کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں……. کیا آپ کو لگا کہ ہم سوچ نہیں سکتے ہیں؟ اجی، ایسا نہیں ہے۔ ہم سوچ سکتے ہیں اور اللہ میاں کی قسم، ہم سوچتے ہیں……. یہ سوچتے ہیں کہ……. کہ کیا ہوتا، جی ہاں، کیا ہوتا اگر یہ وعدے اور دعوے سچے ہوتے؟ اگر وعدے اور دعوے کرنے والے جھوٹے نہیں ہوتے؟ اگر ایسا نہیں ہوتا اور یہ سچ میں سچے ہوتے تو……. تو سوچئے، ہم کیا ہوتے؟ ہمارا کشمیر کیا ہوتا……. حقیقت میں جنت ہوتا۔ہاں، ہم بھی مانتے ہیں کہ کشمیر آج بھی جنت ہے، لیکن کسی مغل بادشاہ کی شاعری میں اور سیاحوں کے تاثرات میں ہے……. عملی طور پر نہیں، اور بالکل بھی نہیں۔سوچئے، پھر کشمیر میں کیا ہوتا؟ یا یہ کہ کشمیر میں کیا نہیں ہوتا……. یہاں ترقی ہوتی، یہاں خوشحالی ہوتی، لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں ہوتیں، انہیں بے روزگاری کا مسئلہ ہوتا اور نہ روزگار کی کوئی فکر۔ ٹریفک جام ہوتے اور نہ آلودگی کا کوئی مسئلہ ہوتا۔ کتوں، آوارہ کتوں کی اتنی مضبوط فوج ہوتی اور نہ ان کے کاٹ کھانے والوں کی فوج……. متاثرین کی فوج ہوتی۔شہر میں گندگی کا کوئی مسئلہ ہوتا اور نہ جگہ جگہ پھول دانوں کے بجائے کوڑے دان ہوتے، جن میں کتے کمینے غوطہ زن رہتے……. ہسپتالوں میں ہزاروں مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر نہیں ہوتا……. یا ایک ہی ڈاکٹر نہیں ہوتا، اور نہ سینکڑوں میل بعد کوئی دوسرا شفاخانہ ہوتا۔رشوت ہمارے دفاتر سے ہی نہیں بلکہ ہماری زندگی سے بھی غائب ہو چکی ہوتی۔ ہر ایک کام سلیقے سے ہوتا……. سلیقہ لوگوں میں ہوتا اور ان پر حکومت کرنے والوں میں بھی۔لیکن کیا کیجیے گا کہ نہ دعوے سچے ہوتے ہیں اور نہ وعدے……. کہ وعدے اور دعوے کرنے والے جانتے ہیں……. پہلے دن سے جانتے ہوتے ہیں کہ ان کے وعدے اور ان کے دعوے ان کی ہی طرح جھوٹے ہیں۔لیکن……. لیکن پھر بھی ان کی زبان میں ایسا طلسم ہوتا ہے کہ لوگ اس طلسم میں آ ہی جاتے ہیں اور ان کے ان جھوٹے دعوؤں اور وعدوں کو سچا سمجھ کر ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اور ہاں، اعتبار بھی۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔





