جموں/سرینگر؍۳۱؍اگست
جموں و کشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے پیر کے روز غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کردی۔ انٹرنز ماہانہ ۱۲ہزار۳۰۰ روپے وظیفہ ملنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جو تقریباً۴۰۰ روپے یومیہ بنتا ہے، اور اسے بڑھا کر۳۰ہزار روپے ماہانہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والے انٹرنز کا کہنا ہے کہ بارہا نمائندگیوں اور احتجاج کے باوجود ان کا وظیفہ تقریباً سات برس سے بدستور۱۲ہزار۳۰۰ روپے ماہانہ ہے، جبکہ کئی دیگر ریاستوں میں میڈیکل انٹرنز کو اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ وظیفہ دیا جا رہا ہے۔
احتجاج جموں کشمیر کے مختلف سرکاری میڈیکل کالجوں، جن میں جی ایم سی سرینگر، بارہمولہ، ہندواڑہ، اننت ناگ اور ایس کے آئی ایم ایس بمنہ شامل ہیں، کے علاوہ جموں، ادھم پور، راجوری اور ڈوڈہ میں بھی کیا گیا۔
احتجاج کرنے والے انٹرنز نے کہا کہ جب تک ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا، وہ معمول کی ڈیوٹی انجام دینے سے گریز کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وظیفہ ان کی طبی ذمہ داریوں، کام کے بوجھ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے ناکافی ہے۔
ایم بی بی ایس انٹرنوں نے کہا کہ ان کو معمول کے مطابق ایمرجنسی شعبوں، وارڈز، آپریشن تھیٹرز اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں وہ لازمی انٹرن شپ کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال میں سینئر ڈاکٹروں کی معاونت کرتے ہیں۔
جی ایم سی سرینگر کے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے بھی احتجاج کرنے والے انٹرنز کی حمایت کی ہے اور وظیفے میں نظرثانی کے مطالبے کو جائز قرار دیا ہے۔
دریں اثنا وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت نے ماہانہ وظیفہ۱۲ ہزار روپے سے بڑھا کر۳۰ ہزار روپے کرنے کے مطالبے کا نوٹس لے لیا ہے اور معاملہ اس وقت محکمہ خزانہ کے زیرِ عمل ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ متعلقہ نمائندوں نے ان سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات کے بعد ان کی فائل کارروائی کے لیے محکمہ خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ان کا مطالبہ جائز ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ غلط ہے، کیونکہ آج کل بہت زیادہ مہنگائی ہے۔ وظیفے میں اضافہ ضروری ہے اور ہم اسے تسلیم بھی کرتے ہیں۔ معزز وزیراعلیٰ نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔‘‘
وزیر صحت نے کہا کہ حکومت اور محکمہ صحت پہلے ہی اس معاملے پر کام کر رہے ہیں، اس لیے جب مطالبہ زیرِ غور ہے تو ملازمین کو ہڑتال کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ معاملہ پہلے ہی زیرِ عمل ہے۔ میرے خیال میں ہڑتال کرنا مناسب نہیں کیونکہ اس سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوتی ہے۔‘‘
اسی دوران جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمیدقرہ نے پیر کے روز وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ میڈیکل انٹرنز کے جاری احتجاج میں مداخلت کریں اور ان کے وظیفے میں جلد اور بامعنی اضافہ یقینی بنائیں۔
احتجاج کرنے والے میڈیکل انٹرنز کی جانب سے جاری کردہ تقابلی چارٹ کے مطابق، جموں و کشمیر ممکنہ طور پر ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کو سب سے کم وظیفہ دینے والا خطہ بن کر سامنے آیا ہے جہاں تقابلی اعداد و شمار دستیاب ہیں۔ یہاں انٹرنز کو ماہانہ صرف۱۲۳۰۰ روپے ملتے ہیں، جس کے خلاف انہوں نے پیر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کرتے ہوئے فوری طور پر اسے۳۰ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے نام لکھے گئے ایک خط میں قرہ نے کہا کہ احتجاج کرنے والے میڈیکل انٹرنز کا مطالبہ جائز ہے اور اسے ’’ہمدردانہ اور فوری غور‘‘ کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل انٹرنز نظامِ صحت کا ایک لازمی حصہ ہیں اور لازمی انٹرن شپ کے دوران اسپتالوں میں اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
