نئی دہلی، 17 اگست (یو این آئی) ’دماغی نکسل‘ کے مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ پی چدمبرم کونشانہ بنایا اور کہا ہے کہ محض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو تریویدی نے پیر کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر ’دماغی نکسل‘ کا اہم موضوع اٹھایا تھا، جو آج کے تناظر میں انتہائی اہم اور بروقت ہے۔
انہوں نے مسٹر چدمبرم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، "ہمیں حیرانی اس بات پر ہوئی کہ صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی، جس شخص کے ذہن میں نکسلی خیالات تھے، وہ خود سامنے آ گیا۔ مسٹر چدمبرم خود سامنے آئے اور کہا کہ انہیں ’دماغی ماؤنواز‘ ہونے پر فخر ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ وزیر اعظم نے بات کی اور اتنی تیزی سے ردِعمل آیا نیز پورے ملک کے سامنے یہ بات آ گئی کہ کس کے ذہن میں ماؤسٹ خیالات پل رہے ہیں، اور وہ خود اس پر فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔
بی جے پی ترجمان نے کہا، "میں کانگریس اور مسٹر چدمبرم کو بتانا چاہتا ہوں کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 13 اپریل 2006 کو کہا تھا کہ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ نکسلی خطرہ ہندوستان کی اندرونی سلامتی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جس نکسل واد کو کانگریس حکومتیں ختم کرنے میں ناکام رہیں، اسے مسٹر مودی کی قیادت میں فیصلہ کن طور پر قابو میں کیا گیا۔
مسٹر تریویدی نے کہا کہ یو پی اے کی حکومت کے دوران پشوپتی سے تروپتی تک ریڈ کوریڈور بن گیا تھا، 180 سے زیادہ اضلاع نکسلی انتہاپسندی سے متاثر تھے، 2010 میں دنتے واڑہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 75-76 جوان شہید ہوئے تھے، اور اس کے بعد دارالحکومت کی ایک نامور یونیورسٹی میں جشن منایا گیا تھا۔ دماغی طور پر دیوالیہ ہو چکے نکسلیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ مسٹر چدمبرم کے دورِ حکومت میں سی آر پی ایف کے جوان شہید ہوئے اور وہاں جشن منایا گیا۔ اسی کو ’دماغی نکسل‘ کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یو پی اے کے دورِ حکومت میں نکسل مخالف مہمات میں 1,913 جوان شہید ہوئے۔ 180 اضلاع نکسل متاثرہ ہو گئے تھے۔ مسٹر چدمبرم کے دور میں 5,000 سے زیادہ بے گناہ شہری مارے گئے۔ نکسلیوں کے پاس 92 فیصد سے زیادہ ہتھیار ایسے تھے جو پولیس سے لوٹے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں اس علاقے میں 1,800 سے زیادہ بینک شاخیں کھلی ہیں، 1,200 سے زیادہ اے ٹی ایم لگائے گئے ہیں اور چھ ہزار سے زیادہ موبائل فون ٹاور لگائے گئے ہیں، تاکہ وہ لوگ ملک کے مرکزی دھارے کے ساتھ ترقی کر سکیں۔
بی جے پی ترجمان نے بتایا کہ 22 لاکھ لوگوں کو آیوشمان بھارت کارڈ دیے گئے ہیں۔ جسے یہ منظر قابلِ اعتراض لگتا ہے، وہ ذہنی نکسلی ہے۔









