پانچ زون پر مشتمل پالیسی میں عمومی، باہمی، انتظامی، ہمدردانہ/ترجیحی اور خصوصی روٹیشن کی بنیاد پر تبادلوں کی بھی گنجائش
سرینگر/ ۲۰ ؍اگست
جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ اسکولی تعلیم نے اپنے ملازمین کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے لیے جامع ٹرانسفر پالیسی وضع کردی ہے، جس کا مقصد تبادلوں اور تعیناتیوں کے عمل میں زیادہ شفافیت، جواب دہی اور معروضیت کو یقینی بنانا ہے۔
محکمہ اسکولی تعلیم کی جانب سے یہ پالیسی آج جاری کردہ سرکاری حکم نامےکے ذریعے نافذ کی گئی ہے۔ حکم نامے پر حکومت کے کمشنر/سیکریٹری، محکمہ اسکولی تعلیم، رام نواس شرما، آئی اے ایس نے دستخط کیے ہیں۔
نئی پالیسی محکمہ اسکولی تعلیم کے تحت خدمات انجام دینے والے اساتذہ، ماسٹرز، لیکچررز، ہیڈ ماسٹرز، پرنسپلز، زونل ایجوکیشن افسران، چیف ایجوکیشن افسران اور مساوی عہدوں پر فائز اہلکاروں کے تبادلوں اور تعیناتیوں پر لاگو ہوگی۔
پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں کو سالانہ ٹرانسفر ڈرائیو (اے ٹی ڈی) کیلئے پانچ وسیع زونز، یعنی زون-I، زون-II، زون-III، زون-IV اور زون-V میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ زون-V کو مشکل علاقے کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
زون-I، زون-II اور زون-III میں تعینات ملازمین کی کسی ایک ادارے میں معمول کی مدتِ تعیناتی تین سال ہوگی، جبکہ زون-IV میں دو سال اور زون-V میں ایک سال ہوگی۔
پالیسی کے مطابق زون-V میں مقررہ مدت مکمل کرنے والے ملازمین کو عموماً مزید تعیناتی کے لیے ریلیو کیا جائے گا۔ زون-V میں مدت مکمل کرنا زون-I یا زون-II میں موزوں خالی آسامیوں پر تعیناتی کے لیے ترجیحی دعوے کا بھی باعث بنے گا، تاہم یہ انتظامی ضروریات سے مشروط ہوگا۔
محکمہ نے قرار دیا ہے کہ تبادلے اور تعیناتیاں معمول کے مطابق مقررہ آن لائن ٹرانسفر پورٹل کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔ ڈائریکٹوریٹس میں ملازمین کی تعیناتی کی تاریخ، مدتِ تعیناتی، سروس کی تفصیلات اور تبادلوں کا ریکارڈ رکھنے پر مشتمل تازہ ترین الیکٹرانک ڈیٹا بیس برقرار رکھا جائے گا تاکہ پالیسی کا شفاف نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔
پالیسی میں عمومی، باہمی، انتظامی، ہمدردانہ/ترجیحی اور خصوصی روٹیشن کی بنیاد پر تبادلوں کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
ہمدردانہ اور ترجیحی زمرے کے تحت سنگین طبی حالات، مقررہ معیار کی معذوری، اکیلے والدین، بیواؤں، سکیورٹی خدشات اور دیگر غیر معمولی انسانی بنیادوں پر مستحق معاملات پر غور کیا جا سکے گا، تاہم اس کے لیے دستاویزی ثبوت، تصدیق اور مجاز اتھارٹی کی منظوری ضروری ہوگی۔
پالیسی میں ملازمین کے مخصوص خاندانی اور ذاتی حالات کے لیے خصوصی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اگر میاں بیوی دونوں سرکاری ملازم ہوں تو دستیاب آسامیوں کے پیش نظر انہیں موزوں طور پر یا ایک دوسرے کے مناسب قریب تعینات کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ایک سال کے اندر ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ترجیحاً ان کی رہائش گاہ کے قریب تعینات کیا جا سکے گا۔ 58 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ملازمین کو معمول کے مطابق زون-IV یا زون-V میں تعینات نہیں کیا جائے گا، تاہم ناگزیر انتظامی ضرورت کی صورت میں اس سے استثنا دیا جا سکتا ہے۔
اکیلے والدین، بیواؤں، مطلقہ خواتین، خواتین ملازمین اور ایسے ملازمین کے معاملات کو بھی مناسب اہمیت دی جائے گی جن کے بچے مقررہ معیار کی معذوری کا شکار ہوں۔ مقررہ معیار کی معذوری رکھنے والے ملازمین کو بھی انتظامی امکانات اور دستیاب آسامیوں کے تابع سہولت والی جگہوں پر تعیناتی کے لیے زیر غور لایا جا سکے گا۔
پالیسی کے تحت محکمہ انتظامی بنیادوں پر غیر معمولی طبی یا سکیورٹی وجوہات کی صورت میں ملازم، اس کے شریک حیات یا زیر کفالت بچوں سے متعلق بین کیڈر یا مدتِ تعیناتی کے دوران تبادلے پر غور کر سکتا ہے۔
