جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کی جانب سے ماہانہ وظیفہ بڑھانے کے مطالبے پر شروع کی گئی غیر معینہ مدت کی ہڑتال نے ایک اہم اور بنیادی سوال کو پھر سے سامنے لا کھڑا کیا ہے: کیا ان نوجوان ڈاکٹروں کو ان کی ذمہ داریوں، کام کے اوقات اور موجودہ معاشی حالات کے مطابق مناسب مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے؟ دستیاب اعداد و شمار کو سامنے رکھا جائے تو اس سوال کا جواب آسانی سے اثبات میں نہیں دیا جا سکتا۔ اس وقت جموں و کشمیر میں میڈیکل انٹرنز کو ماہانہ صرف۱۲ ہزار۳۰۰ روپے وظیفہ دیا جا رہا ہے، جو ملک کی کئی دوسری ریاستوں میں دی جانے والی رقم کے مقابلے میں تقریباً دو سے تین گنا کم ہے۔ ایسے میں اسے بڑھا کر۳۰ ہزار روپے کرنے کا مطالبہ بادی النظر میں بالکل منصفانہ اور قابلِ غور ہے۔
میڈیکل انٹرن شپ محض تعلیم کا ایک مرحلہ نہیں بلکہ عملی طبی تربیت کا وہ اہم دور ہے جس میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس مکمل کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں کو اسپتال کے حقیقی ماحول میں مریضوں کے علاج، دیکھ بھال اور طبی ذمہ داریوں سے براہِ راست واسطہ پڑتا ہے۔ انہیں ایمرجنسی، وارڈز، آپریشن تھیٹرز اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں تعینات کیا جاتا ہے اور وہ سینئر ڈاکٹروں کی نگرانی میں مریضوں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس دوران ان کے اوقاتِ کار بھی معمول کے دفتری اوقات تک محدود نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات طویل اور مسلسل ڈیوٹیاں انجام دینا پڑتی ہیں۔
یہی وہ پہلو ہے جس کی بنیاد پر انٹرنز کی موجودہ وظیفے میں اضافے کی مانگ کو محض مالی فائدے کی خواہش قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ جب ایک نوجوان ڈاکٹر اسپتال میں طویل اوقات تک خدمات انجام دے رہا ہو، مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے معاملہ کر رہا ہو اور طبی نظام کے روزمرہ کام کا حصہ بن چکا ہو تو اس کی مالی معاونت بھی اس کی ذمہ داریوں کے تناسب سے ہونی چاہیے۔ اگر ملک کی دوسری ریاستیں اسی نوعیت کی ذمہ داریاں انجام دینے والے انٹرنز کو نمایاں طور پر زیادہ وظیفہ دے سکتی ہیں تو جموں و کشمیر میں اس تفاوت کی وجہ بھی واضح ہونی چاہیے۔
خاص طور پر اس لیے کہ یہ رقم تقریباً سات برس سے تبدیل نہیں ہوئی۔ سات برس ایک طویل عرصہ ہے۔ اس دوران مہنگائی میں اضافہ ہوا، رہائش، خوراک، آمدورفت اور روزمرہ ضروریات کی لاگت بڑھی اور ملک کی متعدد ریاستوں نے اپنے میڈیکل انٹرنز کے وظیفے پر نظرثانی کی۔ اگر جموں و کشمیر میں بھی وقتاً فوقتاً وظیفے کا جائزہ لیا جاتا تو شاید آج یہ مسئلہ احتجاج اور ہڑتال تک نہ پہنچتا۔ حکومت کو مستقبل میں ایسے معاملات کے لیے ایک باقاعدہ نظرثانی کا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے تاکہ ہر چند سال بعد انٹرنز کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
تاہم اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے، بلکہ مریضوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ ڈاکٹر چاہے مکمل طور پر تربیت یافتہ ماہر ہو یا انٹرن، جب وہ اسپتال میں سفید کوٹ پہن کر مریض کے سامنے آتا ہے تو اس سے بنیادی پیشہ ورانہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ مریض کو اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ اس کے سامنے موجود ڈاکٹر مستقل ملازم ہے یا انٹرن۔ وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ اسے بروقت توجہ ملے گی، اس کی تکلیف کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، ضروری طبی مدد فراہم کی جائے گی اور اس کی جان و صحت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
