ہفتہ, اگست 15, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

۲۲ برس میں لوک سبھا کا سب سے کم پیداواری مانسون اجلاس

 مقررہ وقت کا صرف۱۵فیصد کام کیا‘ راجیہ سبھا کی شرح ۳۳ فیصد رہی: پی آر ایس

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-14
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, قومی خبریں
A A
لوک سبھا میں اپوزیشن کاحکومت سے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کامطالبہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

نئی دہلی؍۱۳؍اگست

                 جمعرات کو اختتام پذیر ہونے والے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا نے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنی کم ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

                 پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق۲۰۰۴ کے بعد صرف دو پارلیمانی اجلاس ایسے رہے ہیں جن میں لوک سبھا کی کارکردگی موجودہ اجلاس سے بھی کم رہی۔

متعلقہ

۸۰ویںیوم آزادی پر ایل جی سنہا کی عوام کو مبارک باد‘کہا گزشتہ چند برسوں کے دوران یہاں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے

بھارت کی سخاوت اور تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے: ڈوول

                گزشتہ۲۲ برس کے اعداد و شمار سے پارلیمانی کارروائی میں نمایاں اتار چڑھاؤ ظاہر ہوتا ہے۔ بعض اجلاسوں میں ایوانوں نے مقررہ اوقات سے کہیں زیادہ کام کیا، جبکہ دیگر اجلاسوں میں سیاسی کشیدگی کے باعث دستیاب زیادہ تر وقت کارروائی میں رکاوٹوں کی نذر ہوگیا۔

                لوک سبھا کے حوالے سے موجودہ اجلاس بدترین کارکردگی والے اجلاسوں میں شامل ہے۔ پی آر ایس کے مطابق لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف۱۴ فیصد کام کیا، جو۲۰۱۶ کے سرمائی اجلاس کے برابر ہے۔ اس سے کم کارکردگی صرف۲۰۱۰؍اور۲۰۱۳ کے سرمائی اجلاسوں میں ریکارڈ کی گئی، جب لوک سبھا نے بالترتیب اپنے مقررہ وقت کا پانچ اور آٹھ فیصد ہی کام کیا تھا۔

                پی آر ایس کی جانب سے پی ٹی آئی کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق راجیہ سبھا کی کارکردگی لوک سبھا کے مقابلے میں بہتر رہی، تاہم اس نے بھی اپنے مقررہ وقت کا صرف۳۳ فیصد کام کیا۔

                پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اداروں کی کارروائی کا جائزہ لینے اور تحقیق کرنے والے آزاد اور غیر منافع بخش ادارے پی آر ایس کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے تاہم کہا کہ مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا کی کارکردگی۱۹ فیصد اور راجیہ سبھا کی۳۹ فیصد رہی۔

                اعداد و شمار میں معمولی فرق کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے پی آر ایس نے واضح کیا کہ وہ ایوان کی پیداواری صلاحیت کا حساب کسی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے حقیقی کام کرنے کے اوقات کو اس اجلاس کے لیے مقررہ مجموعی اوقاتِ کار سے تقسیم کرکے کرتا ہے۔ اگر ایوان مقررہ اوقات سے زیادہ بیٹھے تو یہ شرح۱۰۰ فیصد سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔

                پی آر ایس نے کہا کہ تاریخی موازنے میں اسی کے اعداد و شمار کو استعمال کیا گیا ہے تاکہ تمام اجلاسوں کی کارکردگی کو ایک ہی پیمانے پر پرکھا جاسکے۔

                ۲۰۰۴ کے بعد پارلیمانی کارروائی کا سب سے زیادہ تعطل۲۰۱۰   کے سرمائی اجلاس میں دیکھنے میں آیا، جب یو پی اے-۲؍اقتدار میں تھی۔ اس وقت لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف پانچ فیصد کام کیا، جبکہ راجیہ سبھا کی کارکردگی محض دو فیصد رہی۔ یہ اجلاس ٹو جی  اسپیکٹرم کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) تشکیل دینے کے اپوزیشن کے مطالبے کے باعث تقریباً مفلوج رہا۔

                ۲۰۱۳ کے سرمائی اجلاس میں بھی انتہائی کم کارکردگی ریکارڈ کی گئی۔ لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف آٹھ فیصد اور راجیہ سبھا نے۱۹ فیصد کام کیا۔ یو پی اے حکومت کے آخری مہینوں میں آندھرا پردیش کی تقسیم اور تلنگانہ کے قیام کی تجویز کے علاوہ کوئلہ بلاکس کی الاٹمنٹ کے معاملے پر احتجاج اور مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی متاثر ہوئی۔