طبی معاملات میں ایسے جان لیوا یا دائمی کمزور کرنے والے مرض یا کم از کم 40 فیصد معذوری کو اہلیت میں شامل کیا گیا ہے جو ملازم، شریک حیات یا زیر کفالت بچے کو لاحق ہو۔ ایسے معاملات کے لیے اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ کی جانب سے جاری کردہ طبی سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔
سکیورٹی سے متعلق معاملات میں اسپیشل ڈائریکٹر جنرل، سی آئی ڈی ونگ کی سفارش ضروری ہوگی۔
پالیسی میں سالانہ تبادلوں کے لیے ایک مجوزہ شیڈول بھی مقرر کیا گیا ہے۔ متوقع خالی آسامیوں اور تبادلے سے متعلق اطلاعات اپریل/اکتوبر میں جاری کی جائیں گی، جس کے بعد مئی/نومبر میں درخواستیں اور تعیناتی کی ترجیحات طلب کی جائیں گی۔
عارضی اہلیت اور میرٹ فہرستیں جون/دسمبر میں جاری کی جائیں گی، جبکہ اعتراضات اور نمائندگیوں کی جانچ اور ان کا تصفیہ جون/جنوری میں کیا جائے گا۔ تبادلے اور تعیناتی کے احکامات جون-جولائی/جنوری-فروری میں جاری کیے جائیں گے۔تاہم انتظامی محکمہ تعلیمی ضروریات، انتظامی تقاضوں، عدالتی ہدایات یا دیگر ایسے حالات کے پیش نظر اس شیڈول میں تبدیلی کر سکتا ہے جو مقررہ اوقات میں ترمیم کا تقاضا کریں۔
نئی پالیسی کی ایک اہم خصوصیت آن لائن پوائنٹ بیسڈ ٹرانسفر اسیسمنٹ میٹرکس ہے، جس کا مقصد تبادلے کی ترجیحات کا منصفانہ اور شفاف تعین کرنا ہے۔زون-V میں مقررہ مدت مکمل کرنے والے ملازمین کو پانچ پوائنٹس دیے جائیں گے، جبکہ لازمی مدت سے زائد سروس پر اضافی پوائنٹس دیے جائیں گے۔ زون-IV میں سروس مکمل کرنے والے ملازمین کو بھی ان کی مدتِ تعیناتی کی بنیاد پر پوائنٹس دیے جائیں گے۔
میٹرکس میں 55 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ملازمین، بیوہ/مطلقہ/اکیلی والدین خواتین ملازمین، مقررہ معیار کی معذوری رکھنے والے افراد، ایک ہی ضلع میں تعینات سرکاری ملازم میاں بیوی، تسلیم شدہ تدریسی اعزازات حاصل کرنے والے اساتذہ، غیر معمولی تعلیمی کارکردگی، سنگین بیماری اور ایک سال کے اندر ریٹائر ہونے والے ملازمین کے لیے بھی پوائنٹس مختص کیے گئے ہیں۔
حکم نامے کے ضمیمہ-B میں پانچوں زونز کے لیے معیار مقرر کیا گیا ہے۔ زون-I میں ضلع صدر مقامات کی میونسپل حدود کے اندر واقع ادارے شامل ہیں، جبکہ زون-II میں میونسپل حدود سے باہر اور ضلع صدر مقام سے 20 کلومیٹر تک کے فاصلے پر واقع ادارے شامل ہوں گے۔
زون-III میں ضلع صدر مقام سے 20 کلومیٹر سے زیادہ اور 40 کلومیٹر تک کے فاصلے پر واقع ادارے شامل ہیں، جبکہ زون-IV میں ضلع صدر مقام سے 40 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع اور رہائش گاہ تبدیل کرنے کی ضرورت والے ادارے شامل ہیں۔
مشکل علاقے کے زمرے، یعنی زون-V میں کشتواڑ کے مڑواہ، دچھن اور وڑوان؛ ریاسی کے مہور اور چسانہ؛ راجوری کا خواص؛ کٹھوعہ کے ملہار اور بنی؛ ڈوڈہ کا بھلیسہ؛ رام بن کے گول اور کھڑی؛ کپواڑہ کے کرناہ، کرالپورہ، کپواڑہ، مژھل اور ترہگام؛ بانڈی پورہ کا گریز؛ اننت ناگ کا عیش مقام اور بارہمولہ کا اوڑی شامل ہیں۔
نئی پالیسی میں ادارہ جاتی، ضلعی اور مرکزِ زیر انتظام علاقے کی سطح پر تین درجاتی شکایات کے ازالے کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت کسی فیصلے یا کارروائی سے متاثرہ ملازمین متعلقہ فورم کے سامنے اپنی نمائندگی پیش کر سکتے ہیں۔ شکایت کو اگلی سطح پر لے جانے سے قبل عموماً نچلی مجاز سطح پر اس کا جائزہ لیا جائے گا۔
پالیسی میں کہا گیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، نمائندگیوں کا 15 دن کے اندر اندر تصفیہ کیا جائے گا اور فیصلے سے متعلقہ ملازم کو مقررہ طریقۂ کار کے مطابق آگاہ کیا جائے گا۔ مرکزِ زیر انتظام علاقے کی سطح پر قائم ٹرانسفر ریویو کمیٹی کا فیصلہ عموماً حتمی ہوگا، تاہم قانون کے تحت دستیاب قانونی چارہ جوئی کے حق برقرار رہیں گے۔
حکومت کے مطابق اس پالیسی کا مجموعی مقصد انسانی وسائل کی متوازن تعیناتی، عملے کی منصفانہ تقسیم، مؤثر انتظامیہ اور بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا بلا تعطل جاری رہنا یقینی بنانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک )









