ماسکو، 25 اگست (یو این آئی) وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی اور ہندوستان و روس کے درمیان اقتصادی تعاون میں ’’بہت نمایاں‘‘ اضافے کو اجاگر کیا۔ دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، کھاد، جوہری توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی۔
دو روزہ دورہ ماسکو پر موجود جے شنکر نے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پوتن کو نیک خواہشات اور ذاتی پیغام پہنچایا۔ انہوں نے دن کے اوائل میں منعقدہ ہندوستان-روس بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کے نتائج سے بھی روسی صدر کو آگاہ کیا۔
جے شنکر نے پوتن سے کہا، ’’میں وزیر اعظم نریندر مودی کی نیک خواہشات پہنچانے سے آغاز کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے آپ کے لیے ایک ذاتی پیغام دیا ہے جو میں آپ کے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون سے متعلق کمیشن کے جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ مجموعی صورتحال مثبت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’مجموعی طور پر میرا خیال ہے کہ ہمارے اقتصادی تعاون میں بہت نمایاں اضافہ ہوا ہے۔‘‘
جے شنکر نے وزیر اعظم مودی کی پوتن کے ساتھ آئندہ ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس میں روسی صدر سے ملاقات کے منتظر ہیں، جبکہ اس کے بعد نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں ان کی میزبانی کریں گے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کا 26واں سالانہ اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر 2026 تک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہوگا۔ اس کے علاوہ 18واں برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ ہندوستان اس سال برکس کی گردشی صدارت سنبھال رہا ہے، جس کا موضوع ’’لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر‘‘ ہے۔
جے شنکر نے کہا، ’’وزیر اعظم مودی ایس سی او سربراہی اجلاس میں آپ سے ملاقات کے منتظر ہیں، اس کے بعد وہ برکس سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان میں آپ کا استقبال کریں گے اور پھر مناسب وقت پر باہمی سہولت کے مطابق سالانہ سربراہی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔‘‘
پوتن نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ ملاقات کئی دہائیوں کے دوران ہندوستان اور روس کے درمیان قائم ہونے والے گہرے تعلقات کی عکاس ہے۔ انہوں نے سیاسی، پارلیمانی اور اقتصادی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو بھی اجاگر کیا۔
روسی صدر نے کہا کہ گزشتہ سال معمولی کمی کے بعد اس سال دوطرفہ تجارت میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس رفتار میں وزیر اعظم مودی کی ہندوستان-روس تعلقات پر ذاتی توجہ کو بھی اہم قرار دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پیوٹن نے جے شنکر سے کہا کہ وہ مودی کو اپنی نیک خواہشات پہنچائیں اور امید ظاہر کی کہ وہ جلد ہی ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔
توانائی، کھاد اور جوہری تعاون پر توجہ
پیوٹن نے توانائی اور کھاد کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس بھارت کو کھاد کی فراہمی بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے جوہری توانائی، اعلیٰ ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں جاری تعاون کا بھی ذکر کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو روایتی شعبوں سے آگے مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس سے قبل پیر کو جے شنکر نے روس کے پہلے نائب وزیر اعظم ڈینس مانتوروف کے ساتھ بھارت-روس تجارت، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون سے متعلق 27ویں بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔
کمیشن کے اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، کھاد، جوہری توانائی، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
جے شنکر کا ماسکو کا دورہ 23 اگست کو شروع ہوا اور 24 اگست کو اختتام پذیر ہوا۔ پیوٹن کے ساتھ ان کی ملاقات ایس سی او اور برکس سربراہی اجلاسوں سمیت متعدد اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں سے قبل ہوئی ہے، جو بھارت اور روس کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کی مسلسل اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔









