بدھ, ستمبر 30, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

۲۲ برس میں لوک سبھا کا سب سے کم پیداواری مانسون اجلاس

 مقررہ وقت کا صرف۱۵فیصد کام کیا‘ راجیہ سبھا کی شرح ۳۳ فیصد رہی: پی آر ایس

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-14
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, قومی خبریں
A A
لوک سبھا میں اپوزیشن کاحکومت سے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کامطالبہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

نئی دہلی؍۱۳؍اگست

                 جمعرات کو اختتام پذیر ہونے والے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا نے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنی کم ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

                 پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق۲۰۰۴ کے بعد صرف دو پارلیمانی اجلاس ایسے رہے ہیں جن میں لوک سبھا کی کارکردگی موجودہ اجلاس سے بھی کم رہی۔

متعلقہ

ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرار داد منظور

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، بی جے پی ارکان نے کاغذات پھاڑ دیے

                گزشتہ۲۲ برس کے اعداد و شمار سے پارلیمانی کارروائی میں نمایاں اتار چڑھاؤ ظاہر ہوتا ہے۔ بعض اجلاسوں میں ایوانوں نے مقررہ اوقات سے کہیں زیادہ کام کیا، جبکہ دیگر اجلاسوں میں سیاسی کشیدگی کے باعث دستیاب زیادہ تر وقت کارروائی میں رکاوٹوں کی نذر ہوگیا۔

                لوک سبھا کے حوالے سے موجودہ اجلاس بدترین کارکردگی والے اجلاسوں میں شامل ہے۔ پی آر ایس کے مطابق لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف۱۴ فیصد کام کیا، جو۲۰۱۶ کے سرمائی اجلاس کے برابر ہے۔ اس سے کم کارکردگی صرف۲۰۱۰؍اور۲۰۱۳ کے سرمائی اجلاسوں میں ریکارڈ کی گئی، جب لوک سبھا نے بالترتیب اپنے مقررہ وقت کا پانچ اور آٹھ فیصد ہی کام کیا تھا۔

                پی آر ایس کی جانب سے پی ٹی آئی کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق راجیہ سبھا کی کارکردگی لوک سبھا کے مقابلے میں بہتر رہی، تاہم اس نے بھی اپنے مقررہ وقت کا صرف۳۳ فیصد کام کیا۔

                پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اداروں کی کارروائی کا جائزہ لینے اور تحقیق کرنے والے آزاد اور غیر منافع بخش ادارے پی آر ایس کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے تاہم کہا کہ مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا کی کارکردگی۱۹ فیصد اور راجیہ سبھا کی۳۹ فیصد رہی۔

                اعداد و شمار میں معمولی فرق کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے پی آر ایس نے واضح کیا کہ وہ ایوان کی پیداواری صلاحیت کا حساب کسی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے حقیقی کام کرنے کے اوقات کو اس اجلاس کے لیے مقررہ مجموعی اوقاتِ کار سے تقسیم کرکے کرتا ہے۔ اگر ایوان مقررہ اوقات سے زیادہ بیٹھے تو یہ شرح۱۰۰ فیصد سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔

                پی آر ایس نے کہا کہ تاریخی موازنے میں اسی کے اعداد و شمار کو استعمال کیا گیا ہے تاکہ تمام اجلاسوں کی کارکردگی کو ایک ہی پیمانے پر پرکھا جاسکے۔

                ۲۰۰۴ کے بعد پارلیمانی کارروائی کا سب سے زیادہ تعطل۲۰۱۰   کے سرمائی اجلاس میں دیکھنے میں آیا، جب یو پی اے-۲؍اقتدار میں تھی۔ اس وقت لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف پانچ فیصد کام کیا، جبکہ راجیہ سبھا کی کارکردگی محض دو فیصد رہی۔ یہ اجلاس ٹو جی  اسپیکٹرم کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) تشکیل دینے کے اپوزیشن کے مطالبے کے باعث تقریباً مفلوج رہا۔

                ۲۰۱۳ کے سرمائی اجلاس میں بھی انتہائی کم کارکردگی ریکارڈ کی گئی۔ لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف آٹھ فیصد اور راجیہ سبھا نے۱۹ فیصد کام کیا۔ یو پی اے حکومت کے آخری مہینوں میں آندھرا پردیش کی تقسیم اور تلنگانہ کے قیام کی تجویز کے علاوہ کوئلہ بلاکس کی الاٹمنٹ کے معاملے پر احتجاج اور مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی متاثر ہوئی۔

