نئی دہلی، 28 اگست (یو این آئی) دفاعی پیداوار کے شعبے نے دفاعی برآمدات کو فروغ دینے کے مقصد سے ہندستانی دفاعی کمپنیوں کے لیے طریقہ کار کی ضروریات کو کم کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں تک تیزی سے رسائی کو آسان بنانے کی غرض سے دفاعی برآمدات کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) اور اوپن جنرل ایکسپورٹ لائسنس فریم ورک (او جی ای ایل) کو آسان بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کی ہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق ترمیمی دفاعی برآمدات کے معیاری طریقہ کار کے تحت، زیادہ تر ممالک کو غیر مہلک دفاعی سامان کی برآمد کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے مشورے کی ضرورت کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ حساس ممالک کے لیے حفاظتی تدابیر برقرار رکھی گئی ہیں۔ بین الاقوامی ٹینڈرز اور نمائشوں کے لیے تمام سامان کی برآمد کے لیے بھی مشورے کی ضرورت ختم کر دی گئی ہے۔
او جی ای ایل کے فریم ورک میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ اہم پلیٹ فارمز، آلات، پرزوں اور اجزاء نیز کمپنیوں کے اندر ٹیکنالوجی کی منتقلی کا احاطہ کرنے والے تین موجودہ معیاری طریقہ کار کو ایک مربوط معیاری طریقہ کار میں ضم کر دیا گیا ہے۔
او جی ای ایل کی مدت 2 سال سے بڑھا کر 3 سال کر دی گئی ہے۔ اس کے دائرے کو بھی 41 ممالک سے بڑھا کر تمام ممالک تک کر دیا گیا ہے، سوائے منفی یا حساس ممالک اور ان ممالک کے جو اقوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل کی پابندیوں یا اسلحہ کی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
ترمیمی فریم ورک میں غیر ملکی اصل سامان تیار کرنے والوں (ایف او ای ایم) کے ساتھ طویل مدتی معاہدے یا سمجھوتے رکھنے والی ہندستانی کمپنیوں کے لیے ایک التزام ہے۔ اس کے تحت مقررہ شرائط کے تابع، اہل سامان اور متعلقہ ایف او ای ایم کے لیے او جی ای ایل فراہم کیا جا سکتا ہے، جس کی مدتِ کار بنیادی معاہدے یا سمجھوتے کے مطابق ہوگی۔
او جی ای ایل کے تحت شامل سامان کے زمرے میں وسعت لائی گئی ہے۔ ترمیمی فریم ورک چھوٹے کیلیبر کے ہتھیاروں کے مخصوص پرزوں اور اجزاء نیز حفاظتی آلات کے سولین اینڈ-یوز والی برآمد کی بھی اجازت دیتا ہے۔
اصلاحات کے تحت حساس سامان، ٹیکنالوجیز اور مقاصد کے لیے حفاظتی تدابیر برقرار رکھتے ہوئے باقاعدہ طریقہ کار کی ضروریات کو کم کیا گیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ ان اقدامات سے ہندستانی دفاعی مینوفیکچررز، جن میں ایم ایس ایم ای بھی شامل ہیں، کو بین الاقوامی ٹینڈرز اور نمائشوں کے لیے زیادہ تیزی سے ردِعمل دینے، عالمی منڈیوں تک وسیع رسائی حاصل کرنے اور بار بار اجازت کی ضروریات کو کم کرنے میں فائدہ ہونے کی امید ہے۔
یہ اصلاحات ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب دفاعی پیداوار 1.78 لاکھ کروڑ روپے کی اب تک کی اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ گئی اور مالی سال 2025-26 میں دفاعی برآمدات ریکارڈ 38,424 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔










