واشنگٹن، 25 اگست (یو این آئی) امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی ایک غیر معمولی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے شروع کی گئی یہ مہم دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی روابط منقطع کرنے اور اس کی حکومت اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو مالی وسائل فراہم کرنے والے ذرائع ختم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی مہم کا ہدف تہران کے لیے آمدنی پیدا کرنے والے نیٹ ورکس ہیں اور ان ممالک و کمپنیوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایرانی حکومت کے ساتھ کاروباری روابط جاری رکھنے کی صورت میں انہیں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ نے کہا، ’’ہمارا مقصد اس آمرانہ حکومت کو برقرار رکھنے والی ہر معاشی لائف لائن منقطع کرنا ہے، جب تک تہران مکمل طور پر تنہا نہ ہو جائے۔‘‘
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی مہم کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری جہاز رانی کے شعبوں میں پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ محکمہ خزانہ نے 60 سے زائد اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر ایران کو جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے، سائبر کارروائیاں کرنے اور تیل سے آمدنی حاصل کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ ’’زیرو لیکیج‘‘ پالیسی اختیار کرے گا، جس کے تحت ایرانی اداروں یا ان کے بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے پابندیوں سے بچنے کی گنجائش انتہائی محدود ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’اس حکومت کو امریکہ اور دنیا کے خلاف دہشت گردی مسلط کرنے کی اپنی صلاحیت دوبارہ بحال کرنے کے لیے سانس لینے کی معمولی سی مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ ایرانی لین دین میں سہولت فراہم کرنے والے مالیاتی ادارے اور دیگر کاروباری ادارے امریکی مالیاتی نظام تک اپنی رسائی کھو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ایران کی جانب سے منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ادارے کو امریکی ڈالر کے نظام سے نکال دیا جائے گا۔‘‘
صحافیوں نے بیسنٹ سے سوال کیا کہ کیا چینی بینکوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی تعلقات ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے مخصوص اداروں کے نام بتانے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ کوئی بھی ملک یا مالیاتی ادارہ اس مہم سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’کوئی بھی امریکی پابندیوں کی پہنچ سے بالاتر نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی تیل کو ایسی آمدنی میں تبدیل کرنے میں ملوث اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جو ایرانی حکومت کی معاونت کرتی ہے۔
بیسنٹ نے خبردار کیا، ’’جب امریکی محکمہ خزانہ کی کارروائی کا ہتھوڑا ان پر پڑے گا تو اس کا الزام کسی اور پر نہیں بلکہ خود ان پر ہوگا۔‘بیسنٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود غیر ملکی رہنماؤں سے رابطہ کر رہے ہیں اور ان سے ایرانی اقتصادی نیٹ ورکس کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ محکمہ خزانہ، محکمہ خارجہ اور امریکی فوج بھی غیر ملکی حکومتوں سے رابطے کر رہے ہیں اور ان سے واشنگٹن کی جانب سے نشاندہی کی گئی سرگرمیاں بند کرنے کی توقعات واضح کر رہے ہیں۔
انتظامیہ نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ کن حکومتوں سے رابطہ کیا گیا ہے یا انہیں کیا مخصوص ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
بیسنٹ نے کہا، ’’ہمارے پاس یہاں لامحدود صبر نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جو ممالک واشنگٹن کے ساتھ تعاون کریں گے انہیں امریکی شراکت داری سے فائدہ ہوگا، جبکہ ایرانی تجارت میں سہولت فراہم کرنے والے ممالک کو مزید بڑھتی ہوئی تنہائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
محکمہ خزانہ کے اقدامات میں ایران کی جانب سے پٹرولیم کی منتقلی، بین الاقوامی مالیاتی ذرائع تک رسائی اور تیسرے ممالک کے ذریعے ٹیکنالوجی و دیگر وسائل کے حصول کی صلاحیت کو محدود کرنا شامل ہے۔
بیسنٹ نے اس مہم کو تہران کے سامنے معاشی تنہائی اور عالمی معیشت میں دوبارہ شمولیت کے درمیان انتخاب کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ایران کو اب ایک بالکل واضح انتخاب کا سامنا ہے، اس کے سامنے صرف دو راستے ہیں: مکمل عالمی تنہائی اور محض گزر بسر کی معیشت، یا معمول کی صورتحال کی جانب واپسی اور عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع۔‘‘
