ملک کے دوسرے حصوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی آج بھارت کا 80واں یومِ آزادی پورے جوش و خروش، قومی جذبے اور فخر کے ساتھ منایا گیا۔ سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں اس موقع پر جموں و کشمیر کی سب سے بڑی تقریب منعقد ہوئی، جہاں وزیر اعلیٰ نے قومی پرچم لہرایا اور مارچ پاسٹ کی سلامی لی۔ اس موقع پر اسٹیڈیم میں موجود لوگوں کی بڑی تعداد ایک رسمی اجتماع نہیں تھی بلکہ یہ اس بدلتے ہوئے جموں و کشمیر کی ایک واضح تصویر بھی پیش کر رہی تھی جو گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک طویل اور کٹھن سفر سے گزر کر آج ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
یومِ آزادی محض ایک قومی تہوار نہیں بلکہ ان بے شمار قربانیوں کو یاد کرنے کا دن بھی ہے جو اس ملک کی آزادی اور اس کے جمہوری مستقبل کے لیے دی گئیں۔ آزادی کی خوشی اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ہم اس آزادی کی قیمت کو سمجھیں، اسے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری قبول کریں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ بزرگوں اور آزادی کے متوالوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ جموں و کشمیر کے تناظر میں یہ احساس اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ یہاں امن، استحکام اور معمول کی زندگی کی واپسی کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، قربانیوں اور مسلسل کوششوں کا حاصل ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے لوک بھون میں قومی پرچم لہراتے ہوئے بجا طور پر اس بات پر زور دیا کہ ملک کے شہداء اور آزادی کے مجاہدین کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور بڑی قربانیوں سے حاصل کی گئی آزادی کی حفاظت کریں۔ یہ پیغام صرف ایک رسمی تقریب تک محدود رہنے والا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی زندگی کے ہر شعبے میں ہماری عملی ترجیح بننا چاہیے۔ آزادی صرف بیرونی حکمرانی سے نجات کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داری، قانون کی پاسداری، مساوات، انصاف، شفافیت اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے کا عزم بھی وابستہ ہے۔
یومِ آزادی کے موقع پر ان شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا بھی ضروری ہے جو رواں برس مختلف قدرتی آفات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ قدرتی آفات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی اور جدیدیت کے باوجود انسان فطرت کی قوتوں کے سامنے کتنا بے بس ہو سکتا ہے۔ ایسے میں حکومت اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کی مدد، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت اور ماحولیاتی تحفظ کو قومی ترجیحات میں شامل رکھا جائے۔
تاہم جموں و کشمیر کے لیے اس سال کے یومِ آزادی کی سب سے نمایاں بات اس خطے کے بدلتے ہوئے حالات ہیں۔ ایک وقت تھا جب وادی کشمیر میں یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے مواقع پر ہڑتالیں کرائی جاتی تھیں، بازار بند رہتے تھے، سخت پابندیاں عائد ہوتی تھیں، موبائل اور انٹرنیٹ خدمات معطل کردی جاتی تھیں اور عام شہری گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ قومی تقریبات میں شرکت تو درکنار، عام زندگی کا پہیہ بھی ان دنوں رک سا جاتا تھا۔ آج کا منظر نامہ ان حالات سے یکسر مختلف ہے۔
آج دکانیں کھلی ہیں، سڑکوں پر معمول کی رونق ہے، مواصلاتی نظام بحال ہے، موبائل اور انٹرنیٹ خدمات معمول کے مطابق دستیاب ہیں اور شہری بغیر کسی خوف کے اپنی روزمرہ زندگی گزار رہے ہیں۔ بخشی اسٹیڈیم میں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی بھی اسی اعتماد کی علامت تھی۔ کسی بھی معاشرے میں امن کی سب سے بڑی علامت یہی ہوتی ہے کہ اس کے شہری اپنے مستقبل کے بارے میں خوف سے نہیں بلکہ اعتماد سے سوچنے لگیں۔
یہ تبدیلی یقینا ًایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اسے برقرار رکھنا شاید اس تبدیلی کو حاصل کرنے سے بھی زیادہ اہم اور مشکل کام ہے۔ جموں و کشمیر میں امن کا حصول آسان سفر نہیں رہا۔ یہاں عام شہریوں، سکیورٹی فورسز اور مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ بہت سے خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، بہت سے نوجوان تشدد کے ماحول سے متاثر ہوئے اور پوری ایک نسل نے غیر یقینی اور اضطراب میں زندگی گزاری۔ اس پس منظر میں آج کے نسبتاً پُرامن ماحول کی قدر کو سمجھنا اور اسے محفوظ رکھنا ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ امن صرف خاموش سڑکوں، کھلے بازاروں اور معمول کی مواصلاتی خدمات کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہے جس میں نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع حاصل ہوں، خواتین خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کریں، کاروبار پھلے پھولے، سرمایہ کاری بڑھے، سیاحت کو فروغ ملے، کسان اور باغبان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کریں اور عام آدمی کو انصاف اور بنیادی سہولیات تک آسان رسائی ہو۔ اسی لیے امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پائیدار ترقی کے لیے امن ضروری ہے اور پائیدار امن کے لیے ترقی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے متوازن ترقی، خواتین کی معاشی خودمختاری، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، روزگار پیدا کرنے اور ماحولیاتی پائیداری پر جو زور دیا ہے، وہ موجودہ دور کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ جموں و کشمیر کے لیے اب اگلا مرحلہ صرف امن و امان برقرار رکھنے کا نہیں بلکہ اس امن کو معاشی اور سماجی خوشحالی میں تبدیل کرنے کا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اگر ہنر، تعلیم، اختراع، صنعت، کھیل اور کاروبار کی طرف منتقل ہوتی ہے تو یہی توانائی خطے کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔
اس حوالے سے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری جیسے اقدامات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ ترقی کا مطلب صرف نئی سڑکیں، عمارتیں اور پل تعمیر کرنا نہیں بلکہ اپنی تاریخی شناخت، قدرتی وسائل اور ماحول کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔ جموں و کشمیر قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی دولت سے مالا مال خطہ ہے۔ اگر ترقی کے عمل میں ماحول اور ورثے کو نظر انداز کیا گیا تو اس کا نقصان آنے والی نسلوں کو اٹھانا پڑے گا۔
جموں و کشمیر کو خود کفیل بنانے اور۲۰۴۷ تک وکِست بھارت کے ہدف میں مؤثر شریک بنانے کے لیے شفاف اور جواب دہ طرزِ حکمرانی بھی ناگزیر ہے۔ عوام کا اعتماد کسی بھی نظام حکومت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ادارے ان کے ساتھ انصاف کریں گے، فیصلے میرٹ اور قانون کے مطابق ہوں گے اور بدعنوانی یا جانبداری کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی تو ترقی کا سفر کہیں زیادہ تیز ہوسکتا ہے۔
یومِ آزادی پر جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی مسلح پولیس دستوں کے ان اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا بھی ضروری ہے جنہوں نے بہادری کے تمغے حاصل کیے ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں خطے کا نام روشن کرنے والے کھلاڑی بھی اسی قومی تعمیر کے عمل کا حصہ ہیں۔ قومیں صرف حکومتی منصوبوں سے نہیں بنتیں؛ انہیں عام شہری، اساتذہ، طلبہ، کسان، مزدور، صنعت کار، کھلاڑی، صحافی اور جوان مل کر تعمیر کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔






