اور ہم سوچ؟ ……. سوچ نہیں بلکہ یقین کر بیٹھے تھے کہ اندھ بھکت صرف ہمارے یہاں ہیں، سرحد کے اِس پار ہیں، اُس پار نہیں۔ لیکن صاحب ہم غلط تھے اور…….اور ہم اس غلطی پر معذرت خواہ ہیں اور اس لیے ہیں کیونکہ اُس پار اندھ بھکتوں کی ایک ایسی نایاب فوج ہے جو کسی اور ملک میں نہیں ہے……. ویسے سرحد کے اُس پار کی جو فوج ہے، اس کے بارے میں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ ایسی فوج کسی اور ملک میں نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے‘جو ملک کیلئے ہو نہ ہو لیکن ملک اس کیلئے ہے اور سو فیصد ہے۔خیر!تو صاحب ہوا یوں کہ اپنے خان صاحب……. عمران خان صاحب کو رات کی تاریکیوں میں ہسپتال طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا اور چند گھنٹوں بعد واپس سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا……. یوںاُس پار کے اندھ بھکتوں کی فوج کی خوشیاں چار دنوں……. معاف کیجئے چار گھنٹوں کی چاندنی ثابت ہوئی، جس کے بعد پھر اندھیرا ہوا……. خان کی کوٹھری جیسا اندھیرا۔اس پر اندھ بھکتوں کی فوج سخت بیزار ہے اور حکومتِ پاکستان کو برا بھلا کہہ رہی ہے……. کہنے دیجئے نا، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے……. اعتراض ہے تو صرف اس ایک بات پر ہے کہ اُس پار کے یہ اندھ بھکت خان صاحب کو جمہوریت کا علمبردار قرار دے رہے ہیں……. جمہوریت کا علمبردار؟ صاحب، اس سے بڑی گالی جمہوریت کو اور کچھ نہیں ہو سکتی ہے، اگر خان صاحب کو اس کا علمبردار اور ناخدا قرار دیا جائے کہ……. کہ لوگ اور اُس پار کے اندھ بھکت بھول گئے ہیں کہ جب خان صاحب کو وزیر اعظم پاکستان بنایا گیا تو جمہوریت اور جمہوری اصولوں کو کیسے روندا گیا……. کسی اور نے نہیں بلکہ آج خان صاحب کی دشمنی پر اتر آئی پاکستانی فوج نے روندا……. تاکہ خان صاحب کو ملک کا وزیر اعظم بنایا جائے۔پاکستان کی فوج آج بھی جمہوریت کو اپنے پاؤں تلے روند رہی ہے، ہاں ساتھ ساتھ خان صاحب کو بھی۔لیکن ان اندھ بھکتوں کو کوئی سمجھائے……. بس یہ ایک بات سمجھائے کہ خان صاحب کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن وہ جمہوریت کے علمبردار اور جمہوریت پسند نہیں ہو سکتے ہیں۔ خان صاحب ڈکٹیٹر ہیں، ایسے ڈکٹیٹر جس کی سیاست اور سیاست کے طرزِ عمل نے ہمسایہ ملک کو سیاسی طور پر اسی طرح تقسیم کیا جس طرح……. سمجھ گئے نا آپ۔لیکن یہ بات اُس پار کے اندھ بھکتوں کو نظر نہیں آ رہی ہے اور اس لیے نہیں آ رہی ہے کیونکہ وہ اندھے ہیں……. اندھ بھکت ہیں۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔





