سرینگر/ ۲۰ ؍اگست
جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق قرہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور کشمیر کے معاملے میں کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت مرکزی حکومت کی ’’ناکامی‘‘ ہے۔
ان کا یہ بیان امریکی سفیر برائے ہند سرجیو گور کے سری نگر کے دورے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
گور کے ریمارکس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں قرہ نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’چاہے وہ امریکی سفیر ہوں، امریکی وزیر خارجہ ہوں یا دنیا کا کوئی بھی سفارت کار، جو آج یہ کہتا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، اس نے کوئی غیر معمولی بات نہیں کہی۔ یہ ہمیشہ سے بھارت کا اٹوٹ حصہ رہا ہے اور پوری دنیا یہ جانتی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ بدھ کو مشترکہ پریس بریفنگ میں گور نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر بھارت کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ ایک انتہائی خوبصورت مقام ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مرکزی حکومت اور عمر عبداللہ کی جانب سے جموں و کشمیر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے پیش نظر امریکہ جموں و کشمیر کے سفر سے متعلق اپنی ایڈوائزری پر نظرثانی کرے گا۔
جب قرہ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی سفیر جموں و کشمیر کو بھارت کا داخلی یا اٹوٹ حصہ قرار نہ دے کر توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا کہ ’’الجھن‘‘ موجودہ حکومت کی ’’ناکام پالیسی‘‘ کی وجہ سے ہے۔
قرہ نے کہا، ’’کافی عرصے سے بھارتی حکومت کے معاملات میں امریکہ کی مداخلت بہت زیادہ رہی ہے۔ اور ایسا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب ہمارے ملک کی پالیسی ناکام ہو۔‘‘انہوں نے کہا، ’’آپ کو آپریشن سندور کے دوران یاد ہوگا کہ امریکی حکومت کی مداخلت کس حد تک رہی تھی۔ اس لیے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے ذہن میں یا ہندوستان کے لوگوں کے ذہن میں جو بھی الجھن ہے، وہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسی کی وجہ سے ہے۔‘‘
پاکستان کی جانب سے گور کے ریمارکس پر امریکی سفیر کو طلب کیے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نے کہا کہ یہ پڑوسی ملک کا داخلی معاملہ ہے۔
کانگریسی لیڈر نے کہا، ’’یہ ان کا داخلی معاملہ ہے کہ وہ انہیں طلب کر رہے ہیں۔ ہماری پالیسی یہ ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، ہمیشہ سے اٹوٹ حصہ رہا ہے اور آئندہ بھی اٹوٹ حصہ رہے گا۔‘‘
قرہ نے کہا، ’’جب بھارت اور پاکستان کے درمیان معاملے کی بات آتی ہے تو شملہ معاہدے کے بعد متعلقہ فریق بھارت اور پاکستان ہی ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’کانگریس کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کو تسلیم نہیں کرتی، کیونکہ ابتدا ہی سے ہماری یہی واضح پالیسی رہی ہے۔ آج اگر کہیں مداخلت ہوتی ہے یا کوئی پیشکش کی جاتی ہے تو یہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے۔‘‘
پاکستان نے بدھ کو امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کو طلب کیا تھا اور جموں و کشمیر سے متعلق گور کے ریمارکس پر ’’سخت احتجاج‘‘ درج کرایا تھا۔
دریں اثنا، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ کو اتنی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکی مداخلت نے دنیا بھر میں صرف تباہی پیدا کی ہے۔
محبوبہ نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’میرے خیال میں امریکہ کو اتنی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جہاں جہاں امریکہ نے مداخلت کی، وہاں ویتنام سے لے کر ایران تک تباہی ہوئی۔‘‘انہوں نے کہا، ’’وہ ہمارے آقا نہیں ہیں کہ وہ ہمیں کوئی سند دیں گے اور اس کے بعد ہی مذاکرات ہوں گے۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب امریکہ ایک سپر پاور تھا، لیکن دنیا کے مختلف حصوں میں اس کی مداخلت کے باعث اس کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا، ’’دن بہ دن، دنیا بھر میں اس کے کردار اور اس کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے باعث اس کی اقتصادی اور سیاسی حیثیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے ہمیں اسے اتنی سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔‘‘
