تہران، 14 ستمبر (یو این آئی) ایران اور عمان نے خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے وزرائے خارجہ کا پیر کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ اور عمان کے وزیر خارجہ نے یہ اطلاع دی۔ اجلاس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے حل اور اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے خلیج فارس امور کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی بک نے کہا کہ بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر ایران اور عمان کے مشترکہ فیصلے سے اجلاس ملتوی کیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بک کے حوالے سے کہا، ’’بعض علاقائی ممالک کی درخواست اور عمان و ایران کے مشترکہ فیصلے سے پیر کو ہونے والا خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس کسی اور تاریخ تک ملتوی کردیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران، عمان کے ساتھ قریبی مشاورت سے اجلاس کی نئی تاریخ طے کرنے کے انتظامات کرے گا۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی الگ سے کہا کہ صلالہ میں ہونے والا علاقائی اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔
البوسعیدی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’اتفاق رائے کے مفاد میں کل صلالہ میں ہونے والا علاقائی اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔ ہم اپنے خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کے لیے مکالمے کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہیں۔‘‘
اس اجلاس میں ایران اور خلیجی عرب ممالک کو بغیر امریکی شرکت کے جمع ہونا تھا تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات چیت کی جاسکے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اب بھی معمول سے بہت کم ہے، تاہم امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی حفاظتی دستوں کی نگرانی میں تیل بردار جہازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد آبنائے سے گزر رہی ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فی الحال آبنائے ہرمز کی صورت حال قابل قبول ہے۔
اجلاس کا ملتوی ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آبی گزرگاہ کے مستقبل پر علاقائی اتفاق رائے تک پہنچنا کتنا مشکل ہے، حالانکہ اسے دوبارہ کھولنے کے لیے ممکنہ قانونی طریقہ کار پر کئی ماہ سے پس پردہ بات چیت جاری تھی۔
عمان کی شمولیت سے تیار کیے گئے مجوزہ فریم ورک کے تحت ایران اور عمان کو جہاز رانی اور بحری سلامتی سے متعلق خدمات کی ادائیگی حاصل کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
سفارت کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے ٹول وصول کیے جانے کا امکان اب بھی متنازع ہے، تاہم جہاز رانی میں معاونت اور ماحولیاتی تحفظ جیسی خدمات کے لیے رضاکارانہ ادائیگیوں پر غور کرنے پر کچھ آمادگی موجود ہے۔
بات چیت سے واقف ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے مجوزہ متن میں ترامیم پیش کی ہیں، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ایسا نیا انتظام قائم ہوسکتا ہے جسے ریاض اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک قبول نہیں کریں گے۔
تنازع سے قبل تجارتی جہاز بغیر کسی لازمی فیس کے آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے۔
فیس عائد کرنے، بالخصوص ایسی ادائیگیوں کی شدید مخالفت خلیجی ممالک اور مذاکرات میں شامل دیگر ملکوں نے کی ہے جن سے ایران کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تاہم یورپی اور خلیجی سفارت کاروں کے مطابق کئی ماہ تک بحری آمدورفت متاثر رہنے اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اس مخالفت میں کمی آئی ہے۔






