سرینگر؍۱۳؍اگست
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل(یو این ایس سی) کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں نئی دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے دہشت گرد حملے کو باضابطہ طور پر برصغیر میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) سے منسوب کیا گیا ہے۔
نئی دہلی میں لال قلعہ کے علاقے میں ایک شدید دھماکے سے تقریباً۱۵؍افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکا لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ٹریفک سگنل پر آہستہ چلنے والی ایک گاڑی میں ہوا تھا۔
پیر کو جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’اے کیو آئی ایس ایک منتشر گروپ سے بتدریج ایک علاقائی دہشت گرد تنظیم میں تبدیل ہوتا رہا۔‘‘
رپورٹ کے مطابق، ’’اے کیو آئی ایس نے بڑے یونٹوں کے بجائے غیر مرکزی، چھوٹے اور منتشر سیلوں کی شکل میں کام کرتے ہوئے رسد اور مالیاتی نیٹ ورک قائم کیے۔ نومبر۲۰۲۵ میں دہلی کے لال قلعہ پر ہونے والے حملے کو باضابطہ طور پر اے کیو آئی ایس سے منسوب کیا گیا۔‘‘
یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی داعش اور القاعدہ سے متعلق۱۲۶۷ پابندیوں کی کمیٹی کو پیش کی گئی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی۳۸ ویں رپورٹ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’’اے کیو آئی ایس کی جانب سے بنگلہ دیش کو وہاں اپنے سیل قائم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش‘‘ پر کچھ تشویش پائی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور داعش نے کئی برسوں سے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے میں مسلسل دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم اب تک وہ اس سلسلے میں درکار تکنیکی مشکلات پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ ایسے ہتھیار تیار کرنے سے متعلق ہدایات آن لائن دہشت گرد برادریوں میں بڑے پیمانے پر شیئر کی جاتی رہی ہیں۔
رپورٹ میں مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ فروری میں داعش کے انگریزی زبان کے رسالے ’اِنویڈ‘ میں بوٹولینم ٹاکسن اور سائانائیڈ تیار کرنے سے متعلق ہدایات شامل تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ داعش خراسان نے ’’خصوصی دلچسپی‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے اور گزشتہ۱۲ ماہ کے دوران زہریلے مادے ریسِن کی تیاری سے متعلق ہدایات بھی گردش میں لائی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق۲۰۲۵ کے اختتام پر بھارتی حکام نے تین افراد کو گرفتار کیا، جن میں ایک ڈاکٹر بھی شامل تھا، جنہیں بیرونِ ملک موجود داعش کے ایک سیل نے ریسِن تیار کرنے کا کام سونپا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنوبی ایشیا میں علاقائی کشیدگی ’’بلند‘‘ سطح پر برقرار رہی، کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملے جاری رہے۔
طالبان نے بدستور عوامی سطح پر کسی بھی دہشت گرد گروپ کو پناہ دینے کی تردید کی۔ رکن ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تنازع دہشت گرد گروپوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کو مزید سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’افغانستان سے لاحق دہشت گردی کا خطرہ بڑی حد تک بدستور برقرار ہے۔ متعدد دہشت گرد گروپوں کی افغانستان میں سرگرم رہنے کی صلاحیت پڑوسی ممالک اور وسطی ایشیائی خطے کے لیے مستقل خطرہ ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق، داعش خراسان کے خلاف کارروائی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو محدود کرنے کے لیے عبوری حکام کی کوششوں کے باوجود وہ دہشت گردی کے مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ گزشتہ سال۲۵ دسمبر کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اپنی سالانہ رہبری شوریٰ کے اجلاس کے بعد تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کا اعلان کیا۔ اس نئے ڈھانچے میں دو نئی ڈویژنیں شامل کی گئیں، جن میں ایک بلوچستان اور وسطی خطے کے لیے، جبکہ دوسری کشمیر اور گلگت کے لیے تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس تنظیم نو میں ایک نئی ڈویژن بھی شامل کی گئی جسے ’’ٹی ٹی پی ایئر فورس‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ویب ڈیسک