محبوبہ نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ امریکی سفیر نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا ہو۔انہوں نے کہا، ’’فرق صرف یہ ہے کہ ۲۰۱۹ سے پہلے یہاں آنے والا کوئی بھی سفیر معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کرتا تھا، جن میں سیاحت، تجارت، سفری شعبے سے وابستہ افراد اور مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے لوگ بھی شامل ہوتے تھے۔ اس کے بعد وہ اپنی رائے قائم کرکے واپس جاتے تھے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۹ کے بعد، جب مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، ’’غیر ملکی شخصیات کے یہ تمام دورے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ہوتے ہیں۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’وہ یہاں آتے ہیں، وزیر اعلیٰ اور گورنر کے علاوہ کسی سے ملاقات نہیں کرتے، پھر شکارا کی سواری کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسائل کے حل کے حوالے سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان سے وہ متفق ہیں کہ ان کا حل امریکہ سے نہیں بلکہ مرکزی حکومت سے آئے گا۔
محبوبہ نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے مسائل کا حل امریکہ سے نہیں آ سکتا، نئی دہلی کو انہیں حل کرنا ہوگا۔ تاہم مجھے امید تھی کہ عمر کم از کم یہاں آنے والے امریکی سفیر کے سامنے جموں و کشمیر کے عوام کے خدشات ضرور رکھتے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’انہیں بتانا چاہیے تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جو حملہ کیا، اس پر ہمیں کس قدر تشویش ہے، جہاں ۱۵۰ سے زائد لڑکیاں شہید ہوئیں، قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور بمباری کی گئی۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ مسلم ممالک میں بدامنی کو ہوا دینے اور بلااشتعال حملے کرنے کی امریکی عادت کا اثر جموں و کشمیر پر بھی پڑتا ہے۔‘‘
محبوبہ نے تاہم جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل پر وزیر اعلیٰ کی ’’خاموشی‘‘ پر تنقید کی۔انہوں نے کہا، ’’میں یہاں آ رہی تھی کہ مجھے ایک پیغام ملا کہ گزشتہ رات پلوامہ کے کریم آباد میں، جہاں کئی دنوں سے تلاشی آپریشن جاری تھا، فوج نے ایک امام کو باہر نکالا، اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور اس کی داڑھی کھینچی۔ نوجوانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں جسمانی سزائیں، مثلاً اٹھک بیٹھک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔‘‘
موصوفہ نے کہا، ’’ہمارے ہزاروں لوگ جیلوں میں بند ہیں، لوگوں کو روزانہ ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے، باقاعدگی سے چھاپے مارے جاتے ہیں اور جائیدادیں مسلسل ضبط کی جا رہی ہیں۔‘‘
محبوبہ نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں ’’گھٹن کا ماحول‘‘ ہے، جہاں لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کھل کر بات نہیں کر سکتے اور آزادانہ سانس بھی نہیں لے سکتے۔انہوں نے کہا، ’’عمر ان مسائل کے بارے میں بات کر سکتے تھے، انہیں اس کے لیے واشنگٹن سے بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جس طرح پی ڈی پی کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کے دوران نئی دہلی کو قائل کیا تھا اور مفاہمت کا عمل شروع کیا تھا، جس کے نتیجے میں تمام طبقات کے ساتھ مذاکرات، پاکستان کے ساتھ بات چیت اور سرحد پار راستوں کا افتتاح ہوا۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اگر عمر صاحب کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم مظفرآباد اور راولاکوٹ کے راستے دوبارہ کھولنے کی وکالت کر سکتے ہیں، جہاں تجارت مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔‘‘
محبوبہ نے مزید کہا کہ عبداللہ کو نئی دہلی کو جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل اور ’’روزمرہ کی مشکلات‘‘ دور کرنے کے لیے قائل کرنا چاہیے۔
پی ڈی پی صدر نے الزام لگایا کہ عبداللہ نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا ’’وقار کم کر دیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا، ’’بی جے پی نے ہمارے وزیر اعلیٰ کے مرتبے کو ’ہیڈ ماسٹر‘ سے گھٹا کر محض ’ماسٹر‘ کر دیا ہے۔ لیکن عمر عبداللہ جس طرح کام کرتے ہیں، یعنی سفیر کے یہاں پہنچنے سے پہلے ہی یہ بیانات جاری کرنا کہ وہ کیا بات کریں گے اور کیا بات نہیں کریں گے، ان کے مرتبے کو مزید کم کرتا ہے۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔‘‘
امریکی سفیر کی جانب سے جموں و کشمیر کے لیے سفری ایڈوائزری پر نظرثانی کے بیان کے بارے میں محبوبہ نے امید ظاہر کی کہ اس پر نظرثانی کی جائے گی۔انہوں نے کہا، ’’انہوں نے خطے کے ساتھ مزید اقتصادی روابط قائم کرنے کی بات بھی کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کا مطلب ہمارے مقامی باغبانی اور دستکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرکے روزگار اور ٹھوس اقتصادی فوائد پیدا کرنا ہے۔ اس پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










