نئی دہلی؍۱۳؍اگست
جمعرات کو اختتام پذیر ہونے والے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا نے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنی کم ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق۲۰۰۴ کے بعد صرف دو پارلیمانی اجلاس ایسے رہے ہیں جن میں لوک سبھا کی کارکردگی موجودہ اجلاس سے بھی کم رہی۔
گزشتہ۲۲ برس کے اعداد و شمار سے پارلیمانی کارروائی میں نمایاں اتار چڑھاؤ ظاہر ہوتا ہے۔ بعض اجلاسوں میں ایوانوں نے مقررہ اوقات سے کہیں زیادہ کام کیا، جبکہ دیگر اجلاسوں میں سیاسی کشیدگی کے باعث دستیاب زیادہ تر وقت کارروائی میں رکاوٹوں کی نذر ہوگیا۔
لوک سبھا کے حوالے سے موجودہ اجلاس بدترین کارکردگی والے اجلاسوں میں شامل ہے۔ پی آر ایس کے مطابق لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف۱۴ فیصد کام کیا، جو۲۰۱۶ کے سرمائی اجلاس کے برابر ہے۔ اس سے کم کارکردگی صرف۲۰۱۰؍اور۲۰۱۳ کے سرمائی اجلاسوں میں ریکارڈ کی گئی، جب لوک سبھا نے بالترتیب اپنے مقررہ وقت کا پانچ اور آٹھ فیصد ہی کام کیا تھا۔
پی آر ایس کی جانب سے پی ٹی آئی کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق راجیہ سبھا کی کارکردگی لوک سبھا کے مقابلے میں بہتر رہی، تاہم اس نے بھی اپنے مقررہ وقت کا صرف۳۳ فیصد کام کیا۔
پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اداروں کی کارروائی کا جائزہ لینے اور تحقیق کرنے والے آزاد اور غیر منافع بخش ادارے پی آر ایس کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے تاہم کہا کہ مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا کی کارکردگی۱۹ فیصد اور راجیہ سبھا کی۳۹ فیصد رہی۔
اعداد و شمار میں معمولی فرق کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے پی آر ایس نے واضح کیا کہ وہ ایوان کی پیداواری صلاحیت کا حساب کسی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے حقیقی کام کرنے کے اوقات کو اس اجلاس کے لیے مقررہ مجموعی اوقاتِ کار سے تقسیم کرکے کرتا ہے۔ اگر ایوان مقررہ اوقات سے زیادہ بیٹھے تو یہ شرح۱۰۰ فیصد سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔
پی آر ایس نے کہا کہ تاریخی موازنے میں اسی کے اعداد و شمار کو استعمال کیا گیا ہے تاکہ تمام اجلاسوں کی کارکردگی کو ایک ہی پیمانے پر پرکھا جاسکے۔
۲۰۰۴ کے بعد پارلیمانی کارروائی کا سب سے زیادہ تعطل۲۰۱۰ کے سرمائی اجلاس میں دیکھنے میں آیا، جب یو پی اے-۲؍اقتدار میں تھی۔ اس وقت لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف پانچ فیصد کام کیا، جبکہ راجیہ سبھا کی کارکردگی محض دو فیصد رہی۔ یہ اجلاس ٹو جی اسپیکٹرم کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) تشکیل دینے کے اپوزیشن کے مطالبے کے باعث تقریباً مفلوج رہا۔
۲۰۱۳ کے سرمائی اجلاس میں بھی انتہائی کم کارکردگی ریکارڈ کی گئی۔ لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف آٹھ فیصد اور راجیہ سبھا نے۱۹ فیصد کام کیا۔ یو پی اے حکومت کے آخری مہینوں میں آندھرا پردیش کی تقسیم اور تلنگانہ کے قیام کی تجویز کے علاوہ کوئلہ بلاکس کی الاٹمنٹ کے معاملے پر احتجاج اور مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی متاثر ہوئی۔
۲۰۱۴ کا بجٹ اجلاس، جو عام انتخابات سے قبل آخری پارلیمانی اجلاس تھا اور جس کے بعد این ڈی اے اقتدار میں آیا، بھی کم کارکردگی والے اجلاسوں میں شامل رہا۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے معاملے پر پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کے درمیان لوک سبھا نے مقررہ وقت کا تقریباً۲۱ فیصد اور راجیہ سبھا نے۲۷ فیصد کام کیا۔
کانگریس کی قیادت میں قائم متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) نے مئی۲۰۰۴ سے مئی۲۰۱۴ تک حکومت کی، جس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے۲۶ مئی۲۰۱۴کو اقتدار سنبھالا۔
پی آر ایس کے مطابق۲۰۱۶کے سرمائی اجلاس میں بھی لوک سبھا کی کارکردگی۱۵ فیصد تک گر گئی، جو موجودہ اجلاس کے برابر ہے۔ اس وقت نوٹ بندی کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تنازع کا باعث بنا تھا۔ راجیہ سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا صرف۱۸ فیصد کام کیا تھا۔
دوسری جانب ایسے کئی اجلاس بھی ہوئے ہیں جن میں دونوں ایوانوں نے مقررہ اوقات سے زیادہ کام کیا۔ یو پی اے کے دور حکومت میں لوک سبھا کی پیداواری صلاحیت ۲۰۰۴ کے سرمائی اجلاس‘۲۰۰۵کے مانسون اجلاس اور۲۰۰۹ کے بجٹ اجلاس میں۱۰۰ فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس عرصے کے دوران راجیہ سبھا نے بھی تین اجلاسوں میں۱۰۰ فیصد سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
۲۰۱۴ کے بعد لوک سبھا کی سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت فروری۲۰۲۴ کے بجٹ اجلاس میں۱۴۸ فیصد رہی۔ اس کے بعد۲۰۲۰ کے مانسون اجلاس میں۱۴۵ فیصد اور۲۰۲۳ کے خصوصی اجلاس میں۱۳۷ فیصد کارکردگی ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ۲۲ برس کے دوران راجیہ سبھا کی سب سے زیادہ پیداواری صلاحیت بھی فروری۲۰۲۴کے بجٹ اجلاس میں ریکارڈ کی گئی، جب ایوان نے مقررہ وقت کے مقابلے میں۱۳۷فیصد کام کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










