نئی دہلی، 17 اگست (یو این آئی) مرکزی وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں حالیہ مسائل کے مدِ نظر امتحانی نظام میں کی جا رہی اصلاحات کا جائزہ لیا۔
وزارتِ تعلیم کی جانب سے پیر کے روز بتایا گیا کہ مسٹر جوشی نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے سکریٹری، این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر سینئر حکام کے ساتھ میٹنگ کر کے امتحانی عمل کو مزید محفوظ اور شفاف بنانے کی ہدایت دی۔
وزارت نے کہا کہ میٹنگ میں این ٹی اے کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی معلومات فراہم کی گئی۔ حکام نے وزیرموصوف کو بتایا کہ این ٹی اے سے 50 سے زیادہ ملازمین کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایجنسی میں ٹیکنالوجی، فنانس، سائبر سکیورٹی، ٹیسٹ سکیورٹی، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور سائیکومیٹرکس جیسے اہم شعبوں کے لیے 10 نئے پیشہ ورانہ عہدوں پر تقرری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق سائبر سکیورٹی، سائیکومیٹرکس، سوالنامہ تیار کرنے اور دیگر ماہرانہ شعبوں میں نجی شعبے کے ڈومین ماہرین کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد امتحانی نظام کی تکنیکی صلاحیت اور سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیرِ تعلیم نے میٹنگ میں مقررہ امتحانی پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے حساس امتحانی عمل کے پورے ڈھانچے میں جامع تبدیلیوں، محفوظ و الگ تھلگ کمروں، ایئر گیپڈ سسٹمز اور امتحانی عمل میں سامان جمع کرانے سے متعلق پروٹوکولز کو جنگی بنیادوں پر نافذ کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے این ٹی اے کو تمام امتحانی مراحل کا تفصیلی آڈٹ کرانے اور اصلاحی کارروائی کی مفصل رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی۔ میٹنگ میں واضح کیا گیا کہ امتحانی عمل میں سکیورٹی، راز داری اور مقررہ پروٹوکول کی پاسداری کو سب سے پہلی ترجیح دی جانی چاہیے۔









