نئی دہلی، 18 جولائی (یو این آئی) بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی)، ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی)، ویسٹ انڈیز اور دنیا بھر کے نامور کرکٹروں نے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔
آئی سی سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے سر گیری سوبرز کو کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں اور ہال آف فیم کے رکن کے طور پر یاد کیا، جبکہ بی سی سی آئی نے ایک خصوصی ویڈیو جاری کی، جس میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما سمیت ہندوستانی ستارے ان سے عقیدت کے ساتھ ملاقات کرتے دکھائی دیے۔
ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز برائن لارا نے انسٹاگرام پر سر گیری سوبرز کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، "ہمارا عظیم ترین کھلاڑی اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔ میں ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ خدا انہیں اس مشکل وقت میں صبر عطا فرمائے۔”
سچن تندولکر نے ایکس پر لکھا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ سر گیری اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ انہوں نے 2003 کے عالمی کپ کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سر گیری نے انہیں ‘پلیئر آف دی ٹورنامنٹ’ کی ٹرافی دی تھی اور بعد میں ان کی سنچری پر مبارک باد دی تھی، وہ لمحات ہمیشہ یاد رہیں گے۔ سچن نے کہا کہ لندن میں ان سے ہونے والی آخری ملاقات اب ایک انمول یاد بن چکی ہے۔
وراٹ کوہلی نے اپنے پیغام میں کہا، "کرکٹ نے اپنے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک کو کھو دیا ہے۔ سر گیری سوبرز کی میراث آنے والی نسلوں کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی۔”
1983 میں ہندوستان کو پہلا عالمی کپ جتوانے والے سابق کپتان کپل دیو نے سر گیری سوبرز کو کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کھیل نے بے شمار کرکٹروں کو متاثر کیا اور ان کے ریکارڈ آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
سابق کپتان سنیل گاوسکر نے انہیں کرکٹ کا "سب سے قیمتی ہیرا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ میدان کے اندر اور باہر ایک مکمل شریف النفس انسان تھے۔
سابق ہندوستانی اوپنر ویرندر سہواگ نے کہا کہ "آل راؤنڈر” کی اصطلاح دراصل سر گیری سوبرز جیسے کھلاڑی کے لیے ہی وجود میں آئی تھی۔
واضح رہے کہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں شمار کیے جانے والے سر گیری سوبرز کا 89 برس کی عمر میں بارباڈوس میں انتقال ہو گیا۔





