کمنگز نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ بغاوت کی کوشش فوج کے اندر طویل عرصے سے موجود شکایات کا نتیجہ تھی۔انہوں نے کہا، ’’بغاوت نائجر کی مسلح افواج کے اندر اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں سب سے اہم مسلح گروہوں کے ہاتھوں ملکی فوج کو ہونے والا بھاری جانی نقصان ہے۔ یہ غیر ریاستی مسلح عناصر بظاہر اتنے ہی یا اس سے بھی زیادہ جدید سازوسامان سے لیس ہیں جتنی ملکی فوج۔‘‘
کمنگز نے ان فوجیوں اور ملک کی سیاسی قیادت کی حفاظت پر مامور دستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی جانب بھی اشارہ کیا۔انہوں نے کہا کہ دیگر عوامل میں نچلے اور درمیانے درجے کے افسران، جنہوں نے بغاوت اور اقتدار پر قبضے کی کوشش کی، اور ان کے اعلیٰ افسران، بالخصوص صدارتی گارڈ، کے درمیان تعیناتی اور معاوضے میں تفاوت شامل ہے۔
کمنگز کے مطابق جونیئر اور درمیانے درجے کے فوجیوں کو عموماً جنگی محاذوں پر تعینات کیا جاتا ہے، جہاں انہیں ایسے مسلح جنگجو گروپوں کا سامنا ہوتا ہے جو اچھی طرح مسلح اور تیزی سے پیشہ ور بنتے جا رہے ہیں اور ان کی پوزیشنوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے برعکس اعلیٰ سطح کے فوجی یونٹس، خصوصاً صدارتی گارڈ، نیامی اور اگادیز جیسے شہروں میں تعینات رہتے ہیں، جہاں براہ راست جھڑپ کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اعلیٰ رینک کے فوجی یونٹس کو نچلے اور درمیانے درجے کے فوجیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ معاوضہ ملتا ہے۔
بغاوت نے دارالحکومت میں نسبتاً محفوظ یونٹوں میں خدمات انجام دینے والے فوجیوں اور جنگی محاذوں پر لڑنے والے فوجیوں کے درمیان فرق کو نمایاں کردیا۔
تیانی نے 2023 اور 2024 میں فرانسیسی اور امریکی فوجیوں کو نائجر سے نکال دیا تھا۔ اس کے بعد روسی افریقہ کور کے اہلکار نائجر پہنچے، کیونکہ فوجی حکومت مغربی حمایت کی جگہ روسی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔تاہم حالیہ بغاوت نے ظاہر کردیا کہ نائجر میں ماسکو کا کردار اب مسلح گروہوں کے خلاف جنگ میں مدد تک محدود نہیں رہا۔
جب نائجر کی اپنی فوج کے اہلکاروں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی دھمکی دی تو روسی اہلکاروں اور سازوسامان نے وفادار فورسز کو ایئر بیس 101 دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دی۔ اس واقعے سے ظاہر ہوا کہ نائجر میں روس کا کردار اب مسلح گروہوں کے خلاف جنگ سے آگے بڑھ کر فوجی حکومت کے تحفظ تک پہنچ چکا ہے۔
یہ اس شراکت داری کی ابتدائی پیشکش سے ایک اہم تبدیلی ہے، جسے نائجر کے عوام کے سامنے مغربی افواج کے انخلا کے بعد مسلح گروہوں کے خلاف جنگ کو مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
تیانی کے لیے ماسکو پر یہ انحصار ایسے وقت میں بڑھ رہا ہے جب مسلح گروہوں کے حملے جاری ہیں اور ان سے لڑنے والے فوجیوں میں بے چینی بھی بڑھ رہی ہے۔
نائجر کے ہمسایہ فوجی حکمرانوں کے ردعمل نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ جب اس کے کسی رکن کو شدید دباؤ کا سامنا ہو تو الائنس آف ساحل اسٹیٹس (AES) کس حد تک مدد فراہم کرسکتا ہے۔