قرہ نے کہا، ’’یہ نوجوان ڈاکٹر معمول کے مطابق طویل اور انتہائی کٹھن اوقات کار انجام دیتے ہیں، جن میں ۳۶ گھنٹے تک کی شفٹیں بھی شامل ہیں۔ وہ پوری لگن اور عزم کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال اور اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔‘‘انہوں نے نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر میں میڈیکل انٹرنز کو دیا جانے والا وظیفہ ملک کے کئی دوسرے حصوں میں دی جانے والی رقم کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
کانگریسی لیڈر نے کہا، ’’جبکہ ملک کے دوسرے حصوں میں مساوی ذمہ داریوں اور اوقاتِ کار کے عوض انٹرنز کو بہتر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، ایسے میں ہمارے میڈیکل انٹرنز کی جانب سے وظیفے میں مناسب اضافے کا مطالبہ سنجیدہ غور کا مستحق ہے۔‘‘
قرہ نے عمر عبداللہ پر زور دیا کہ وہ متعلقہ حکام کو ہدایت دیں کہ احتجاج کرنے والے انٹرنز سے بات چیت کریں، ان کی شکایات سنیں اور مسئلے کا جلد اور اطمینان بخش حل نکالنے کی کوشش کریں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ اس مرحلے پر حکومت کی مثبت مداخلت نہ صرف طبی شعبے سے وابستہ افراد کی ایک جائز تشویش کا ازالہ کرے گی بلکہ ان نوجوان ڈاکٹروں کا حوصلہ بھی بلند کرے گی جو اسپتالوں اور طبی اداروں کے نظام کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
قرہ نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس معاملے کو ترجیح دے گی اور جموں و کشمیر میں میڈیکل انٹرنز کے وظیفے میں ان کی ذمہ داریوں اور ملک کے دیگر حصوں میں رائج وظیفوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بامعنی اضافہ کرے گی۔
انٹرنز کا کہنا ہے کہ ان کا وظیفہ تقریباً سات برس سے برقرار ہے، حالانکہ وہ متعدد مرتبہ نمائندگی اور احتجاج کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس دوران زندگی گزارنے کی لاگت اور کئی دوسری ریاستوں میں انٹرنز کو ملنے والے وظیفے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انٹرنز کی جانب سے پیش کیے گئے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق اوڈیشہ ماہانہ۴۴ہزار۳۱۹ روپے کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ مغربی بنگال میں۴۳ہزار۹۹ روپے اور آسام میں۳۵ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔
کرناٹک میں ماہانہ وظیفہ۳۰ہزار ہزار روپے ہے، جبکہ کیرالہ میں۲۷ہزار۳۰۰روپے اور دہلی و میگھالیہ میں۲۶ہزار۳۰۰روپے ماہانہ دیا جاتا ہے۔تلنگانہ میں یہ رقم۲۵ہزار۹۰۰ روپے درج ہے، جبکہ اروناچل پردیش اور اتر پردیش میں۲۵ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔
تمل ناڈو میں بھی وظیفہ تقریباً۲۵ ہزار روپے ہے، اس کے بعد ہریانہ میں۲۴ہزار۳۱۰روپے اور آندھرا پردیش میں تقریباً۲۱ہزار۸۴۰ روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔
گجرات، بہار، گوا اور ہماچل پردیش میں ماہانہ وظیفہ تقریباً۲۰ ہزار روپے ہے، جبکہ پڈوچیری میں یہ۱۸ ہزار روپے ہے۔
ان اعداد و شمار کے تناظر میں جموں و کشمیر کے انٹرنز کا یہ مطالبہ کہ ان کا ماہانہ وظیفہ۱۲ہزار۳۰۰ روپے سے بڑھا کر۳۰ ہزار روپے کیا جائے، حکومت کے سامنے ایک اہم مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)