                ۲۰۱۴ کا بجٹ اجلاس، جو عام انتخابات سے قبل آخری پارلیمانی اجلاس تھا اور جس کے بعد این ڈی اے اقتدار میں آیا، بھی کم کارکردگی والے اجلاسوں میں شامل رہا۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے معاملے پر پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کے درمیان لوک سبھا نے مقررہ وقت کا تقریباً۲۱ فیصد اور راجیہ سبھا نے۲۷ فیصد کام کیا۔

                کانگریس کی قیادت میں قائم متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) نے مئی۲۰۰۴ سے مئی۲۰۱۴ تک حکومت کی، جس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے۲۶ مئی۲۰۱۴کو اقتدار سنبھالا۔

                پی آر ایس کے مطابق۲۰۱۶کے سرمائی اجلاس میں بھی لوک سبھا کی کارکردگی۱۵ فیصد تک گر گئی، جو موجودہ اجلاس کے برابر ہے۔ اس وقت نوٹ بندی کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تنازع کا باعث بنا تھا۔ راجیہ سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف۱۸ فیصد کام کیا تھا۔

                دوسری جانب ایسے کئی اجلاس بھی ہوئے ہیں جن میں دونوں ایوانوں نے مقررہ اوقات سے زیادہ کام کیا۔ یو پی اے کے دور حکومت میں لوک سبھا کی پیداواری صلاحیت ۲۰۰۴ کے سرمائی اجلاس‘۲۰۰۵کے مانسون اجلاس اور۲۰۰۹ کے بجٹ اجلاس میں۱۰۰ فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس عرصے کے دوران راجیہ سبھا نے بھی تین اجلاسوں میں۱۰۰ فیصد سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

                ۲۰۱۴ کے بعد لوک سبھا کی سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت فروری۲۰۲۴ کے بجٹ اجلاس میں۱۴۸  فیصد رہی۔ اس کے بعد۲۰۲۰ کے مانسون اجلاس میں۱۴۵  فیصد اور۲۰۲۳ کے خصوصی اجلاس میں۱۳۷ فیصد کارکردگی ریکارڈ کی گئی۔

                گزشتہ۲۲ برس کے دوران راجیہ سبھا کی سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت بھی فروری۲۰۲۴کے بجٹ اجلاس میں ریکارڈ کی گئی، جب ایوان نے مقررہ وقت کے مقابلے میں۱۳۷فیصد کام کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

ایجنسیاں

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’گزشتہ سال نومبر میں لال قلعہ حملہ القائدہ بر صغیر نے کیا تھا‘

Next Post

یوم آزادی کی تقریبات سے قبل کشمیر میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’۲۰۲۶میں ہی ڈیلی ویجرز کی مستقلی کا عمل شروع ہوگا‘
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرار داد منظور

2026-09-29
معراج ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری پر اسمبلی میں ہنگامہ
اہم ترین

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، بی جے پی ارکان نے کاغذات پھاڑ دیے

2026-09-29
ترقیاتی فنڈز میں جموں مخالف تعصب؟ حکومت کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں
اہم ترین

ترقیاتی فنڈز میں جموں مخالف تعصب؟ حکومت کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں

2026-09-29
جموںکشمیر کانگریس کا گیانیش کمارکے استعفے کا مطالبہ
اہم ترین

جموںکشمیر کانگریس کا گیانیش کمارکے استعفے کا مطالبہ

2026-09-29
ڈوڈہ کے ملہوری علاقے میں سڑک حادثہ، دو افراد جاں بحق
اہم ترین

کرناہ میں سومو گہری کھائی میں جا گری، پانچ ہلاک، پانچ زخمی

2026-09-29
جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ اسمبلی تک پہنچاایجنسیز
اہم ترین

احتجاج کرنے والے چار ارکان کو ایوان سے باہر نکالا گیا

2026-09-29
’لداخ  یو وزیر اعظم مودی کی ترجیح‘
اہم ترین

دہشت گردی کے خلاف  کارروائی کیلئےخودکار ردعمل  کانظام ادارہ جاتی  شکل دینا ضروری: امت شاہ

2026-09-29
جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
اہم ترین

سپریم کورٹ کی میڈیا کو جنسی  جرائم کی رپورٹنگ میں ذمہ دارانہ  اور ہمدردانہ صحافت کی ہدایت

2026-09-29
Next Post
یوم جمہوریہ: سیکورٹی گرڈ چوکس اور متحرک ہے:آئی جی پی کشمیر

یوم آزادی کی تقریبات سے قبل کشمیر میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.