                ۲۰۱۴ کا بجٹ اجلاس، جو عام انتخابات سے قبل آخری پارلیمانی اجلاس تھا اور جس کے بعد این ڈی اے اقتدار میں آیا، بھی کم کارکردگی والے اجلاسوں میں شامل رہا۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے معاملے پر پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کے درمیان لوک سبھا نے مقررہ وقت کا تقریباً۲۱ فیصد اور راجیہ سبھا نے۲۷ فیصد کام کیا۔

                کانگریس کی قیادت میں قائم متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) نے مئی۲۰۰۴ سے مئی۲۰۱۴ تک حکومت کی، جس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے۲۶ مئی۲۰۱۴کو اقتدار سنبھالا۔

                پی آر ایس کے مطابق۲۰۱۶کے سرمائی اجلاس میں بھی لوک سبھا کی کارکردگی۱۵ فیصد تک گر گئی، جو موجودہ اجلاس کے برابر ہے۔ اس وقت نوٹ بندی کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تنازع کا باعث بنا تھا۔ راجیہ سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف۱۸ فیصد کام کیا تھا۔

                دوسری جانب ایسے کئی اجلاس بھی ہوئے ہیں جن میں دونوں ایوانوں نے مقررہ اوقات سے زیادہ کام کیا۔ یو پی اے کے دور حکومت میں لوک سبھا کی پیداواری صلاحیت ۲۰۰۴ کے سرمائی اجلاس‘۲۰۰۵کے مانسون اجلاس اور۲۰۰۹ کے بجٹ اجلاس میں۱۰۰ فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس عرصے کے دوران راجیہ سبھا نے بھی تین اجلاسوں میں۱۰۰ فیصد سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

                ۲۰۱۴ کے بعد لوک سبھا کی سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت فروری۲۰۲۴ کے بجٹ اجلاس میں۱۴۸  فیصد رہی۔ اس کے بعد۲۰۲۰ کے مانسون اجلاس میں۱۴۵  فیصد اور۲۰۲۳ کے خصوصی اجلاس میں۱۳۷ فیصد کارکردگی ریکارڈ کی گئی۔

                گزشتہ۲۲ برس کے دوران راجیہ سبھا کی سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت بھی فروری۲۰۲۴کے بجٹ اجلاس میں ریکارڈ کی گئی، جب ایوان نے مقررہ وقت کے مقابلے میں۱۳۷فیصد کام کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

ایجنسیاں

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’گزشتہ سال نومبر میں لال قلعہ حملہ القائدہ بر صغیر نے کیا تھا‘

Next Post

یوم آزادی کی تقریبات سے قبل کشمیر میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۸۰ویںیوم آزادی پر ایل جی سنہا کی عوام کو مبارک باد‘کہا گزشتہ چند برسوں کے دوران یہاں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے
اہم ترین

۸۰ویںیوم آزادی پر ایل جی سنہا کی عوام کو مبارک باد‘کہا گزشتہ چند برسوں کے دوران یہاں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے

2026-08-15
سائبر اسپیس کی حفاظت بہت اہم: ڈوبھال
اہم ترین

بھارت کی سخاوت اور تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے: ڈوول

2026-08-15
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

وزیراعلیٰ کی پاکستان پر تنقید، جموں و کشمیر کے دریاؤں کے پانی پر دعویٰ ناقابل قبول

2026-08-15
ہندوستان اور چین کے درمیان بات چیت مثبت سمت میں، لوگوں کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے: وزارتِ خارجہ
اہم ترین

’ٹریک۲ شرکاء پاکستان سے ذاتی حیثیت میں مذاکرات کررہے ہیں‘

2026-08-15
ہندپاک کا جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ
اہم ترین

بھارتی اور پاکستانی ایک دوسرے کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں: پیو ریسرچ

2026-08-15
’ آئین میں درج نظریات نے ملک کی رہنمائی کی‘
اہم ترین

آزادی کا حقیقی مفہوم  ہر شہری کو مواقع  فراہم کرنا ہے: صدر مرمو

2026-08-15
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

یوم آزادی پر جموں و کشمیر  پولیس کے۵۱؍ اہلکاروں  کو دیے جائیں گے تمغے

2026-08-15
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

بانڈی پورہ اور پانپورٹ میں آٹو اور ٹرک کی ٹکر سے ۲؍افراد ہلاک

2026-08-15
Next Post
یوم جمہوریہ: سیکورٹی گرڈ چوکس اور متحرک ہے:آئی جی پی کشمیر

یوم آزادی کی تقریبات سے قبل کشمیر میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.