نئی دہلی، 25 اگست (یو این آئی) زبردست مانسونی بارش کے باعث پیر کے روز دہلی اور قومی دارالحکومت کے علاقے (این سی آر) میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ کئی علاقوں میں سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، فضائی آمد و رفت متاثر ہوئی اور دارالحکومت اور آس پاس کے شہروں میں کئی مقامات پر مسافر اور گاڑیوں کے ڈرائیور پھنس گئے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے دہلی کے کچھ حصوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ، بارش سے پروازوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی۔ اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آنے والی 15 پروازوں کا راستہ تبدیل کیا گیا۔ ان میں تین بین الاقوامی پروازوں سمیت 12 پروازوں کو جے پور بھیجا گیا، جب کہ دو پروازیں چندی گڑھ اور ایک لکھنؤ میں اتری۔ دہلی کے اہم موسمی مرکز صفدر جنگ میں 34.6 ملی میٹر بارش درج کی گئی، جسے درمیانی زمرے میں رکھا گیا ہے۔ تاہم، دہلی کے مختلف علاقوں میں بارش کی مقدار میں کافی فرق رہا۔ جنک پوری میں 70 ملی میٹر اور ایانگر میں 69.1 ملی میٹر بارش ہوئی۔ دونوں مراکز پر بارش شدید زمرے کی رہی۔ پالم میں 58.2 ملی میٹر، رج میں 43.2 ملی میٹر اور لودھی روڈ میں 41.7 ملی میٹر بارش درج کی گئی، جو درمیانی بارش کے زمرے میں رہی۔
آئی ایم ڈی کے شام کے بلیٹن کے مطابق این سی آر میں فرید آباد میں 58 ملی میٹر، گڑگاؤں کی نارتھ کیپ یونیورسٹی کی آبزرویٹری میں 38 ملی میٹر اور غازی آباد میں 13 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، 15.5 ملی میٹر تک بارش کو ہلکی، 15.6 ملی میٹر سے 64.4 ملی میٹر تک کو درمیانی اور 64.5 ملی میٹر سے 115.5 ملی میٹر تک کو شدید بارش مانا جاتا ہے۔ شدید بارش کے باعث دہلی کے کئی حصوں میں جل بھراؤ ہو گیا۔ ان میں منیرکا، زخیرہ انڈر پاس، کناٹ پلیس، درگا وہار، سنگم وہار، نیو اشوک نگر میٹرو اسٹیشن، بوڑاری، سی آر پارک اور الکنندا شامل ہیں۔ کناٹ پلیس میں پارکنگ کی جگہیں پانی میں ڈوب گئیں اور کئی گاڑیاں گھٹنوں تک بھرے پانی میں کھڑی دکھائی دیں۔ جنوبی دہلی کے سنگم وہار میں اسکول سے لوٹ رہی کچھ طالبات پانی سے بھری سڑکوں میں پھنسی اپنی وین کو دھکا دیتی دکھائی دیں۔ وہیں، کئی دیگر لوگ رانوں تک بھرے پانی سے گزرتے نظر آئے۔ بارش کے باعث پورے شہر میں سڑکوں کی آمد و رفت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ اہم سڑکوں پر لمبے جام لگے رہے اور پانی سے بھری سڑکوں پر گاڑیاں بہت سست رفتار سے چلتی رہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ شدید بارش سے آمد و رفت متاثر ہو سکتی ہے، حادثات ہو سکتے ہیں، بجلی کی فراہمی منقطع ہو سکتی ہے اور کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ محکمہ نے لوگوں کو تیز بارش کے دوران ضروری نہ ہونے پر سفر سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا۔ پرانی دہلی میں بارش کے دوران چاندنی محل علاقے میں ایک بوسیدہ عمارت کا کچھ حصہ گر گیا۔ اس سے وہاں کھڑی تین سے چار دوپہیہ گاڑیاں متاثر ہوئیں۔ حادثے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
غازی آباد میں لونی کی دہلی-سہارنپور روڈ پر پانی بھر گیا اور سڑک کو نقصان پہنچا۔ پانی سے بھری سڑک پر ایک آٹو رکشہ پلٹ گیا۔ حادثے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ گڑگاؤں میں بارش کا اثر مزید سنگین رہا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی بارش نے شہر کے نکاسی آب کے نظام کو مکمل طور پر متاثر کر دیا۔ ضلعی انتظامیہ نے دفاتر کو ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے اور اسکولوں کو آن لائن کلاسز چلانے کا مشورہ دیا۔ شہر میں پیر کی دوپہر تک تقریباً 70 ملی میٹر بارش ہو چکی تھی۔ راجیو چوک، پرانی دہلی روڈ، ریلوے روڈ، مہراولی روڈ، بسئی روڈ اور این ایچ-48 سمیت اہم سڑکوں پر بھاری جل بھراؤ اور ٹریفک جام رہا۔ کئی گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے پانی سے بھری سڑکوں پر بند ہوئی اپنی گاڑیاں چھوڑ دیں۔ وہیں، اسکول کے بچوں نے پانی میں ڈوبی سڑکوں اور پانی میں چھپے کھلے مین ہول سے بچنے کے لیے اونچے بس اسٹاپس پر پناہ لی۔ ساؤتھ سٹی-1، سیکٹر 29، سیکٹر 45، سیکٹر 52 اے، سوہنا روڈ، ڈی ایل ایف فیز-3، اردی سٹی اور نرسنگھ پور میں بھی جل بھراؤ کی اطلاع ملی۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ پیر کے روز گرج چمک، آسمانی بجلی اور تیز ہواؤں کے ساتھ درمیانی بارش اور کچھ مقامات پر شدید بارش جاری رہنے کا امکان ہے۔ منگل سے بارش کی سرگرمی کم ہونے کا امکان ہے۔ پیش گوئی کے مطابق، منگل کو آسمان میں عام طور پر بادل چھائے رہیں گے اور ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔ ہفتے کے بعد کے دنوں میں موسم کے نسبتاً خشک رہنے کا امکان ہے










