سرینگر؍۱۳؍اگست
یوم آزادی کی تقریبات سے پہلے وادی بھر میں۱۵ ؍اگست کے پروگراموں کے پرامن اور خوش اسلوبی سے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے حکام کی جانب سے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کے ساتھ ہی کشمیر بھر میں سیکورٹی کے انتظامات کو کافی مضبوط کر دیا گیا ہے۔
یہاں جمعرات کو بخش اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر، ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے حصے کے طور پر وادی کے تمام اضلاع میں سیکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہا’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی کے انتظامات کی بھی فل ڈریس ریہرسل ہوئی ہے تاکہ۱۵؍ اگست کو ہم اپنا مرکزی پروگرام خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں‘‘۔ گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہوئے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سیکورٹی کے انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے۔
آئی جی پی نے کہا’’ان معاملات کی جانچ جاری تھی۔ اس کے علاوہ، متعلقہ اضلاع کی طرف سے تمام مضبوط سیکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سیکورٹی کے بہت سخت انتظامات موجود ہیں‘‘۔
بردی نے عوام سے یوم آزادی کی تقریبات میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے کی بھی اپیل کی اور۱۵؍ اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریبات ضلع، انتظامی اور یو ٹی کیپٹل کی سطح پر منعقد ہوں گی اور انہوں نے لوگوں سے ان پروگراموں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دہلی کے لال قلعہ دھماکے (جس میں۱۱؍افراد ہلاک ہوئے تھے) کو اب باضابطہ طور پر برصغیر ہند میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) سے جوڑا گیا ہے، آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو کوئی بھی تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔ آئی جی پی نے کہا’’ابھی تک ہمارے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے‘‘۔
بردی نے سوشل میڈیا پر کشمیری پنڈتوں کو ملنے والی دھمکیوں سے متعلق رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی گفتگو کو یوم آزادی اور اس سے متعلق سیکورٹی انتظامات تک ہی محدود رکھیں گے۔
حکام نے کشمیر میں سرکاری شعبوں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈتوں کو زبانی طور پر ہدایت دی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر چھ کشمیری پنڈتوں کے نام والے دھمکی آمیز خط کے وائرل ہونے کے بعد۲۰؍ اگست تک اپنے دفاتر نہ جائیں۔
وادی میں تقریباً۶ہزارمہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ان کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے جہاں کشمیری پنڈت اور اقلیتی ملازمین مقیم ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )










