تل ابیب، 14 ستمبر (یو این آئی) اسرائیل کے وزیر ثقافت میکی زوہار نے کہا ہے کہ وہ فلم سازوں یووال ابراہم اور ریچل سور کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی کوشش کریں گے۔ دونوں کی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی سے متعلق دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ دیا گیا ہے۔
زوہار نے اتوار کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دستاویزی فلم کو ’’گھٹیا‘‘ قرار دیا اور فلم فیسٹیول میں اسے ملنے والے ایوارڈ کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے فلم سازوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’دنیا بھر کے یہود مخالفین سے تالیاں بٹورنے کے لیے‘‘ اپنے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ ابراہم اور سور کے اقدامات ’’ریاست سے غداری کے مترادف‘‘ ہیں۔
انہوں نے لکھا، ’’وزیر ثقافت کی حیثیت سے میں ریاست سے غداری کے الزام میں ان قابل نفرت تخلیق کاروں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کے لیے فوری کارروائی کروں گا۔‘‘
80 منٹ دورانیے کی اس فلم میں غزہ میں فلسطینیوں کے ’’منصوبہ بند اجتماعی قتل‘‘ کے لیے اسرائیل کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کے استعمال کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ وینس فلم فیسٹیول کے سرکاری خلاصے کے مطابق فلم میں اس حوالے سے تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ فیسٹیول میں فلم کی نمائش کے بعد اسے 25 منٹ تک کھڑے ہوکر داد دی گئی۔
فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے بیانات بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ ان انٹرویوز میں ’’لیونڈر‘‘ نامی مصنوعی ذہانت کے نظام کا بھی ذکر ہے، جسے غزہ میں فلسطینیوں کے ٹیلی مواصلاتی رابطوں کی نگرانی اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کا بتایا گیا ہے۔
فلم ساز ابراہم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کی دستاویزی فلم مغربی حکومتوں کو اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پر آمادہ کرے گی۔