یہی وجہ ہے کہ انٹرنز کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے بھی ان کی ہڑتال کے مریضوں پر پڑنے والے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری اسپتال پہلے ہی مریضوں کی ایک بڑی تعداد کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں خاندان علاج کے لیے انہی اداروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے لیے اسپتال کی معمولی سی رکاوٹ بھی ایک بڑے مسئلے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایمرجنسی میں آنے والے مریض یہ انتظار نہیں کر سکتے کہ کسی انتظامی یا مالی معاملے کا فیصلہ کب ہوگا۔ بیماری اور حادثہ کسی ہڑتال کے شیڈول کے پابند نہیں ہوتے۔
لہٰذا انٹرنز کو بھی یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ان کا پیشہ عام ملازمتوں سے مختلف ہے۔ طب کا شعبہ براہِ راست انسانی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ احتجاج اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ان کا حق ہے، لیکن اس احتجاج کا ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جس سے مریضوں کی جان و صحت غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔ حکومت سے مذاکرات، علامتی احتجاج، نمائندگی اور دیگر پُرامن طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ہڑتال ناگزیر سمجھی جائے تو کم از کم ایمرجنسی اور انتہائی ضروری طبی خدمات کو مکمل طور پر متاثر ہونے سے بچانے کا انتظام ہونا چاہیے۔
دوسری طرف حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ معاملہ محکمہ خزانہ کے زیرِ غور ہے۔ جب حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ انٹرنز کا مطالبہ جائز ہے اور موجودہ مہنگائی کے تناظر میں وظیفے میں اضافہ ضروری ہے تو پھر اس معاملے کو غیر معینہ مدت تک فائلوں میں نہیں پڑا رہنا چاہیے۔ حکومت کو ایک واضح ٹائم فریم دینا چاہیے کہ مطالبے پر کب تک فیصلہ کیا جائے گا۔ غیر یقینی کی کیفیت ہی اکثر ایسے احتجاج کو طول دیتی ہے۔
اس سلسلے میں وزیر صحت کی یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہڑتال سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوتی ہے، لیکن اس حقیقت کے ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ناکافی وظیفہ بھی ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ حکومت اگر انٹرنز سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ سخت اوقاتِ کار، دباؤ اور ذمہ داریوں کے باوجود پوری یکسوئی سے خدمات انجام دیں تو اسے بھی ان کی محنت اور خدمات کا مناسب مالی اعتراف کرنا چاہیے۔ ریاست اپنے طبی نظام کے ایک اہم حصے کو طویل عرصے تک کم معاوضے پر نہیں چھوڑ سکتی۔
حکومت کو ایک جامع پالیسی بنانی چاہیے جس میں میڈیکل انٹرنز کے وظیفے کا وقتاً فوقتاً جائزہ، مہنگائی، دیگر ریاستوں میں رائج شرح اور ان کی عملی ذمہ داریوں کو بنیاد بنایا جائے۔ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے ساتھ یکساں اور منصفانہ اصول اختیار کیے جائیں تاکہ کسی کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کی محنت کی قدر کم کی جا رہی ہے۔
ساتھ ہی انٹرنز کو بھی اپنے پیشے کی بنیادی اخلاقیات کو مقدم رکھنا ہوگا۔ بہتر وظیفہ ان کا حق ہو سکتا ہے، لیکن مریض کی دیکھ بھال ان کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ ان کی جائز مالی شکایت دور کرے اور انٹرنز کا فرض ہے کہ وہ اس دوران مریضوں کو بے یار و مددگار نہ چھوڑیں۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیراعلیٰ اور وزیر صحت اس معاملے میں براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے انٹرنز کے نمائندوں سے بامعنی مذاکرات کریں اور ایک قابلِ قبول حل نکالیں۔ اگر۳۰ ہزار روپے کا مطالبہ فوری طور پر پورا کرنے میں مالی یا انتظامی رکاوٹ ہے تو مرحلہ وار اضافہ، عبوری وظیفہ یا کوئی دوسرا قابلِ عمل طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، لیکن فیصلہ واضح، منصفانہ اور بروقت ہونا چاہیے۔