انہوں نے کہا کہ امریکی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایرانی حکومت تنہا نہیں ہو جاتی۔
بیسنٹ نے کہا، ’’آج شروع ہونے والی یہ مہم ہر گزرتے دن کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی اور اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک یہ حکومت تنہا نہیں ہو جاتی۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ نے معاشی مہم کو ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی وسیع تر کوششوں سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے اس مقصد کے لیے ’’بنیاد فراہم کر دی ہے۔‘‘
سوال و جواب کے دوران بیسنٹ سے ایران تنازع کے تیل کی قیمتوں، طویل مدتی امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع اور حکومت کی قرضے جاری کرنے کی حکمت عملی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ انتظامیہ اب بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کو طویل مدتی قرض لینے کی لاگت کم ہونے کے لیے معاون سمجھتی ہے، تاہم انہوں نے ٹریژری بانڈز کی مدت یا نیلامیوں کے حجم میں تبدیلی کے امکان کو فوری طور پر مسترد یا قبول نہیں کیا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سرمایہ کار ایران پر انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں توانائی کی منڈیوں، عالمی تجارتی بہاؤ اور ایرانی تجارت سے وابستہ مالیاتی اداروں پر ممکنہ اثرات شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ 2 لاکھ پناہ کے متلاشی افراد کے بی1، بی2 ویزے منسوخ کرنے کی تیاری میں
واشنگٹن، 25 اگست (یو این آئی) امریکہ 2 لاکھ تک ایسے غیر ملکیوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے کی تیاری کر رہا ہے جنہوں نے ملک میں پناہ کی درخواست دی ہے یا پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے یہ اطلاع دی ہے۔
اے پی نے محکمہ خارجہ کی دستاویزات اور دو امریکی حکام کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو رپورٹ کیا کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ امریکی تاریخ میں ’’ویزوں کی ایک ہی مرتبہ میں سب سے بڑی اجتماعی منسوخی‘‘ ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے تعاون سے اس اقدام کا اعلان کرنے کی توقع ہے۔
اس کارروائی کا ہدف 2016 سے 2026 کے درمیان جاری کیے گئے بی1 اور بی2 ویزے ہوں گے، جن کے حامل افراد نے پناہ کی درخواست دی ہے یا اب پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا، ’’ہم ڈی ایچ ایس کے ساتھ مل کر ایسے غیر ملکیوں کے غیر تارکینِ وطن ویزے منسوخ کرنے کی نشاندہی کر رہے ہیں جو مختصر مدت کے سیاحتی یا کاروباری دورے کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکہ آئے، لیکن بعد میں مستقل طور پر قیام کے لیے پناہ کی درخواست دے دی۔‘‘
اے پی کے حوالے سے امریکی حکام نے کہا کہ ویزوں کی منسوخی سے خودکار طور پر ملک بدری نہیں ہوگی۔اس کے بجائے، زیرِ التوا پناہ کے زیادہ تر مقدمات رکھنے والے افراد کو امیگریشن کی ایک مختلف حیثیت میں منتقل کر دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ان کی کاروباری یا سیاحتی ویزے کی حیثیت ختم ہو جائے گی، جبکہ ان کے مقدمات پر کارروائی جاری رہے گی۔
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے پیر کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول سیاحتی اور کاروباری ویزوں کے ذریعے امریکہ میں داخل ہو کر بعد میں پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔
لینڈاؤ نے ایکس پر لکھا، ’’امریکہ اور دنیا بھر کے لوگ جعلی پناہ کی درخواستوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ پناہ گزین کا درجہ امیگریشن قانون سے بچنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ سال دوسری مدت کے لیے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی انتظامیہ نے ویزا درخواست گزاروں پر پابندیاں مسلسل سخت کی ہیں۔ ان اقدامات میں درخواست گزاروں سے ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات طلب کرنا، ویزا کارروائی کے لیے مہنگے بانڈز جمع کرانے کی شرط اور بعض ممالک کے شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا پر مکمل پابندی شامل ہے۔
گزشتہ 18 ماہ کے دوران محکمہ خارجہ تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار ویزے بھی منسوخ کر چکا ہے۔ ان میں ایسے افراد شامل ہیں جنہیں نشے کی حالت میں گاڑی چلانے سے لے کر عصمت دری اور ڈکیتی جیسے جرائم میں سزا سنائی گئی یا ان پر الزامات عائد کیے گئے، جبکہ بعض افراد کے ویزے امریکی پالیسیوں، بالخصوص مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں پر عوامی سطح پر تنقید کرنے کی وجہ سے بھی منسوخ کیے گئے ہیں۔









