نئی دہلی، 17 اگست (یو این آئی) زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیرِ شیوراج سنگھ چوہان 18 اگست کو پوسا کمپلیکس میں دونوں وزارتوں کے حکام کے ساتھ زراعت اور دیہی ترقی کے لیے 2047 تک کے لائحہ عمل پر بات چیت کریں گے۔
پروگرام میں ترقی پسند کسان، لکھ پتی دیدیاں، زرعی شعبے کے برآمد کنندگان اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے سے وابستہ افراد بھی شامل ہوں گے۔ مسٹر چوہان دونوں وزارتوں کے حکام اور دیگر شرکاء کو عہد دلائیں گے۔
زراعت و کسانوں کی بہبود کی وزارت کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ ریلیز کے مطابق، پروگرام کا مقصد 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کے تحت زراعت اور دیہی ترقی کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ میٹنگ میں دونوں وزارتوں کے شعبہ جاتی روڈ میپ، لکھ پتی دیدی اسکیم کی توسیع اور کسانوں نیز دیہی عوام کے مفاد سے جڑے مسائل پر تبادلہ خیال ہوگا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 اگست کو لال قلعہ سے اپنے خطاب میں ‘شکتی کی سپت دھارا’ (توانائی کے سات دھارے) کا ذکر کیا تھا۔ اس کے تحت زراعت اور غذائی پیداوار کو مضبوط کرنے، فوڈ پروسیسنگ کو فروغ دینے اور زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔
حکومت نے عالمی حالات کے درمیان کسانوں کو رعایتی نرخوں پر کھاد دستیاب کرانے کے عزم کو بھی دہرایا ہے۔ زراعت اور سمندری مصنوعات کے لیے نئی عالمی منڈیاں تلاش کرنے نیز کھاد اور ایندھن جیسی ضروریات میں ملک کو خود کفیل بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
دیہی ترقی سے جڑی لکھ پتی دیدی اسکیم کے تحت اب تک تین کروڑ دیہی خواتین کو لکھ پتی دیدی بنائے جانے کی بات ریلیز میں کہی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے اس تعداد کو بڑھا کر چھ کروڑ کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ مسٹر چوہان میٹنگ میں اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اسکیم کی توسیع اور عمل آوری کے خاکے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
ریلیز کے مطابق، اپنی مددآپ گروپوں سے وابستہ خواتین کو ہنر کی تربیت اور مالی امداد دی جا رہی ہے۔ خواتین کی مصنوعات کو بازار دستیاب کرانے کے لیے ‘شی مارٹس’ جیسے اقدامات پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے یوگا، آیروید، دستکاری اور دیہی مصنوعات کو وسیع نیز عالمی منڈی دستیاب کرانے کا ہدف ہے۔
مسٹر چوہان نے کہا کہ مسٹر مودی کی قیادت میں اعلان کردہ ‘شکتی کی سپت دھارا’ زراعت اور دیہی ہندوستان کے لیے رہنما اصول ہے اور اسے عوامی پروگراموں، شفاف نگرانی اور مؤثر عمل آوری کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔









